Daily Mashriq


حزب اختلاف کا مثبت فیصلہ

حزب اختلاف کا مثبت فیصلہ

پاکستان پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ(ن) اور حزب اختلاف کی دیگر ہم خیال جماعتوں کی جانب سے ایوان کا بائیکاٹ ‘ دھرنا اور احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے ایوان میں آکر پاکستان تحریک انصاف اور ان کے حامیوں کا مقابلہ کرنے کا اعلان خوش آئند اور جمہوری طرز عمل ہے جس کا تحریک انصاف کی جانب سے بھی خیر مقدم کیاگیا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن)، پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی)سمیت اپوزیشن کی ہم خیال جماعتوں کی جانب سے وزارت عظمیٰ، قومی اسمبلی کے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے متفقہ امیدوار لانے کا اعلان ان کی سیاست اور جمہوریت پر یقین و اعتماد کا مظہر ہے۔کل جماعتی کانفرنس نے حکومت سازی کے لیے اپنا لائحہ عمل تیار کرتے ہوئے وزیر اعظم کے لیے امیدوار مسلم لیگ(ن)، اسپیکر کے لیے پاکستان پیپلزپارٹی جبکہ ڈپٹی اسپیکر کے لیے امیدوار متحدہ مجلس عمل سے لانے کا فیصلہ کیا جو جمہوری طریقے سے اکثریتی جماعت کے امیدواروں کا مقابلہ کریں گے یا پھر وہ خود عددی اکثریت ثابت کرکے جمہوری طور پر منتخب ہونے کی سعی کریں گے۔ جہاں تک حزب اختلاف کے تحفظات کی بات ہے اس کے لئے ان کی جانب سے ایوان کے اندر اور باہر دھاندلی کے خلاف بھرپور احتجاج اور دھاندلی کی تحقیقات کا لائحہ عمل تشکیل دینے کے لیے 16 رکنی کمیٹی بنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔اجلاس کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے رہنما پیپلز پارٹی شیری رحمن نے کہا کہ مخالفین نے جو مینڈیٹ لیا ہے وہ دھاندلی زدہ ہے، یہ اتحاد اس جعلی الیکشن کو مسترد کرتا ہے، تاہم ہم نے ایوان میں جانے کا فیصلہ کیا ہے، جہاں ہم کٹھ پتلی حکومت کا مقابلہ کریں گے اور ایوان کے اندر اور باہر بھرپور احتجاج کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کافی نکات پر اتفاق ہوچکا ہے، ایک ورکنگ کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو ٹرمز آف ریفرنس(ٹی او آرز)تشکیل دے گی کہ نئے انتخابات کیسے ہوں گے، جبکہ ہم آئندہ چند روز میں ایک وائٹ پیپر بھی جاری کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم(آر ٹی ایس)نظام پر نادرا نے اعتراف کیا ہے کہ اتفاق سے یہ معطل نہیں ہوا بلکہ اسے بند کیا گیا، جبکہ جس سطح کی مداخلت کی گئی اس سے ایک جماعت کو الیکشن کا استحقاق دیا گیا۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ہم اپوزیشن کی حیثیت سے مقابلے میں نہیں جارہے، ہم جیت کر دکھائیں گے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ہم حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہیں، تحریک انصاف نے پیسوں اور دبائو کے ذریعے لوگوں کو اکٹھا کیا ہے، دبائو کا شکار ہونے والے اس طرف بھی آسکتے ہیں اس لیے ہم جیتنے کی کوشش کریں گے۔پاکستان تحریک انصاف نے اے پی سی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کو سیاست کرنے کا پورا حق ہے، مگر ہم اپوزیشن کو واضح طور پرکہہ چکے ہیں کہ ان کے جو بھی اعتراضات ہیں وہ سامنے لے کر آئیں ہم انہیں ضرور دیکھیں گے۔تحریک انصاف کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ ہم سیاسی جماعتوں کے پارلیمان میں آنے کے فیصلے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔جاری صورتحال سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پاکستان تحریک انصاف باآسانی مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، لیکن پارلیمان میں اسے ایک سخت حزب اختلاف کا سامنا کرنا پڑے گا۔پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک نکتہ ان جماعتوں کو متحد رکھے گا جوپاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک مشکل صورتحال کا باعث بنے گی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف نے پہلے ہی آزاد اراکین کو ساتھ ملانے کی سعی میں کچھ ایسی یقین دہانیاں اور معاہدے کئے ہیں اور کچھ ایسے وعدے کئے گئے ہیں علاوہ ازیں بھی پس پردہ ڈیل ہونے کی اطلاعات ہیں جو اس لئے بھی اچنبھے کی بات نہیں کہ چھانگا مانگا کی سیاست بہر حال کبھی کبھار اپنا اعادہ کرتی ہے۔ تحریک انصاف جیسی دعوے رکھنے والی جماعت کا بھی حصول اقتدار میں ان تمام مروج طریقوں کو آزمانا جو دیگر بڑی پارٹیوں کا طریقہ کار رہا ہے احسن بات نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے جمہوری عمل میں حصہ لینے کے بعد اب یہ تحریک انصاف کی قیادت کے تدبر کا امتحان ہوگا کہ وہ مخالف سیاسی جماعتوں میں نقب لگانے کی غلطی کا ارتکاب نہ کرے۔ اس قسم کی غلطی سے جہاں تحریک انصاف کے دعوئوں کا پول مزید کھل جائے گا بلکہ اس سے تحریک انصاف کی حکومت کوبھی خواہ مخواہ محاذ آرائی کا سامنا ہوگا اصولی طور پر جن جن آزاد ارکان یا جن جن جماعتوں کی جانب سے خواہ جن شرائط پر بھی تحریک انصاف کی حمایت کااعلان کیاگیا ہے اسی پر اکتفا کیاجائے۔ اس کے علاوہ کسی بھی عمل کا سیاسی جماعتوں کی طرف سے سخت رد عمل آنا فطری امر ہوگا۔ تحریک انصاف کی حزب اختلاف کی صفوں میں موجود ایوان کو نہ چلنے دینے کے حامیوں کو یہ موقع دینے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے کہ وہ حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کو بھی ایسا کرنے پر اکسائیں یا پھر وہ کسی تقسیم کی کوشش کے خلاف متحد ہونے پر مجبور ہوں۔ جمہوری طریقے سے حکومت بنانا اور جمہوری طریقے سے حکومت چلانا اور جمہوری طریقے سے اپنی اکثریت ثابت کرنا اوراسے برقرار رکھنا ہی جمہوریت ہے گو کہ اس وقت اس امر کی توقع نہیں لیکن اگر حکمران جماعت چاہے تو اپنے اچھے کردار و عمل اور حزب اختلاف کو پوری اہمیت دے کر ایک مثبت روایت کی داغ بیل ڈالی جاسکتی ہے اور ہمارے تئیں ایسا کرنا ملک و قوم اور سیاست و جمہوریت کے ساتھ خود حکمران جماعت کے لئے بھی مستحسن ہوگا۔

متعلقہ خبریں