Daily Mashriq


ہاتھ بھی دکھ گئے دامن ترا دھوتے دھوتے

ہاتھ بھی دکھ گئے دامن ترا دھوتے دھوتے

باتیں بہت ہیں سو ممکن ہے الفاظ کی راہداریوں میں گھومتے ہوئے بغلی گلیوں میں جانے کی مجبوری درپیش رہے ، عمران خان نے کہا ہے کہ اقتدار ملا توکرپشن ختم کر دینگے ، ہماری تو دعا ہے کہ موصوف کی خواہش پوری ہو جائے لیکن کرپشن کیا صرف چوری یا غبن کا نام ہے ؟ اب یہی دیکھ لیجئے ، جس موقع پر عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے محولہ بالا الفاظ کا استعمال کیا ہے وہ سوات کے علاقے مٹلتان میں 84میگا واٹ کے ایک آبی منصوبے کی بارد گر افتتاحی تقریب تھی ۔ بارد گردیوں کے بقول اے این پی کے سیکرٹری اطلاعات زاہد خان اس منصوبے کا پہلی بار افتتا ح اے این پی کے دور میں تب کے وزیر اعلیٰ حیدر ہوتی نے کیا تھا ۔ اس لیے انہو ں نے کہا ہے کہ عمران خان ہمارے منصوبوں پر تختیاں نہ لگائیں ، دوسری بات یہ ہے کہ اس تقریب کے مو قع پر کالام کے عوام نے احتجاجی مظاہر ہ کرتے ہوئے نہ صرف روڈ بند کر دیا بلکہ کپتان اور صوبائی حکومت کے خلاف نعرے بازی بھی کی ، مظاہرین کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صرف وعدے ہی کر تی ہے اور سنگ بنیاد کی تختیاں لگاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ دوسال پہلے وزیر اعلیٰ نے کالام تا مہو ڈنڈ روڈ کی تعمیر کا وعدہ کیا تھا مگر حکومت کی عدم دلچسپی کی وجہ سے سڑک خراب پڑی ہے اور سیاحت ختم ہو چکی ہے اور یہ کہ ان کو صرف سڑک کی ضرورت ہے ۔ اس صورتحال پر حکومت کا کیا رد عمل ہے ؟ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا تا ہم کیا خالی خولی وعدے کرنا اور تختیاں لگا کر عوام کو دھوکے میں رکھنا کرپشن سے کم ہے ؟ یہی سوال اے این پی کے زاہد خان سے بھی کیا جا سکتا ہے جن کے بقول اگر حیدر ہوتی نے اس منصوبے کا افتتاح کیا تھا تو اس منصوبے کو آگے بڑھانے کے لئے اے این پی کی حکومت نے کیا کیا ؟ اگر اس دور میں یہ منصوبہ '' پیدل سفر بھی کرتا '' تو آج عمران خان اس کا بار د گرافتتاح کرنے کیوں جا تے ۔ بقول میر انیس

انیس دم کا بھروسہ نہیں ٹھہرجائو

چراغ لے کے کہاں سامنے ہو اکے چلے

چلیں چھوڑیں یہ سب ، ذرا عمران خان کے کرپشن کے خاتمے پر بات کر لیتے ہیں ، اس حوالے سے ہماری تاریخ کچھ زیادہ حوصلہ افزا ء نہیں ہے کیونکہ لگ بھگ نصف صدی سے کرپشن نے ہماری سماجی او ر سیاسی زندگی میں جس طرح اپنی جڑیں انتہائی گہرائی میں جاکر پیوست کر رکھی ہیں اس کے مقابلے میں کرپشن کے خاتمے کی تدابیر ناکامی سے دو چار ہونے کی وجوہات پر غور کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ ملک میں اینٹی کرپشن کا محکمہ قائم کیا گیا تو بعض لوگوں نے اسے بھی اپنے ڈھب پر لا نے کی کوششوں کا آغاز کیا ۔ اور پھر جب حصے بخر ے ہونے لگے تو اینٹی کرپشن کے اوپر ایک اور ادارہ بٹھا دیا گیا ۔ اس لئے زیادہ نہیں صرف 2017ء تک انتظار کر لیجئے سارا کچا چھٹا کھل کر سامنے آجائے گا ۔ اس کے بعد پو چھیں گے کونسی کرپشن ؟ پھر آپ شاید یہ کہنے پر مجبور ہوں بقول سراج آرزو

