Daily Mashriq


امرتسر کا نفرنس میں پاکستان کی شرکت

امرتسر کا نفرنس میں پاکستان کی شرکت

اس کے باوجودکہ بھارت کی وزارت خارجہ کے ترجمان وکاس سوروپ امرتسر میں ہارٹ آ ف ایشیا کانفرنس کے دوران پاک بھارت مذاکرات کے امکان سے انکار کر دیا ہے وزیراعظم نواز شریف کے مشیر خارجہ امور سرتاج عزیز آج امرتسر کانفرنس میں شرکت کیلئے بھارت جارہے ہیں۔ اس موقع کو پاک بھارت مذاکرات کے آغاز کیلئے استعمال کرنے کی تجویز نئی دہلی میں پاکستان کے ہائی کمشنر عبد الباسط کانفرنس شروع ہونے سے دو روز پہلے دی تھی۔ ان کی تجویز اس خیال پر مبنی تھی کہ شاید بھارتی حکمران بی جے پی کی انتخابی مہم کے پاکستان دشمن بیانیہ سے باہر نکل کر بین الاقوامی حقائق کا ادراک کرنے کے لائق ہوگئے ہیں اور ترقی و خوشحالی کی راہ میں حائل مسائل حل کرنے کی طرف سوچنے کے اہل ہوگئے ہیں۔ لیکن وکاس سوروپ کے بیان سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھارتی حکمران انتخابی مہم کے بیانیہ کے بخار سے باہر نہیں نکلے ہیں اور اپنے ووٹ بینک پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ دھونس اور سرحدی کشیدگی جاری رکھ کر وہ دنیا کو پاکستان دشمنی کے بیانیہ کی قائل کرسکیں گے۔ وکاس سوروپ کے بیان کے باوجود سرتاج عزیز امرتسر جارہے ہیں اس بات پر پاکستان میںبعض لوگ معترض ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو بھارت میں منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں شریک نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن یہ بھارت کے غلط رویے کا ردعمل ہوگا۔ ہائی کمشنر عبدالباسط نے یہ بات واضح کر دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان ہارٹ آف ایشیا میں اس لئے شرکت کررہا ہے کہ اس میں افغانستان کا مسئلہ زیر بحث آئے گا اور افغانستان کے مسائل کا حل پاکستان کو عزیز ہے۔بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کے امکان سے انکار کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات مسلسل دہشت گردی کے موسم میں نہیں ہوسکتے اور یہ کہ بھارت دہشت گردی کو پاک بھارت تعلقات کا معمول تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔ بھارت کی یہ منطق فضول ہے دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا ہدف پاکستان ہے۔ دہشت گردی کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ پاکستان میں پاکستان کی افواج نے لڑی ہے اور کامیابی سے لڑی ہے۔ بھارت سے پہلے امریکہ پاکستان کو دہشت گردی کا الزام دیا کرتا تھا۔ امریکی افواج اور افغان فوج کو افغانستان میں پے درپے شکست ہو رہی تھی۔ امریکی فوج اور کابل کی فوج کابل تک محدود ہوکر رہ گئی تھی۔ اس وقت کابل سے یہ مطالبہ آرہا تھا کہ پاکستان دہشت گردوں کا خاتمہ کرے لیکن پاکستان ملکوں کی علاقائی سا لمیت کے احترام کے اصول کا پابند ہے۔ امریکی اور افغان فوج کی ناکامی وجوہ شکمی میں تھیں۔جاں بحق ہونے والے افغان طالبان سے ویسا اسلحہ برآمد ہوتا تھا جو افغان اور امریکی افواج کو فراہم کیا جاتا تھا۔ افغان اور امریکی جرنیل اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتے تھے اور کہا جاتا تھا کہ طالبان پاکستان سے آکر حملہ آور ہوتے ہیں ان ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کیلئے امریکہ نے اس بیانیہ کو فروغ دیا کہ طالبان پاکستان سے جاکر افغانستان کے دور دراز علاقوں تک حملہ آور ہوتے ہیں حالانکہ وہ افغانستان میں اجنبی نہ تھے۔ پاکستان کے پاس کوئی ایسی جادوئی چھڑی نہیں تھی اور نہ ہے جسے گھما کر وہ امریکی اور افغان فوج کو طالبان سے بچاسکتے۔ پاکستان کے پاس ایک دلیر منظم مستعد اور حب وطن کے جذبہ سے سرشار فوج ہے۔پاک فوج نے جب فاٹا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی تو اسے مقامی حمایت بھی حاصل تھی اور استعداد بھی تھی اور جذبہ بھی جس کی وجہ سے اس نے گوریلا فورسز کے خلاف دنیا کی سب سے بڑی جنگ جیتی۔ اس دور سے آج تک امریکہ اور افغانستان کے حکمرانوں کا پاکستان سے ڈومور کا تقاضا ہے اور انہوں نے اس بیانیہ کو فروغ دیا ہے کہ پاکستان کے ایما پر دہشت گردی ہوئی۔ اسی بیانیہ کو بھارت کی بی جے پی اور جنگجو عناصر نے بھی اختیار کیا ہے جو پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر پاکر اس بیانیہ کے ذریعے پاکستان کو دنیا میں تنہا اور غیر مستحکم کرنے کیلئے استعمال کر رہی ہے۔ اس بیانیہ کی وجہ سے کوئی بھارت سے یہ پوچھنے والا نہیں کہ ممبئی کی واردات پاک بھارت جامع مذاکرات کے آخری دور سے ایک دن پہلے کیوں ہوگئی جس کو جواز بناکر بھارت نے مذاکرات ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ پٹھانکوٹ واردات عین اس وقت کیوں ہوئی جب دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات شروع ہونے والے تھے۔ بھارت تو کشمیر کے علاقے پر ، سرکریک پر اور سیاچن پر قابض ہے۔ مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تو پاکستان چاہتا ہے اور بھارت مذاکرات سے کسی نہ کسی بہانے انکار کرتا ہے۔ جیسے اب بھارتی ہائی کمشنر عبد الباسط کی تجویز کے باوجود کیا۔ بھارت کی حکمران پارٹی بی جے پی نے اس بیانیہ اور پاکستان دشمنی کی بنیاد پر انتخابات میں کامیابی تو حاصل کرلی لیکن بھارت کے عوام غربت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ کشمیریوں کا حالیہ انتفادہ شروع ہوا تو بھارت نے حسب روایت جبر کا حربہ آزمایا۔ انتفادہ چار ماہ سے زیادہ عرصے سے جاری ہے۔ بھارتی فوج کے ظلم و جبر سے بین الاقوامی توجہ ہٹانے کیلئے بھارت نے پاکستان دشمنی کے بیانیہ کا سہارا لیا اور لائن آف کنٹرول اور ورکنگ بائونڈری پر فائرنگ اور گولہ باری شروع کر دی جو آج تک جاری ہے پاکستان کے آرمی چیف نے فوج کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ بھارت کی اشتعال انگیزی کا فوری اور موثر جواب دیں۔ اس طرح بھارت آگ سے کھیل رہا ہے۔ اس میں اس کی سبکی ہوگی اور بھارتی حکومت کو عوام کی غربت کے مسائل حل کرنے میں ناکامی کے ساتھ ساتھ کشمیرمیں عسکری ناکامی کی سبکی کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔ جہاں تک افغانستان کے مسئلہ کی بات ہے افغانستان کے انتظام میں افغان عوام کی امنگوں اور آرزوں کو ملحوظ رکھے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوسکتا اور اس کیلئے افغان طالبان کو مسئلہ ہے حل میں شامل کرنا ہوگا جنہیں افغان عوام کی حمایت حاصل ہے۔

متعلقہ خبریں