Daily Mashriq


فاٹا اصلاحات کیلئے فضا تو ہموار کیجئے

فاٹا اصلاحات کیلئے فضا تو ہموار کیجئے

قبائلی علاقہ جات کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور اصلاحات کمیٹی کی سفارشات کے حوالے سے منعقدہ جرگہ اختلافی رائے کے اظہار کا مناسب فورم ضرورتھا لیکن اس کے لئے جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ روایات کے امین قبائلی عمائدین کے لئے مناسب ہرگز نہ تھا ۔قبائلی عمائدین کی جانب سے کسی سیمنار میں اپنی باری سے قبل اور بے موقع بولنے کا یہ پہلا واقعہ نہیں بلکہ یہ ان کی ایک کمزور ی بن چکی ہے ۔کسی پروگرام کی کامیابی اور کسی مسئلے پر سیر حاصل بحث ایک نظم اور طریقہ کار کی پابندی ہی سے ممکن ہوتا ہے جہاں بد نظمی اور ہلٹر بازی اختیار کی جائے اس سمینار فورم اور جرگہ کے انعقاد کا مقصد فوت ہونا اورایسا کرنا اپنے آپ اس فورم کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔ اس کے باوجود ہم سمجھتے ہیں کہ ا گر کسی جانب سے سیمنار میں بے موقع خطاب کا نامناسب رویہ اپنا یا بھی گیا تو اس کی بات تحمل سے سننے اور اس کے اعتراضات وتحفظات کو دلائل کے ساتھ رد کرنے ترمیم کرنے یا پھر اس سے اتفاق کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا ۔ مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سر براہی میں کمیٹی نے جو اصلاحات تجویز کی ہیں اور قبل ازیں جسٹس اجمل میاں کی سربراہی میں جو تجا ویز دی گئی تھیںا ن سے قبائلی عمائدین ، سیاسی جماعتوں اور قبائلی عوام کو اختلاف رائے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔کسی فورم پر بد مزگی پیدا ہونے سے یہ فرض کرلینا کہ اصلاحات کے عمل کو سبوتاژ کیا گیا ہرگز درست تاثر نہیں اور نہ ہی مبینہ طور پر کسی پریشر گروپ کی اصلاحات کو متنا زعہ بنانے کی سازشوں کو سنجید گی سے لینا چاہیے ۔ کسی عوامی فورم پر اختلاف رائے کا نا مناسب طریقہ کار اختیار کرنے اور نعرہ بازی کو بہانہ بنا کر اصلا حات کے عمل کو سرد خانے میں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں ۔ قبائلی عوام اب اس قدر با شعو ر ہو چکے ہیں اور خاص طور پر تعلیم یافتہ قبائلی نما ئندے اور نوجوان جس اصلا حات کے خواہاں ہوں ان کا دیر یا بدیر لاگو ہونا نو شتہ دیوار ہے ہر جگہ تبدیلی اور سٹیٹس کو توڑنے کی مزاحمت اور مخالفت ہوتی ہے ۔ اگر بعض قبائلی عمائدین ایف سی آر کے خاتمے کو اپنے رسم و رواج اور قبائلی روایات کی پامالی سمجھتے ہیں تو ان کو ایسا سوچنے اور ایسا کہنے کا پورا پورا حق حاصل ہے جبکہ دوسری جانب اصلاحات کے عمل کے حامی افراد کی بھی اپنی سوچ ہے ۔اگر دیکھا جائے تو جا نبین نے اگر چہ دلائل سے اپنا مئوقف محولہ فورم پر سامنے نہیں رکھا لیکن وقتاً فوقتاً سامنے آنے والے طرفین کے خیالات میں وزن ضرور پایا جاتا ہے جن کا جائز ہ لیکر اگر دونوں کی آراء کی رعا یت رکھتے ہوئے اگر درمیانی راستہ اختیار کیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا ۔اس امر سے عدم اتفاق ممکن نہیں کہ اچانک نظام تبدیل کرنے کو نہ تو ذہنی طور پر قبول کیا جائے گا اور نہ ہی یہ انتظامی طور پر ممکن ہوگا ۔ قبائلی عمائدین اصلاحات کے لئے اپنے قائدانہ کردار سے دستبرداری پر اتنی آسانی سے تیار نہیں ہوں گے اس لئے اصلاحات کے عمل کو بتدریج متعارف کرانے کی ضرورت کارگر نسخہ ہوگا ۔ قبائلی سماج میں نقل مکانی کے باعث خاصی تبدیلی واقع ہو ئی ہے مستزاد وہاں تعلیم عام کرنے کی مساعی کے بھی مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں ۔ خاص طور پر کیڈٹ کالجز سے وہاں کی جو پو د نکل رہی ہے وہ قبائلی نوجوان کے لئے مثال ہے قبائلی علاقوں میں موجود فوج اور فوج کے زیر انتظام اصلاحات کا عمل بھی تبدیلی میں مدد گار ثابت ہو رہا ہے۔ فاٹا میں اگر سول انتظامیہ کے ذریعے کامیاب اصلاحات مقصود ہیں تو پھر فاٹا میں سرکاری سکولوں اور مراکز صحت کے انتظام میںبہتری لائی جائے زراعت وباغبانی میں جدت لائی جائے ۔ نوجوانوں کو ہنر مند بنانے کے پروگراموں کو نمائشی کی بجائے عملی بنایا جائے ۔ خواتین کی تعلیم اور ان کو ہنر مند بنانے کے منصوبوں کو اولیت دی جائے تو اصلاحات کے عمل کے حامیوں کی تعداد خود بخود مزاحمین سے بڑھ جائے گی ۔جس معاشرے میں تعلیم اور روز گار کی شرح قابل اطمینان درجے کوپہنچ جائے اس معاشرے میں اصلا حات لانے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ اصلاحات عملی طور پر آچکی ہوتی ہیں صرف ان کو دستاویزی شکل دینے کی ضرورت باقی ہے ۔ یہاں اصلاحات کی دستا ویز میں تو زمین آسمان کے قلابے ملا دیئے گئے ہیں مگر برسر ز مین حقائق اس کے برعکس اور فضا آلودہ ہے ایسے میں محض قانون سازی اور نام کی اصلاحات لانے کی مخالفت کی جائے یاحمایت اس سے فاٹا کے عوام کو چنداں فوائد نہیں ملیں گے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ قبائلی عمائدین اور عوام سمیت ارباب حل وعقد اپنی اپنی جگہ جذبات اور خواہشات کی بجائے قبائلی علاقہ جات کی تعمیر وترقی اور فلا ح وبہبود کو مطمح نظر بناکر سوچیں گے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ پورے قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات لانے کے عمل کو جاری رکھتے ہوئے ساتھ ساتھ بتدریج اصلاحات لانے کے عمل کو جاری رکھے۔ جو قبائلی علاقے اور ایف آر زبندوبستی علاقوں سے متصل ہیں وہاں پر اصلاحات کے ایسے عمل کا آغاز کیا جائے جن کی افادیت مسلمہ ہو تا کہ قبائلی عوام اصلاحات کی طرف مائل ہوں اور قبائلی علاقہ جات میں اصلاحات کی مخالفت از خود دم توڑجائے ۔

متعلقہ خبریں