Daily Mashriq


اعلیٰ فوجی افسران کی بیرون ملک ملازمت

اعلیٰ فوجی افسران کی بیرون ملک ملازمت

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے ججز اور سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران سیکرٹری دفاع سے استفسار کیا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمدشجاع پاشا کس قانون کے تحت ملازمت ختم ہو تے ہی بیرون ملک چلے گئے ؟کیا فوجی افسران پر دوسال تک ملازمت نہ کرنے کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا؟۔چیف جسٹس کا کہناتھا کہ ہم اپنی ایجنسیوں کی قد ر کرتے ہیں ان کو کئی کئی سال تک تحفظ ملنا چاہئے خدانخواستہ کچھ ہو نہ جائے۔ ان کے پاس حساس معلومات ہوتی ہیںلیکن ہمارے اداروں کے سربراہ یوں اُٹھ کر چلے جاتے ہیں۔اس کے ساتھ ہی چیف جسٹس نے دونوں اعلیٰ فوجی افسران کی بیرون ملک ملازمتوں کی تفصیلات طلب کر لی ہیں۔ چیف جسٹس کے ریمارکس بتاتے ہیں کہ ملک اب رفتہ رفتہ قانون کی حکمرانی کی طرف بڑھ رہا ہے۔اس ملک کے بہت سے مسائل میں ایک دہرا قانون رہا ہے ۔طاقتور کے لئے ایک قانون اور کمزور کے لئے دوسرا قانون ،سویلین کے لئے ایک رویہ فوجی کے لئے دوسرا رویہ ،دولت مند کے لئے قانون موم کی ناک اور غریب کے لئے آہنی شکنجہ ۔ان دہرے معیارات اور متضاد رویوں اور روایات نے قانون کو مذاق بنا کر رکھ چھوڑا ہے ۔یہ رویے قوموں اور ملکوں کو اندر سے گھن کی طرح چاٹ جاتے ہیں ۔ملک میں قانون کا احترام اور خوف ختم ہوجاتا ہے عوام میں بد دلی اور مایوسی پھیلتی ہے اور ان میں اپنے اداروں کے خلاف نفرت کے جذبات جنم لیتے ہیں اور آخر کار یہی رویہ ملکوں کو انارکی کی دہلیز پر کھڑا کرتا ہے ۔جہاں ہجوم کا انصاف اورعوامی عدالتوں کا رواج غالب ہوتا ہے ۔ہجوم کے ہاتھ کا ہتھیار اور ڈنڈا ہی قانون بن جاتا ہے ۔سوشل سٹرکچر برباد ہوجاتا ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لئے اس صورت حال کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں رہتا ۔ملک افراتفری‘ انتشار اور بالآخر خانہ جنگی کا شکار ہوجاتا ہے۔ پاکستان کو ایک منظم انداز سے اسی انجام کی طرف دھکیلا جا تا رہا ہے ۔اس جرم میں صرف باہر والے ہی نہیں خود اندر کے لوگ بھی شریک رہے ہیں ۔یوں لگتا ہے کہ وہ وقت اب پیچھے رہ گیا اب ملک میں دوقانون کا ناروا رویہ اور رواج اپنے آخری دن پورے کر رہا ہے ۔اب قانون کا اطلاق ہر فرد پر یکساں انداز میں ہوگا ۔اس کا ثبوت حالیہ چند واقعات ہیں جس نے قانون کی حکمرانی کی طرف پیش قدمی کی نوید سنائی ہے کہ اب پاکستان میں مزید قانون کے لئے لونڈی اور موم کی ناک جیسی اصطلاحات کی کوئی جگہ نہیں۔ اس میں کسی فوجی اور سویلین ،کمزور اور طاقتور کی قید نہیں ہو گی ۔چیف جسٹس کا یہ سوال صائب ہے کہ ملک کے حساس عہدوں پر فائز لوگ ریٹائرمنٹ کا پروانہ ملتے ہی یوں پلو جھاڑ کر بیرون ملک سدھار جاتے ہیں کہ جیسے گھرکے ایک کمرے سے دوسرے کمرے میں جاتے ہوں۔