Daily Mashriq

ڈینگی کا خطرہ‘ شہری احتیاط کریں

ڈینگی کا خطرہ‘ شہری احتیاط کریں

رواں برس ڈینگی مچھروں کی وجہ سے پنجاب کے بہت سے حصوں میں وبائی صورتحال کے باعث اب تک ساڑھے15ہزار سے زائد شہریوں کا ڈینگی بخار کے شک میں ہسپتالوں میں داخلہ تشویشناک صورتحال ہے۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق پنجاب اور خیبر پختونخوا کے درمیان سفر کرنیوالے افراد سے یہ وائرس بڑے پیمانے پر منتقل ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے جبکہ مون سون کے دوران بارش سے درجہ حرارت میں کمی کے باعث صوبے کے متعدد اضلاع سے ڈینگی کے دریافت کئے گئے لاروے کے باعث مذکورہ علاقوں میں مچھروں کے پھیلنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے کیونکہ ڈینگی کا مچھر19سے36درجہ حرارت میں افزائش پاتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں چونکہ اگست سے دسمبر تک مذکورہ تناسب سے درجہ حرارت ریکارڈ کیا جاتا ہے اس لئے اس عرصے میں ڈینگی سے خطرات لاحق ہیں۔خوش قسمتی سے صوبے کے کسی بھی علاقے سے اب تک ڈینگی کے کسی مریض کی اطلاع نہیں لیکن پنجاب کی صورتحال کے تناظر میں اور موسمی صورتحال کے باعث اس کے خطرات موجود ہیں۔ محکمہ صحت کی جانب سے اس ضمن میں اقدامات کا عندیہ بروقت ہے جبکہ متعلقہ حکام کی جانب سے شہریوں کو مناسب احتیاط اور اقدامات کا بھی پابند بنانے کی سعی ضرور کی گئی ہے لیکن ہمارے تئیں یہ کافی نہیں۔جب تک شہر میں جا بجا کھڑے پانی کے تالاب نما گڑ ھوں کو نہ بھر دیا جائے۔ برسات کا موسم ڈینگی مچھروں کی افزائش کے لئے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق ڈینگی دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والی بیماریوں میں سے ایک ہے جو اس وقت بھی 100سے زائد ملکوں میں وبا کی صورت میں موجود ہے۔عالمی ادارے کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ڈینگی کے 39کروڑ مریض سامنے آتے ہیں جنہیں اگر بروقت تشخیص اور علاج میسر ہو تو ان کی جان بچائی جا سکتی ہے۔محکمہ بلدیات اور محکمہ صحت کے حکام کو خاص طور پر اس ضمن میں متوجہ ہونے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کیلئے جہاںشہریوں میں شعور و آگہی پیدا کرنے کی ضرورت ہے وہاں اس سے نمٹنے کیلئے بھی ممکنہ احتیاط و تدابیر اور تدار کی اقدامات میں کوتاہی کی گنجائش نہیں ۔ بہتر ہوگا کہ ڈینگی کی روک تھام کے اقدامات کے ساتھ ساتھ ہسپتالوں میں اس کے علاج کے انتظامات اور ادویات کی موجودگی کو یقینی بنانے پر توجہ دی جائے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر سے بار بار آگاہ کیا جائے جبکہ عوام کا بھی فرض بنتا ہے کہ وہ خود احتیاط سے کام لیں اور ممکنہ بچائو کے طریقوں پر عمل کرنے میں کوتاہی نہ کریں۔
سرکاری سکولوں میں گھپلوں کی تحقیقات احسن اقدام
سرکاری سکولوں میں پی ٹی سی فنڈز میں گھپلوں کی تحقیقات کے دوران مزید نشاندہیوں پر تحقیقات کادائرہ دوسرے اضلاع تک بڑھانے کافیصلہ موزوں اقدام ہے۔ ہمارے نمائندے کی خبر کے مطابق صوبائی انسپکشن ٹیم کی جانب سے محکمہ تعلیم خیبرپختونخوا میں سرکاری سکولوں کیلئے مختص پی ٹی سی فنڈز میں وسیع پیمانے پرگھپلوں کی شکایات سامنے آنے کے بعد تحقیقات شروع کی گئیں ۔ابتدائی تحقیقات کے دوران بعض سامنے آنے والے معاملات کی روشنی میں پی ٹی سی فنڈز کے گھپلوں کی تحقیقات کادائرہ صوبے کے دوسرے اضلاع تک بڑھانے کافیصلہ بھی کیاگیااور متعلقہ اضلاع کے محکمہ تعلیم کے افسران سے ریکارڈ طلب کرلیاگیا۔المیہ یہ ہے کہ سرکاری اداروں میں بد عنوانی اور سرکاری فنڈ کا ناجائز استعمال اس قدر عام ہو چکا ہے کہ اب یہ معمول کا عمل سمجھا جانے لگا ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالت زار ویسے بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور سکولوں کو وسائل کی فراہمی واجبی سی ہوتی ہے۔ سرکاری تعلیمی اداروں کی آمدنی سرے سے ہوتی نہیں اور اخراجات بہر حال ہوتے ہیں۔ لے دے کے جو تھوڑا بہت فنڈ کسی مد میں جمع ہوتا ہے اس پر بھی ہاتھ صاف کرنا کسی طور قابل برداشت امر نہیں۔ اس قسم کی صورتحال کے باعث سرکاری تعلیمی اداروں میں معمولی سے کام بھی التواء میں پڑے ہوتے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چند اضلاع نہیں بلکہ پورے صوبے کے سرکاری سکولوں میں کم و بیش محولہ قسم کی صورتحال ہوگی۔ بہر حال اصل حقائق کا علم تحقیقات اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ اعلیٰ حکام کو چاہئے کہ وہ سرکاری سکولوں میں فنڈز کے استعمال اور خرد برد دونوں کا سنجیدگی اور باریک بینی سے جائزہ لیں اور بدعنوانی کا ثبوت ملنے پر سخت کارروائی سے گریز نہ کریں۔ سخت گیر اقدامات سے ہی بدعنوان عناصر کی روک تھام ممکن ہوسکے گی اور بقدر اشک بلبل فنڈ کا درست استعمال ممکن ہوگا۔

اداریہ