آرمی چیف کی واضح ہدایت

آرمی چیف کی واضح ہدایت

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے جہاں امن کے لئے مسئلہ کشمیر کے حل کی بات کی وہاں پاک فوج کے جوانوں کو لائن آف کنٹرول پر بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی ہدایت کرکے عملی طور پر اس امر کا اظہار کیاہے کہ پاک فوج لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر مزید تحمل کامظاہرہ نہیں کرسکتی۔ جنرل قمر جاوید باجوہ سپہ سالار کاعہدہ سنبھالنے کے بعد اس امر کا عندیہ پہلے ہی دے چکے ہیں کہ اب کنٹرول لائن پر حالات میں بہتری آئے گی۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جہاں کنٹرول لائن پر بھارتی فوجوں کی مداخلت پر مسکت جواب دینے کا حکم دیا ہے وہاں انہوں نے پر حکمت پیغام بھی دیا ہے کہ جارحیت سے کچھ نہیں ملے گا۔امر واقع یہ ہے کہ بھارت جب بھی سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرتا ہے تو وہ اپنے عوام کو یہ تاثر پیش کرتا ہے کہ پاکستان نے شروعات کیں جس کا اس نے جواب دیا اور اس طرح سے ہمارے اوپر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے، لہٰذا اب پاکستان کو اصل میں خلاف ورزی کرنی چاہئے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو الزامات سے حل نہیں ہوسکتا اور اگر اقوامِ متحدہ مداخلت کرے بھی تو بھارت اس کو تفتیش کرنے کے لیے رسائی فراہم نہیں کرتا کیونکہ وہ حقیقت کو سامنے لانا ہی نہیں چاہتا۔جموں و کشمیر کی جنگ بندی لائن اور پاکستان کے ساتھ ورکنگ بائونڈری پر بھارت نے جو اشتعال انگیز کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں ان میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں چار ماہ سے جاری تحریک آزادی کے نئے اور پر جوش مرحلے پر قابو پانے میں ناکامی کے بعد بھارت پاکستان کے خلاف باقاعدہ محاذ کھولنے کے لئے سرگرم ہوگیا ہے۔پاک فوج کے سربراہ نے جارحیت کا مسکت جواب دینے کے ساتھ ساتھ جنگ پر تلی بھارتی قیادت کو اس امر کا احساس دلایاہے کہ جارحیت سے اس کو کچھ نہیں ملے گا۔ اس لئے بہتر امر یہی ہے کہ بھارت پاکستان کے ساتھ پنجہ آزمائی کی بجائے اچھے ہمسایہ کی طرح رہنے اور خطے کے امن کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کا رویہ پنائے۔

اداریہ