طاقتور سیاست دانوں سے تو ہمیں یہی گلہ رہا کہ ان کی حکمرانی پاکستانی عوام پر ہوتی ہے اور کاروبار اور دولت وجائیداد کے لئے وہ لندن ،دوبئی اور سنگاپور کو چنتے ہیں ۔ملکی سلامتی اور عوامی بھلائی کے فیصلوں کا اختیار رکھنے والے جن لوگوں کے کاروبار بیرونی دنیا میں ہوں گے ان پر غیر ممالک اثرانداز ہونے کی زیادہ بہتر پوزیشن میں ہوں گے ۔ بالکل یہی کلیہ ان اعلیٰ ترین فوجی افسروں پر لاگو ہوتا ہے جو دنیا کی ساتویں ایٹمی طاقت اور چھٹی بڑی فوج میں فیصلہ سازی کی پوزیشن میں رہ چکے ہیں ،جن کے سینوں میں مملکت کے بہت سے راز اور ان کہی داستانیںہوتی ہیں۔ملک کے بہت سے اہم فیصلوں میں ان کا عمل دخل ہوتا ہے اور کوئی بھی اقدام ان سے پوشیدہ نہیں رکھا جاتا۔سابق آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت نوئے کی دہائی میں نیشنل سیکورٹی کونسل کی حمایت میں دئیے جانے والے بیان کی نذر ہوئے تھے ۔ اس وقت کے وزیر اعظم نے انہیں بند کمرے میں بلا کر استعفیٰ لے لیا تھا ۔اس واقعے کے بعد ہی وہ خاموشی سے باہر نکل کھڑے ہوئے اور مدتوں سے امریکہ میں مقیم ہیں ۔ خبریں ملتی ہیں کہ وہ ایک تھنک ٹینک میں اپنی دال روٹی کا بندوبست کئے ہوئے ہیں ۔ظاہر ہے پاک فوج کی مراعات سے ان کا چولہا جلنا ممکن نہ ہوتا کہ انہیں بیرون ملک جا کر ملازمت کرنا پڑی ۔جنرل پرویز مشرف آزادپنچھی بن کر ڈار ڈار اُڑتے پھر رہے ہیں۔جنرل اشفاق پرویز کیانی دیسی قسم کے پوٹھوہاری جنرل تھے ۔خیال تھا کہ ملازمت کے بعد وطن کی مٹی ان کے پیروں کی زنجیر بنی رہے گی مگر ایک روز یہ چونکا دینے والی خبر ملی کہ وہ آسٹریلیا سدھار گئے ہیں اورغالباََ اب تک کینگروئوں کی سرزمین میں ہی محوِاستراحت ہیں ۔جنرل راحیل شریف اور جنرل احمد شجاع پاشا بھی ہنگامہ خیز دور میں پاکستان کے اعلیٰ فوجی عہدوں پر براجمان رہ چکے ہیں۔دونوں جرنیل ملازمت کی مدت ختم ہوتے ہی اپنا پاندان اُٹھائے باہر چلے گئے ۔راحیل شریف سعودی عرب میں جنرل پاشا دوبئی میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔پاکستان محض ایک ایٹمی طاقت ہی نہیں دشمن کی نظروں میں خار کی طرح چبھنے والا ملک بھی ہے ۔دشمن تاک میں بیٹھا ہے کہ کہیں سے کوئی کمزوری کوئی اہم راز اس کے ہاتھ لگے اور وہ اس کو پاکستان کے خلاف استعمال کرے۔ امریکہ ،بھارت اور اسرائیل اس کی فوج اور ایٹمی صلاحیت ان طاقتوں کو قطعی گوارا نہیں ۔ایسے ملک کے ذمہ دار فوجی افسران کا یوں بیرون ملکوں میں پھرنا واقعتا حیرت کا باعث ہے ۔اب تک اگر اس حوالے سے کوئی پالیسی نہیں تھی تو اب یہ پالیسی موسموں کے تغیر وتبدل اور مزاجوں کے خوش گوار وناگوار ہونے کے تصورات سے بالاتر ہوکر اپنا لینی چاہئے کہ ملک کا قانون ہر خاص وعام پر مقدم اور ہر مصلحت سے بالاتر ہے ۔ہمارے دوآنکھوں والے اور دیدہ بینا رکھنے والے قانون کو دوبارہ جب تک اندھا اور نابینا نہیں بنایا جاتا اس وقت تک ملک ترقی نہیں کر سکتا ۔

متعلقہ خبریں