دوبارہ افتتاح کی روایت

دوبارہ افتتاح کی روایت

وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک اور وزیر توانائی و تعلیم عاطف خان کا تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی موجودگی میں مٹلتان کا لام میں گو ر گیس ہائیڈروپاور سٹیشن کا افتتاح صوبے میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کا موجب ضرور ثابت ہوگا لیکن مضحکہ خیز امر یہ ہے کہ اسی منصوبے کا افتتاح سابق وزیر اعلیٰ حیدر ہوتی اور وزیر رحیم داد خان پہلے ہی کر چکے تھے جن کے افتتاح کی تختی بھی موقع پر نصب ہے اس میں اچنبھے کی بات اس لئے نہیں کہ ایسا کرنا اب معمول بن چکا ہے ۔شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ سیا ستدان شوقیہ طور پر اور کار کردگی دکھانے کے لئے تختی کی نقاب کشائی اور تقریب کا انعقاد کر کے اس سے خطاب کا شوق تو پورا فر ماتے ہیں مگر اس پر عملی کام سرے سے شروع ہی نہیں ہو پا تا۔ اسی طرح کی صورتحال حال ہی میں گوادر پورٹ کے افتتاح کے موقع پر سامنے آئی اس کے علاوہ بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں جو از خود اس امر کا عملی اظہار ہے کہ ایسا کرنے والے عمائدین کو عوام کی مشکلات اور مسائل دور کرنے کی بجائے تختیوں سے پر دہ ہٹا نے میں زیادہ دلچسپی ہے ۔ ترقیاتی منصوبوں کا بار بار افتتاح کرانے میں بیور و کریسی پوری طرح ملوث ہوتی ہے بیورو کریسی ہی اس طرح کے منصوبوں کی افتتاحی تقریب منعقد کراتی ہے علاوہ ازیں متعلقہ پراجیکٹ کے حکام کا اس میں کر دار ہوتا ہے جب تک وزیر اعلیٰ اور صوبائی وزیر کو دعوت نہ دی جائے تو وہ خود سے کسی منصوبے کا افتتاح کرنے کے لئے تو نہیں جا سکتے بہر حال اب جبکہ اس منصوبے کا با ضابطہ افتتاح کر دیا گیا ہے تو توقع کی جانی چاہیے کہ اس نافع منصوبے کی تعمیر و تکمیل میں مزید تاخیر نہیں ہونی چاہیئے ۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کو اس امر کی تحقیقات کروانی چاہیے کہ ان سے آخر افتتاح شدہ منصوبے کا دوبارہ افتتاح کیوں کرایا گیا اور اس کی ضرورت کیو ں پیش آئی ۔ اگر تحقیقات میں متعلقہ حکام کا جواب تسلی بخش نہ پایا گیا تو ان کو سزا دی جائے تاکہ آئندہ اس طرح کسی امکان کے اعادے کی نوبت آئے ۔

اداریہ