Daily Mashriq


2018انتخابات ، کس کی ہار کس کی جیت

2018انتخابات ، کس کی ہار کس کی جیت

ماہرین کہتے ہیں کہ تیسری دنیا کے ممالک میں عام طور پرحکومتیں دوقسم کی اسٹیبلشمنٹ کے زیر اثر ہو تی ہیں۔ ایک اُس ملک کی اپنی اسٹیبلشمنٹ یعنی ملکی اور مقامی اسٹیبلشمنٹ اور دوسری بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ ہوتی ہے ۔ دوسرے ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستانی اسٹیبلشمنٹ، ملٹری و سول بیوروکریسی اور اہم اداروں پرمشتمل ہے۔ جبکہ پاکستان کے لحا ظ سے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ امریکہ، بھارت ، اسرائیل ، چین ، سعودی عرب اور دیگر کئی ممالک اور بین الاقوامی اداروں اور ایجنسیوں پر مشتمل ہے۔ ان ممالک کے پاکستان سے مفادات وابستہ ہیں ۔ امریکہ اور اتحادیوں کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ پاکستان میں اُنکی مرضی کی حکومت ہو ۔اس اسٹیبلشمنٹ کا دوسرا کر دار بھارت جو ما ضی سے پاکستان کا حریف چلا آرہا ہے اس کی بھی یہ کوشش ہے کہ پاکستان میں ایسی حکومت آئے جس سے بھارتی مفادات کو کوئی گزند نہ پہنچے۔ اسی طر ح اسرائیل کو پاکستان کے جو ہری اثاثے ا ور مسلح افواج پسند نہیں اور اس کی بھی کو شش ہے کہ پاکستان میں کوئی ایسی حکومت ہو جو اسرائیل کے لئے مشکل پیدا نہ کر سکے۔ اب اگر 2018کے عام انتخابات کو ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کی نظر وںسے دیکھا جائے تواس سے ظا ہر ہے کہ ملکی اسٹیبلشمنٹ جس میں پاکستانی سول اور ملٹری بیوروکریسی شامل ہے کی خواہش تھی کہ تحریک انصاف کو اقتدار ملے کیونکہ اس کی نظر میں پی ٹی آئی سے محب وطن پا رٹی کوئی نہیں ہے جبکہ باقی تمام سیاسی پا رٹیاں اپنی با ریاں کر چکی ہیں جبکہ اسکے بر عکس بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ جس میں امریکہ ، بھارت اور اسرائیل شامل ہے کی بھرپور کو شش تھی کہ نواز شریف اور انکے اتحا دی جے یو آئی، اے این پی، پختون خوا ملی پا رٹی اور ایم کیو ایم اقتدار میں آئے کیونکہ عالمی مبصرین کے مطابق مندرجہ بالا سیاسی پا رٹیاں ایسی پا رٹیاں ہیں جن کی دوستی نواز شریف کے ساتھ ہے اور ما ضی کے عمران خان کے دھرنوں اور انکے نتیجے میں پیدا ہونے والی صورت حال کے پیش نظران پا رٹیوں نے پوری پوری کو شش کی کہ میاں صا حب کو بچایا جائے۔ ماہرین سیا سیات کی رائے ہے‘ جس سے میں اتفاق نہیں کرتا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ ماضی میں امریکہ اور دوسری طاقتوں کے زیر اثر تھی، مگر راحیل شریف کے دور میں ملٹری اور سول اسٹیبلشمنٹ نے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ سے علیحدگی اختیار کی اوراب وہ اپنے فیصلے خود کرتی ہے۔ما ہرین کے مطابق ایم کیو ایم کی سرکوبی کرنا اور اس کے قبضے سے 200 کنٹینر اسلحہ بر آمد کرنا اسکی پہلی کڑی تھی ۔ عالمی مبصرین کے مطابق یہی اسلحہ امریکہ اور اتحادی افواج نے کراچی میں ایم کیو ایم کو تباہی اور بر بادی پھیلانے کے لئے دیاتھا۔ اب جبکہ 2018 کے عام انتخابات میں ملکی اور بین الا اقوامی اسٹیبلشمنٹ کے راستے جدا جدا تھے ۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ما ضی قریب میں ہر موقع پر سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھارت کا ساتھ دیا۔ جیسے کہ ڈان لیکس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ میں آپکے یعنی بھارت کے ساتھ ہوں مگر مسلح افواج ر استے میں روڑے اٹکا رہی ہے۔ ممبئی اور دہلی حملوں میں پاکستان کو مورد الزام ٹھہراکر کہتے ہیں کہ پاکستان ان حملوں میں ملوث تھا جبکہ بھارت کے سینئر انٹیلی جنس آفیسرنے بھارتی سپریم کو رٹ کو کہا کہ ممبئی اور دہلی حملوں میں بھارت خود ملوث تھا ۔ علاوہ ازیںدنیا میں انہی حملوں کے بارے میں کئی کتابیں لکھی جا چکی ہیں جس میں بار بار اس بات کا اعادہ کیا گیا ہے کہ یہ دنوں حملے پاکستان نے نہیں بلکہ بھارت نے خود پاکستان کو بد نام کرنے کے لئے کئے ہیں۔مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ نواز شریف کا بلوچستان میں پکڑے گئے بھارتی جا سوس کلبھوشن یا دیو کی منفی سر گر میوں کے بارے میں خاموش اختیار رکرنا، اسی طرح پاکستان سے بھارت ترسیلات زر منتقل کرنا اور نواز شریف کی ٖ فیکٹریوں میں بھارت کے لوگوں کاکام کرنا یہ سارے ایسے عوامل ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ نواز شریف پاکستان کا نہیں بلکہ بھا رتی مفادات کا دفاع کر رہے ہیں۔ بھارت کے اکثر تجزیہ نگار اپنے پروگراموں میں کہتے رہے ہیں کہ نواز شریف پر بھارت نے سرمایہ کا ری کی ہے اور وہ ( بھارت) ہر صورت نواز کو پاکستان میں اقتدار میں لائیں گے۔اسی طرح تجزیہ نگار یہ بھی کہتے ہیں کہ اے این پی، پختون خوا ملی پا رٹی اور جے یو آئی کا جھکائو نواز شریف کی طرف ہے اور یہ سیاسی پا رٹیا ں ملکی اسٹیبلشمنٹ کے بجائے نواز شریف کو سپو رٹ کرتی ہیں۔ لہٰذا ماہرین سیاسیات کے مطابق 2018 کے عام انتخابات ملکی اور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے درمیان تھی ملکی اسٹیبلشمنٹ عمران خان اور پی ٹی آئی کے حق میں تھی جبکہ اسکے بر عکس بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ نواز شریف اور اتحادی پا رٹیوں کے حق میں تھی۔ تجزیہ نگار کہتے ہیں کہ اس الیکشن میں ملکی اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی جیت گئی جبکہ بین الا قوامی اسٹیبلشمنٹ ہا ر گئی ۔ مگر پختون قوم پرست پا رٹیوں کا کہنا ہے کہ 2018 کے الیکشن میں پختونوں کواسمبلیوں سے باہر بٹھانا پختونوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ کیونکہ 2018 کے الیکشن میں صرف پختون قوم پرستوں کو ہرایا گیا۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اس ملک میں محبت وطن صرف عمران خان تھا اسکے علاوہ اور کوئی سیاسی پا رٹی اور اسکا لیڈر محب وطن نہیں تھا۔اور کیا پاکستان پیپلز پا رٹی والے صا ف شفاف اور دودھ کے دھلے ہیں۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ رائو انوار جو نقیب قتل کیس کے علاوہ ۴۰۴ دوسرے قتل کی وارداتوں میں ملوث تھا اُسکو کیسے ضما نت مل گئی۔

متعلقہ خبریں