Daily Mashriq


اسرائیلی نسلی عصبیت خاتمہ کے قریب

اسرائیلی نسلی عصبیت خاتمہ کے قریب

1961 میں جب اسرائیل نے اقوامِ متحدہ میں نسلی عصبیت کے خلاف ووٹ دیا تو اپنے ہی ملک میں سرکاری سرپرستی کی حامل نسلی عصبیت کے منصوبہ ساز کے طور پر بدنام جنوبی افریقہ کے وزیرِ اعظم ہینرک ورورڈ نے مشرقِ وسطیٰ کی اس نئی نویلی ریاست کو تضاد کا ملزم ٹھہرایا تھا۔ہینرک ورورڈ نے کہا تھا کہ اگرچہ عرب وہاں ایک ہزار سال سے مقیم تھے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے اسرائیل کو عربوں سے لے لیا۔ اور میں ان سے اتفاق کرتا ہوں کہ اسرائیل بھی جنوبی افریقہ کی طرح نسل پرست ریاست ہے۔امکان نہیں کہ اس موازنے سے اسرائیل کے وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان خوش ہوئے ہوں گے، جنہوں نے نجی طور پر 1967 میں ریٹائرمنٹ سے طویل عرصہ پہلے ہی فلسطینی مزاحمت کے جواز اور منطق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیل کو 6 روزہ جنگ میں ہتھیائی گئی زمینیں واپس کردینی چاہئیں ورنہ یہ قبضہ اسرائیل کو مسخ کردے گا۔آدھی صدی سے صرف تھوڑے ہی عرصے بعد یہ بات اس وقت کسی حد تک سچ ثابت ہوگئی جب اسرائیلی پارلیمنٹ نے 1948 کے اعلانِ آزادی، جس میں اسرائیل کے تمام رہائشیوں کے لیے نسلی، مذہبی اور صنفی تفریق کے بغیر مکمل مساوی سماجی اور سیاسی حقوق کا وعدہ کیا گیا تھا کو اٹھا کر ایک طرف کردیا۔ اس کے برعکس گزشتہ ماہ کی قانون سازی باقاعدہ طور پر حقِ خودارادیت کو یہودی لوگوں کے لیے مخصوص قرار دیتی ہے۔ اس قانون سازی کے تحت 22 فیصد اسرائیلی آبادی کی مادری زبان عربی کا رتبہ بھی سرکاری زبان سے گھٹا کر خصوصی حیثیت کی حامل زبان کا کردیا ہے۔اسرائیلی پالیسیوں کا ایک طویل عرصے سے نسلی عصبیت کے ساتھ موازنہ کیا جاتا رہا ہے جو اتفاق سے جنوبی افریقہ نے اسی سال باقاعدہ نافذ کی تھی جس سال اسرائیل ایک آزاد مملکت کے طور پر ابھرا تھا۔اسرائیل کی ایسوسی ایشن آف سول رائٹس کے مرکزی قانونی مشیر ڈین یاکر نے اس قانون کو ایک ’’نسل پرست قانون‘‘قرار دیا ہے۔ اس قانون کے واضح ارادوں میں سے ایک مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری ہے۔ ایک اور مقصد مشرقِ وسطیٰ کے مسئلے میں 2 ریاستی حل کے ناممکن قرار پائے جانے کے بعد ایک ریاستی حل کے امکان کو بھی رد کر دینا ہے۔حیرت کی بات نہیں کہ ’’بین الاقوامی برادری‘‘نے بمشکل ہی اس پر ردِعمل دیا ہے۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے تک اقوامِ متحدہ نے نسلی عصبیت سے نظریں چراتے ہوئے اسے جنوبی افریقہ کا اندرونی مسئلہ قرار دیا تھا۔ یہاں تک کہ جب 1960 کے شارپ وِل قتلِ عام کے بعد بین الاقوامی رویہ تبدیل ہونے لگا، اس کے 2 دہائیوں بعد بھی رونالڈ ریگن اور مارگریٹ تھیچر کی حکومتیں جنوبی افریقہ پر پابندیوں کے خلاف تھیں۔اسرائیل کے معاملے میں اس کی لابنگ کی عالمی طاقت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ تبدیلی اور بھی زیادہ مشکل ہوگی اور یہ کہ اس ریاست کی جانب سے انسانی حقوق کی شرمناک خلاف ورزیوں کو افسوسناک طور پر فورا یہود مخالف رویہ قرار دے دیا جاتا ہے۔

یہ رجحان دہائیوں سے موجود رہا ہے مگر برطانیہ میں اس کا حالیہ مظہر روایت سے ہٹ کر ہے۔ وہاں پر قائد حزبِ اختلاف کے خلاف یہود مخالف ہونے کا تاثر اور کبھی کبھی براہِ راست الزام لگا کر انہیں ہٹانے کی بھرپور کوشش کی جا رہی ہے۔ گزشتہ ہفتے یہودی برادری کے 3 اخبارات لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کے خلاف مہم کو یہ دعویٰ کرکے ایک نئی مضحکہ خیز سطح پر لے گئے کہ ان کی زیرِ سربراہی حکومت میں برطانوی یہودیوں کو وجود کا خطرہ لاحق ہوجائے گا۔بریگزٹ (Brexit) کی افراتفری کے درمیان جب تھیریسا مے کو کنزرویٹو پارٹی کی صفوں سے بغاوت کا سامنا ہے تو نئے عام انتخابات کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ جیریمی کوربن کی سربراہی میں لیبر پارٹی کی حکومت آجائے۔ زیادہ تر صیہونیوں کے لیے یہ تصور ہی خوفناک ہے کہ کوئی مغربی رہنما کھلے عام فلسطینی حقوق کی بات کرے۔ چنانچہ انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا جاسکتا اور لیبر پارٹی کے کئی ارکانِ پارلیمنٹ اس منصوبے میں ملوث ہیں۔

تازہ ترین بکھیڑا لیبر پارٹی کی جانب سے انٹرنیشنل ہولوکاسٹ ریمیمبرینس الائنس (آئی ایچ آر اے)کی جانب سے سامیت مخالفت کی متعین کردہ تعریف اپنائے جانے کی وجہ سے ہے۔ اس میں متن کو ملحوظِ خاطر رکھا گیا ہے جو اپنے آپ میں کافی بڑی رعایت ہے. چوں کہ قومیت اور مذہب کی تفریق سے بالاتر ہو کر ہر طرح کی نسل پرستی پر پابندی کافی ہونی چاہیے تھی، مگر اس نے اب تک آئی ایچ آر اے کے نشاندہی کردہ ’’11مثالوں‘‘میں سے 4 کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، جن میں سے چند مبینہ طور پر اسرائیل پر جائز تنقید کو بھی صرف اس لیے غیر قانونی قرار دے دیتے ہیں کیوں کہ اسرائیل خود کو بلاشرکتِ غیرے یہودی مملکت قرار دیتا ہے۔لیبر پارٹی کی جانب سے جوابی حملے کو مزید سخت و جارحانہ ہونا چاہیے تھا، کیوں کہ برطانوی یہودیوں، بشمول سماجی کارکنوں، اساتذہ اور دیگر دانشوروں کی بڑی تعداد، جس میں سے کئی نے غزہ میں اسرائیل کے قتلِ عام کے خلاف مظاہروں میں بھی حصہ لیا ہے، صیہونیت پسند لابی کے اقدامات پر حیران ہے۔اس کے علاوہ بینجمن نیتن یاہو پولینڈ اور ہنگری کی سامیت مخالف حکومتوں کے ساتھ ہنستے بولتے نظر آتے ہیں، ٹرمپ کا تو ذکر ہی نہ کریں۔

متعلقہ خبریں