داغ چھوٹا نہیں یہ کس کا لہو ہے قاتل

ہاتھ بھی دکھ گئے دامن ترا دھوتے دھوتے

گزشتہ روز ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔ کہنے لگا آ پ نے سی پیک پر لکھنا بند کر دیا ہے میں نے گزارش کی اور بھی دکھ ہیں زمانے میں ''محبت '' کے سوا ۔ ارے بھائی کیا میں نے ٹھیکہ لے رکھا ہے کہ صرف سی پیک ہی کو رگید تا رہوںجب ہمارے صوبے کے سیاسی رہنماء اس حوالے سے چپ ہوگئے ہیں ،بلکہ وہ بھی اس معاملے پر تقسیم در تقسیم کا شکار نظر آرہے ہیں تو بھلا مجھ جیسا معمولی قلم گھسیٹ کیا کر سکتا ہے ، یعنی اکیلا چنا کیا بھاڑ جھو نکے گا ۔ یہ تو اچھا ہوا کہ اب کم از کم ملک کاوہ طبقہ جو اس معاملے پر اپنا حق مانگنے والوں کوغداری کے سر ٹیفکیٹ تقسیم کرنے کی دکانیں کھولے بیٹھا تھا ۔ چھوٹے صوبوں کی سیاسی قیادت کے بار بار بیانات دینے سے کہ وہ اقتصادی راہداری کے خلاف نہیں ہیں بس اس میں اپنا جائز حصہ مانگتے ہیں ۔ اب اپنی دکانیں بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں یعنی اب اس منصوبے پر اعتراض کرنے کی پاداش میں غداریوں کے سر ٹیفکیٹ بانٹنے سے باز آگئے ہیں ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ اب بڑے صوبے کے ذرائع ابلاغ پرغیر جانبدار مبصرین اور تجزیہ کاروں اور کالم نگاروں کی جانب سے بھی چھوٹے صوبوں کے جائز مطالبات کے حق میں آوازیں اٹھنے لگی ہیں ۔ مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف خود مرکز میں برسر اقتدار جماعت کے صوبائی رہنما ء اپنی پارٹی لائن کی تائید کرکے اپنے صوبے کے ساتھ زیادتی کے مرتکب ہورہے ہیں اور اپنی جماعت کے مرکزی قائد ین کو یہ کہنے کی جرات نہیں کر سکتے کہ حضور ، بس کیجئے ، بہت جھوٹ بو ل لئے آپ نے ، اور سی پیک کو صرف ایک صوبے تک محدود کر کے آپ صوبہ خیبر پختونخوا کے عوام کا حق مار رہے ہیں ، اور اگر یہ صورتحال تبدیل نہ ہوئی تو آنے والے انتخابات میں ہم عوام کے پاس کس منہ سے جائیں گے ،تو دوسری جانب صوبائی حکومت کا مئوقف جس تیزی سے تبدیل ہوتا رہتا ہے ، وہ بھی خاصا تشویشناک ہے ، یہاں تک کہ ایک صوبائی وزیر نے ایک اطلاع آنے پرکہ راہداری کا جو حصہ خنجراب سے آگے جس گزرگاہ کو چھوتا ہوا حسن ابدال سے آکرملے گا اس کو مبینہ طو ر پر کوہستان وغیرہ سے گزارا جا رہا ہے تو موصوف نے اس پر جو بیان دیا اس سے ان کی نیت کھل کر سامنے آگئی تھی یعنی ان کے نزدیک ان کی بلا سے یہ راہداری حسن ابدال سے آگے خیبر پختونخوا سے گزر ے یا نہیں مگر ان کے آبائی علاقے سے نہ گزرنے کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ حالانکہ اگر عام صوبائی قیادت ایک زبان ہو جائے تو پورے صوبے کا بھلا ہو سکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں