Daily Mashriq


یہ امت خرافات میں کھو گئی

یہ امت خرافات میں کھو گئی

مسلمان امت کی شان اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بیان فرمائی ہے کہ ’’ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہونی چاہئے جو (لوگوں) کو خیر( بھلائی) کی طرف بلائے اور برائی( منکر) سے روکے‘‘۔ دوسری جگہ پوری امت کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:’’ تم بہترین امت ہو۔ تمہیں لوگوں کے لئے نکالا تاکہ تم بھلائی کا حکم دو اور برائی سے روکو‘‘۔ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا ’’ تم میں سے ہر آدمی کو (اپنے اعمال) کی جوابدہی کرنا ہوگی اور تم سے تمہارے ماتحت( رعیت) کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘۔ اس کے علاوہ اور بہت ساری زریں تعلیمات ہیں جو مسلمان معاشرے کو ایک فلاحی اور خیر خواہی پر مبنی معاشرے میں تبدیل کرنے کے لئے اور برائیوں سے روکے رکھنے میں بے مثال کردار ادا کرتی ہیں۔ لیکن مسئلہ تب پیدا ہوا کہ تعلیمات و احکام کا یہ بے بدل و بے مثال مجموعہ یعنی قرآن کریم اور احادیث مبارکہ ہم بھول گئے یا پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر رہے یا اس کو سمجھتے ہوئے پس پشت ڈالنے کے مجرم ٹھہرے جس کا نتیجہ امت مسلمہ کی سطح پر یہ سامنے آیا ہے کہ ہ سعودی عرب جو کبھی مرکز اسلام اور حرمین الشریفین کے حامل ہونے کے سبب ساری دنیا میں بالعموم اور عالم اسلام میں بالخصوص ایک خاص احترام و تقدس کا حامل تھا آج شام‘ یمن‘ قطر اور مصر کے علاوہ اسلامی افریقہ کے بعض ممالک میں اپنے نا پسندیدہ کردار کے سبب متنازع تصور ہونے لگا ہے۔عالم اسلام کے ممالک کے درمیان نظریات‘ مسالک اور سیاسی اختلافات کے علاوہ معاشی مفادات اور استعمار کی سازشوں کے سبب اتنے شدید اختلافات ہیں کہ موقع ملے تو ایک دوسرے کو کاٹ کر رکھ دیں۔ عالم اسلام کی اسی نا اتفاقی اور انتشار اور آپس میں دشمنیوں کے سبب چھوٹا سا اسرائیل اب وہ ساری سرخ لکیریں عبور کر رہا ہے جن کا 80ء کے عشرے تک وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ عالم اسلام میں ترکی کے طیب اردوان سے بڑی امیدیں ہیں لیکن وہاں بھی صدارتی نظام کے بعد ایک قسم کی آمریت کاخدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے اور وہاں کے اپوزیشن سیاستدانوں نے کافی ووٹ حاصل کئے ہیں۔ گولن کے پیروکاروں کاخطرہ الگ سے سروں پر منڈلاتا رہتا ہے۔ پاکستان میں تو خدا خدا کرکے انتخابات ہوگئے لیکن اب طرفہ تماشا دیکھتے جائیے کہ وہ سیاسی جماعتیں جن کے نظریات‘ دساتیر و منشورات اور اہداف سیاست میں زمین و آسمان کا اختلاف ہے لیکن عمران خان کے خلاف متحد ہوچکی ہیں۔ اچھی بات ہے اور سیاست کرنا ان کا آئینی حق ہے لیکن کیا کٹر نیشنلسٹ‘ لبرل اور کٹر مذہبی لوگ پانچ برس تک متحد رہ سکیں گے؟ اللہ کرے کہ یہ سب ایک ہی سیاسی جماعت میں مدغم ہوجائیں تاکہ پاکستان میں بھی امریکہ اور برطانیہ کی طرح دو سیاسی جماعتوں کا نظام چل پڑے۔ لیکن ایسا نا ممکن ہے۔ یہ صرف بغض میں جمع ہوچکی ہیں۔ مجھے اس اتحاد کی یہ بات بالکل سمجھ نہیں آتی کہ ایک طرف انتخابات پر سخت تنقید و اعتراض‘ انتخابات کو جعلی‘ دھاندلی زدہ اور دیگر الزامات سے نوازتے ہیں اور دوسری طرف پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا فیصلہ بھی کر چکے ہیں۔ ایک ہی سانس میں دو متضاد باتیں ہماری سیاست ہی میں ممکن ہوسکتی ہیں۔ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی مراعات کو کامل پانچ برس تک بھولنا کار جگر وارد۔ ابھی ان بڑے سیاسی زعماء کی ضمنی انتخابات میں اسمبلیوں میں پہنچنے کی امید باقی ہے اس لئے شاید اپنے منتخب نمائندوںکو اسمبلیوں میں بھیجنے پر آمادہ ہوگئے۔ پاکستان میں سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے رہنمائوں بالخصوص مذہبی و سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کے کردار اور بیانات سنتا پڑھتا ہوں تو بہت تکلیف ہوتی ہے۔ اس لئے اس قسم کی باتوں سے نوجوان نسل مذہبی سیاستدانوں سے د وری اختیار کرتے ہوئے اسلام سے بھی دوری اختیارکرنے کے خطرات سے دو چار ہوتی ہے۔

جماعت اسلامی کے زعماء کو اپوزیشن اتحاد میں دیکھ کر سوچنے لگتا ہوں کہ کوئی بندہ رشید ایسا سامنے آسکے گا کہ ایک دفعہ پھر جماعت کے حلقوں کو بتا سکے کہ سید مودودیؒ نے جماعت کی تاسیس کے مقاصد کیا رکھے تھے۔ کیا دو تین سیٹیں جیتنے کے لئے ہر کسی کے ساتھ ملنا ہی اب مقصود جماعت رہ گیا ہے۔ چند دنوں سے جناب سراج الحق تو نظر نہیں آرہے لیکن لیاقت بلوچ (ماشاء اللہ) الٹرا ماڈرن خواتین سیاستدانوں کے ساتھ شانہ بشانہ پریس کانفرنسوں اور اپوزیشن اتحاد( جس میں جماعت کے نظریات کے شدید مخالفین موجود ہیں) کے ساتھ رونق افروز نظر آتے ہیں تو اپنے آپ کو کہنے پر مجبور پاتا ہوں کہ

حقیقت روایات میں کھو گئی

یہ امت خرافات میں کھو گئی

پاکستان کو اپنے حکمرانوں اور سیاستدانوں کے ہاتھوں جو نقصان پہنچا ہے اور اس وقت جو صورتحال بنی ہے مجھے تاریخ اسلام کے وہ سارے واقعات پردہ پرفلم کے واقعات کی طرح یاد آنے لگتے ہیں جس کی وجہ سے امت نے ناقابل تلافی نقصانات اٹھائے۔ بر صغیر پاک و ہند میں ریاست میسور و ریاست بنگال میں ٹیپو سلطان اور سراج الدولہ ایسے ہی حالات سے دوچار ہوچکے تھے۔

اس لئے خدارا سیاستدانوں سے دست بستہ عرض ہے کہ الیکشن میں ساری کوتاہیوں‘ کمزوریوں (ان کے بقول) دھاندلیوں وغیرہ کے باوجود مملکت عزیز اور عوام کی خاطر پانچ سال کے لئے ذرا صبر کرلیں۔

متعلقہ خبریں