Daily Mashriq

عمران خان سے خائف سیاستدان

عمران خان سے خائف سیاستدان

25جولائی 2018ء کو منعقدہونے والے انتخابات میں پاکستان تحریک انصاف نے دیگر سیاسی جماعتوں پر نسبت برتری حاصل کی ہے اور اس برتری کا تقاضاہے کہ وہ اقتدار بھی سنبھالے لیکن پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے سے قبل ہی سیاسی جماعتوں کی جانب سے چہ مگوئیاں شروع ہو گئی ہیں کہ موجودہ حالات میں تحریک انصاف کے لیے ڈلیورکرنا انتہائی مشکل ہے۔ ناقدین تحریک انصاف کو جن امور میں مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں ان میں سرِفہرست یہ بھی ہے کہ پی ٹی آئی میں اکثریت نئے لوگوں کی ہے یا دیگر سیاسی جماعتوں کے الیکٹیبلز کی ہے۔یاد رہے مخالفین کی جانب سے پی ٹی آئی کو ایسے وقت میں کٹہرے میںکھڑا کیا جا رہا ہے کہ جب پی ٹی آئی کے عہدیداروںنے باقاعدہ اپنے عہدوںکا حلف بھی نہیں اُٹھایا ہے‘ جب کہ طریقہ یہ ہے کہ انتخابات میں برتری حاصل کرنے والی جماعت کے اقتدار سنبھالنے کے سال چھ ماہ بعد مخالفین کی جانب سے حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے‘ حکومت کی پالیسیوں کا جائزہ لے کر مخالفین عوام کو بتانے کی کوشش کرتے ہیں کہ حکومت اپنی ناقص پالیسیوں کی بنا پر درست سمت نہیں جا رہی ،ناقدین یہ بھی بتاتے ہیں کہ اگر حکومت اسی راستے پر چلتی رہی تو ناکامی سے دوچار ہو گی۔ جب کہ اس کے برعکس صورتحال یہ ہے کہ پی ٹی آئی نے تاحال حکومت سنبھالی ہے اور نہ ہی اس کی طرف سے کوئی ایسی پالیسی سامنے آئی ہے جس پر تنقیدکر کے اس پر خیالات کی پوری عمارت کھڑی کی جا سکے۔ طرفہ تماشا تویہ ہے کہ پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والوں میں اکثریت ایسے سیاستدانوں کی ہے جو گزشتہ 35سالوں سے ملکی اقتدار پر قابض رہ کر سیاہ وسفید کے مالک رہے ہیں۔ ابھی عوام کے ذہنوں سے یہ بات محو نہیں ہوئی ہوگی کہ جب گزشتہ دور میں میاں نواز شریف کی حکومت تھی اوراعلیٰ عدالتوں میں ان کا احتساب ہو رہا تھا تو مسلم لیگ ن سمیت دیگر جماعتوں کی طرف سے یہ مؤقف تواتر کے ساتھ سامنے آتا رہا کہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے۔ پاکستان کے عوام نے انہیں پانچ سال کے لیے منتخب کیا ہے ‘ انہیںاپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے تاکہ منتخب جمہوری حکومت اپنی تمام تر توانائیاں عوامی مسائل کے حل پر صرف کر سکے۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ آج وہی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی کو عوام کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے کے لیے کسی طرح کی رعایت دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ملکی سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی سے اس قدر خائف کیوں ہیں؟ کیا اس لیے کہ پی ٹی آئی کی نئی ٹیم اور ناتجربہ کار پارلیمنٹیرین ملک و قوم کا نقصان کریں گے‘ کیا اس لیے کہ ان کی ناتجربہ کاری سے ملکی قرضوں میںاضافہ ہو جائے گا۔ یا اس لیے کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ ہو گا ‘ یا اس لیے کہ ملک میں دہشت گردی بڑھ جائے گی اور ہماری سرحدیں غیر محفوظ ہو جائیں گی؟،کیا اس لئے کہ غریب دووقت کی روٹی کو ترسے گا؟
نہیںایسا ہر گز نہیں ہے بلکہ سیاسی جماعتیں پی ٹی آئی سے اس لیے خائف ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ عمران خان اور ان کی ٹیم ڈلیور کر دے‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک سے بے روزگاری کا خاتمہ ہو جائے ‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ ملکی قرضے کم ہو جائیں یا سرے سے ختم ہو جائیں‘ کہیں ایسا نہ ہو کہ ملک میں امن وامان کا قیام یقینی ہو جائے،کہیں ایسا نہ ہو کہ عمران خان تعلیمی نظام کو بہتر بنا دے اور پاکستان کے عوام ہم سے سوال کریں کہ جو کام روایتی سیاستدانوں سے 70برسوںمیں نہ ہو سکا وہ کام عمران خان اور ان کی ٹیم نے چند ہی برسوںمیں کردیا۔ سیاسی جماعتوںکا یہ ڈر اور خوف انہیں عمران خان کی مخالفت پر اُکسا رہا ہے‘ وگرنہ اگر ان الزامات میں کوئی صداقت ہوتی تو سیاستدان بخوشی عمران خان کوحکومت کاموقع دیتے کیونکہ انہیں یقین ہوتا کہ بہت جلد عمران خان ناکام ہو جائیں گے اور بعد ازاں اقتدار انہی کے پاس ہی آنا ہے۔
ہم سمجھتے ہیںکہ پاکستان کی سیاست میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کاجو کھیل چند برسوں سے شروع ہو چکا ہے، اسے ختم ہونا چاہیے کیونکہ اس سارے کھیل میںملک و قوم کا نقصا ن ہو رہا ہے۔ اگرچہ ملکی تاریخ میں تیسری بارباقاعدہ انتخابات کے بعد ایک حکومت قائم ہونے جا رہی ہے لیکن اگر منتخب حکومت کو اس کی آئینی مدت میں کام نہ کرنے دیا گیا تو ملک میں جمہوری سسٹم ہونے کے باوجود ہم جمہوریت کے ثمرات سے محروم رہیں گے اور ہمارے مسائل ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے۔ اگر سیاسی جماعتیں پارلیمنٹ میں رہ کر اپنی جدوجہد جاری رکھتی ہیں تو یہ ان کا آئینی حق ہے ،یوں عمران خان اوران کی ٹیم کو مضبوط اعصاب کے ساتھ دومحاذوں پر کام کرنا ہو گا ایک عوام کی توقعات پر پورا اترنا اور دوسرے پارلیمنٹ میں مضبوط اپوزیشن کا مقابلہ۔ ہم سمجھتے ہیں اگر عمران خان نے جلد بازی سے کام نہ لیا اورتحمل مزاجی کا مظاہر ہ کیا تو وہ مخالفین کابیک وقت دوسے زیادہ محاذوں پر بھی ڈٹ کر مقابلہ کر سکتے ہیں۔ انہوںنے زندگی کے کئی میدانوں میں یہ ثابت بھی کیا ہے ،وہ کس قدر مضبوط ثابت ہوتے ہیں،ان کا اصل امتحان اقتدار سنبھالنے کے بعد شروع ہو گا۔

اداریہ