Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت دائودؑ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ اپنی حکومت میں لوگوں سے اپنے متعلق معلوم کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ جو شخص ان کو نہیں پہچانتا تھا اس سے وہ دریافت فرماتے تھے کہ بتائو دائود کیسا آدمی ہے؟ لوگوں میں ان کی سیرت و عادت کس درجے کی ہے اور اس کے بارے میں تمہارے تاثرات کیا ہیں؟ وغیرہ۔
ایک دن ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتے کو آدمی کی شکل و صورت میں ان کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اس سے بھی اس قسم کے سوالات کئے۔ اس نے کہا: حضرت دائود ہیں تو اچھے آدمی‘ مگر اتنی بات ضرور ہے کہ وہ بیت المال سے روزی کھاتے ہیں۔ (ظاہر ہے کہ بیت المال سے ان کا وظیفہ وغیرہ مقرر ہوگا) بس یہ سننا تھا کہ حضرت دائودؑ کے دل میں بجلی سی کوند گئی۔ فوراً اپنے پروردگار سے دعا کی: رب العالمین! مجھے بیت المال سے مستغنی بنا دے اور مجھے کوئی ایسا ہنر عطا کردے کہ جس سے میں اپنی روزی کما سکوں۔
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول فرمائی اور انہیں زرہ یعنی فولاد کا جالی دار کرتا جو لڑائی میں پہنتے ہیں بنانے کا ہنر عطا فرمایا۔ منقول ہے کہ ان کے مبارک ہاتھوں کو اللہ تعالیٰ نے ایسی قوت و خاصیت عنایت فرمائی تھی کہ لوہا( بغیر گرم کئے) ان کے ہاتھوں میں پہنچتے ہی موم کی طرح نرم ہو جاتا تھا جس سے آپ زرہ بناتے اور اس کو چھ ہزار درہم میں فروخت کرتے۔ بعض علمائے کرام نے لکھا ہے کہ حضرت دائودؑ ہر روزایک زرہ بناتے اور اس کو چھ ہزار درہم میں فروخت فرماتے۔ پھر اس چھ ہزار کو اس طرح صرف کرتے کہ دو ہزار درہم تواپنی ذات اور اپنے اہل و عیال پر خرچ کرتے اور چار ہزار درہم بنی اسرائیل کے فقرا و مساکین میں بطور صدقہ خیرات تقسیم کردیتے تھے۔
حضورؐ نے ارشاد فرمایا ہے کہ کسب یعنی اپنی روزی خود پیدا کرنا انبیائے کرام کی سنت ہے۔ جیسا کہ حضرت دائودؑ کے عمل سے معلوم ہوا۔ اس لئے تم بھی ان کے مقدس طریقے کو اختیار کرو۔ وہیں گویا آپؐ نے اپنی روزی خود اپنی صنعت و حرفت کے ذریعے پیدا کرنے پر لوگوں کو ترغیب دلائی ہے۔ کیونکہ اس میں بڑے بڑے فائدے ہیں۔ مثلاً جو شخص اپنی صنعت و حرفت و محنت سے کماتا ہے نہ صرف یہ کہ خود اسے منافع حاصل ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اس کی محنت سے بہت فائدہ پہنچاتا ہے۔ پھر یہ کہ ایسا محنتی شخص اپنے پیشے اور کام میں مصروف رہنے کی وجہ سے بری باتوں اور ہر قسم کی بری صحبت اور لہو و لعب سے محفوظ رہتا ہے۔ نیز چونکہ اپنا کام اپنے ہاتھ سے کرنے کی وجہ سے کسر نفسی اور عاجزی بھی پیداہوتی ہے اس لئے وہ اپنے نفس کی سرکشی سے بھی بچتا ہے۔ پھر سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ ایسا شخص کسی کا محتاج نہیں رہتا اور کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرتا۔ کسی کے آگے جھکتا نہیں اور اسے ایک آبرو مندانہ زندگی نصیب ہوتی ہے۔
(مظاہر حق شرح مشکواۃ جلد سوم ص 33-34)

اداریہ