Daily Mashriq


نشتہ دارو د پاڑو گانو سرہ

نشتہ دارو د پاڑو گانو سرہ

آج کی تحریر میں قدرے بے ربطی کی ہم پہلے سے معذرت چاہتے ہیں۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ہم گزشتہ کئی روز سے زکام میں مبتلا ہیں۔ علاج جاری ہے۔ بھانت بھانت کی رنگ دار گولیاں صبح شام نگل رہے ہیں۔ ڈاکٹر البتہ فرماتے ہیں To live with گزارہ کریں۔ یہ پہلی بار نہیں' بد ہضمی کی شکایت طول پکڑ جائے' سر میں مسلسل درد رہنے لگے' بے خوابی کا شکار ہو جائیں یا پھر عجیب و غریب خواب آنے لگیں تو ہماری ہر اس بیماری کے جواب میں معالج کا یہی ایک سکہ بند جواب ہوتا ہے۔ ان سب بیماریوں کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کریں۔ ہم مانتے ہیں کہ طبی سائنس کی ترقی نے لائف کوالٹی کو کافی بہتر بنا دیا ہے۔ بے شمار مہلک بیماریوں کا علاج بھی دریافت ہوگیا ہے جو پہلے نہ تھا۔ اس کے باوجود بڑے بڑے ماہر معالجوں کو سادہ اور عام بیماری کے سامنے ہتھیار ڈال کر کہنا پڑتا ہے ' گزارہ کریں آپ کو اس کے ساتھ زندہ رہنا پڑے گا۔ بیٹے سے پوچھتے ہیں تم تو ذہنی امراض کے ماہر بنے پھرتے ہو' شیزوفرینیا' او سی ڈی' فوبیا' پیرنائیڈ' ڈیلوژن' ڈمشیا' الزائمر کا کوئی علاج ہے۔ یہ امراض ختم ہوسکتے ہیں؟ جواب میں ان کے چہرے پر ایک ہلکی سی معنی خیز مسکراہٹ طاری ہوجاتی ہے۔ ہم اب تو اس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں کہ انسان کو اس کی خود اعتمادی یعنی ول پاور ہی کسی بھی بیماری کے مقابلے میں زندہ رکھتی ہے۔ ول پاور کی بات ہم نے اس لئے کی کہ آج کل جب مریض چھینکیں مارتے ہوئے ڈاکٹر کے پاس جاتا ہے اور بتاتا ہے ''آپ کی دوائیوں سے تو میں ٹھیک نہیں ہوا'' تو وہ اسے کہتے ہیں کہ یہ ایک وائرس کی کارستانی ہے جس کا علاج اینٹی بائیوٹک سے ممکن نہیں۔ یہ اپنی میعاد پوری کرکے ہی ٹلتا ہے۔ پرانے زمانے میں زکام کاعلاج تلخ قہوہ کے دو تین پیالے ہوتے' ساتھ ہی مریض کچھ وقت کے لئے رضائی اوڑھ کر لیٹ جاتا' اٹھتا تو طبیعت بحال ہوتی۔ کچھ جڑی بوٹیوں کو ابال کر جسے جوشاندہ کہتے ہیں اس کے پینے سے بھی زکام کا وائرس دم دبا کر بھاگ جاتا۔ جب طبی سائنس کے اس ترقی کے دور میں زکام کا علاج ممکن نہیں تو پھر کسی بڑی بیماری کا تو ذکر ہی جانے دیجئے۔ ایک زمانہ تھا دردیدلے دانت کو نکالنے کے لئے سڑک کے کنارے بیٹھے شخص کی خدمات حاصل کی جاتیں۔ زمین پر بچھی میلی چادر کچھ زنگ آلود انبور اور مرتبان میں اس کی مہارت کے ثبوت کے طور پر دانت پڑے ہوتے۔ آپ منہ کھول کر متاثرہ دانت پر انگلی رکھتے ' وہ انبور پر سپرٹ کا پاہا پھیرتا اور یا اللہ خیر کا نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے اس زنگ آلود انبور سے ایک جھٹکے کے ساتھ دوسرے ہی لمحے وہ دانت نکال کر آپ کی ہتھیلی پر رکھ دیتا اور کہتا ' زہ مزے کوہ' جائو عیش کرو۔ وہ ماہرین فن تو نہیں رہے'دانت نکالنے کے لئے ماہر ڈاکٹر کے پاس جانا پڑتا ہے۔ پہلے تو وہ آپ کو بے شمار ٹیسٹوں سے گزارتا ہے۔ پھر جراثیم سے پاک چمکتے دمکتے اوزار سے آپ کا دانت اکھاڑتا ہے۔ جراثیم کش دوائوں سے دھوئے گئے انبور' ہاتھوں پر دستانے اور چہرے پر ماسک لگانے کے باوجود بعض اوقات دانت کے زخم میں بے شمار پیچیدگیاں پیداہوجاتی ہیں۔ 40'45 سال پہلے کی بات ہے' ہمارے ابا کے دائیں ہاتھ میں کچھ درد محسوس ہونے لگا۔ جب مقامی علاج سے افاقہ نہ ہوا تو ہم انہیں اسوقت کے مشہور فزیشن کے پاس لے گئے' نام نہیں لوںگا' وہ صدر پاکستان کے معالجوں کی ٹیم میں شامل تھے۔ ڈبگری گارڈن کے وسیع و عریض رہائش گاہ کے ایک کمرے میں کلینک کرتے تھے۔ 20روپے ان کی فیس تھی۔ ہمارے ابا کا انہوں نے نہایت ہی توجہ سے معائنہ کیا ۔ لیکن و ہ جو کہتے ہیں مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی' ہمارے ابا مذاق اڑاتے' نشتہ دارو د پاڑو گا نو سرہ۔ سپیروں کے پاس کوئی علاج نہیں۔ ان کے ہاتھ کے درد میں کوئی کمی نہ آئی۔ دوبارہ اسی ڈاکٹر کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ایک بار پھر معائنہ کیا' ادویات تبدیل کیں' لیکن یہ ہدایت بھی کی پھر آنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے ابا کو اسی مرض کے ساتھ گزارہ کرنا پڑے گا اور پھر ہاتھ کا یہی درد ایک سال بعد ان کے لئے جان لیوا ثابت ہوا۔ یہی کچھ سلوک لاہور کی نادیہ کے ساتھ بھی ہورہا ہے۔ دس بارہ سال کی چاق و چوبند بچی' ایک رات پیٹ میں ہلکا درد اٹھا' صبح بخار ہوا اور پھر نیم بے ہوشی کے عالم میں اسے جھٹکے لگنا شروع ہوئے۔ اسے فوری طورپر لاہور کے ایک بڑے پرائیویٹ ہسپتال میں لے جایا گیا کیونکہ سرکاری ہسپتالوں میں ینگ ڈاکٹر ہڑتال پر تھے۔ مختلف ٹیسٹ ہوئے' دوائیاں تجویز کی گئیں' بخار اتر گیا اور پیٹ کے درد میں بھی افاقہ بھی ہوا۔ دوسرے روز د وبارہ پیٹ کا درد' بخار اور جھٹکے۔ اس بار ا سے قریب شریف میڈیکل کمپلیکس لے جایا گیا' دوائیں دینے پر طبیعت بحال ہوگئی لیکن اگلے روز وہی علامات دوبارہ سامنے آنے پر جب اسے شریف میڈیکل ہسپتال کے ڈاکٹروں کو دکھایاگیا تو انہوں نے یہ کہتے ہوئے رخصت کردیا' ہماری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا۔ اس کے تو سارے ٹیسٹ بھی کلیئر ہیں' ڈاکٹروں میں سے کسی نے اپنڈکس بتایا تو کسی نے معدے کا زخم تشخیص کیا۔ لیکن علاج سے معذوری ظاہر کردی۔ اب دیکھتے ہیں نادیہ کب تک درد' بخار اور جھٹکوں کا اپنے ول پاور کے ذریعے مقابلہ کرتی ہے کیونکہ طبی سائنس کے اس ترقی یافتہ دور میں بھی ڈاکٹروں نے اس کی بیماری کے علاج سے انکار کردیا ہے۔ بتانا یہ چاہتے ہیں کہ ہم کو یہاں ہمارے ملک میں کسی بھی بیماری کو اس کے شافی علاج کے بغیر صرف اپنی خود اعتمادی پر ہی شکست دینا ہوگی جیسے کہ ہم آج کل فلو کے ساتھ سمجھوتے پر گزارہ کررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں