90دن میں کرپشن کا خاتمہ ؟؟؟

90دن میں کرپشن کا خاتمہ ؟؟؟

میں اکثر سوچتا ہوں کہ ہم بھی کتنے عجیب لوگ ہیں ۔ہمارے یہاں وہ ہوتا ہے جو کہیں اور نہیںہوتا۔ آپ پشاور سے بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور چلے جائیں تواس سفر میں آپ کو ہر ہر کلومیٹر پر دیواروں پر ''قومی مسائل ''کے حل کے نسخے درج ملیں گے۔ کسی کی شادی نہیں ہورہی تو کوئی بابااپنی خدمات سرعام دیوار پر درج کردیتا ہے کہ دو ہفتوں میں اپنے تعویز سے محبوب کو آپ کے قدموں میںلاکر آپ کی شادی کروادے گا۔فیل ہونے والے بچوں کی امتحان میں کامیابی کے لیے کسی پروفیسرصاحب نے اپنی اکیڈمی کا پتہ اور فون نمبر درج کر رکھے ہوں گے اور ساتھ ہدایت درج کردی ہوگی کہ بچے کو نوے دن کے لیے اکیڈمی بھیج دیں۔ باقی اللہ بہتر کرے گااور امتحان میں شاندار کامیابی ملے گی۔بے وفا شوہر کو قابوکرنے کے نسخے اور ہدایات بھی آپ کو انہی دیواروں پر لکھے ملیں گے ۔یہاں تک کہ بواسیر کا بغیر آپریشن کے صرف ایک ٹیکے سے علاج کی نوید بھی ان دیواروں پر درج نظر آئے گی ۔اب سوال یہ ہے کہ وہ ٹیکہ ایلوپیتھی ہے یا ہومیوپیتھی یا کوئی اور ؟ کیونکہ اب تک میڈیکل سائنس وہ دعویٰ نہیں کرپائی جو دیوار والے بابے نے کردیا ہے ۔اب اس بابے کے پاس ایسی کیا کرامت (لیکیویڈ کی صورت میں ) آگئی ہے کہ جس کو ڈسپوزیبل سرنج میں ڈال کر''دکھی انسانیت ''کی خدمت کرپرنے تُل گیا ہے ۔ سوال یہ بھی ہے کہ ملک کی تمام شاہراہوں پراس قسم کے تمام اشتہار جو لکھے جاتے ہیں کسی ثواب کی نیت سے تو لکھے نہیں جاتے بلکہ اس کے پیچھے کاروبار کا عنصر شامل ہوتا ہوگا۔اب ان نیم حکیموں کے پاس اپنی بواسیر کو ایک معجزاتی انجکشن سے ختم کرنے کیلئے لوگ جاتے ہوں گے تبھی تو ان حکیموں اور سنیاسیوں نے ملک کی دیواروں کواپنی گُل کاریوں سے آلودہ کررکھا ہے کیونکہ اگر انہیں کوئی ''گاہک'' میسر نہ آئے تو بھلا وہ کیوں پینٹروں کو فیس دے کر اس ''کار خیر ''کے لیے روانہ کریں ۔ ایسا کیا ہے جو ہم دوسروں سے مختلف ہیں ۔کیا وہ جعلی لوگ بہت سیانے ہیں کہ ہمیں دھوکہ دے جاتے ہیں یا ہم کچھ زیادہ ہی سادہ ہیں کہ بیوقوف بننے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں ۔شاید ہم اپنے مسائل کو عجلت میں حل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تبھی تو ہمارے احساس کا استحصال ہوتا ہے ۔ ہم اتنے عظیم لوگ ہیں کہ صرف چھ مہینوں میں لوڈ شیدنگ ختم کردینے کے دعوئوں پر ہم پوری حکومت منتخب کرلیتے ہیں اس سے بڑی اور کیا دلیل ہوگی ہماری سادگی کی ۔ایسی ہی ایک دیوار میڈیا کی بھی ہے کہ جس پر ہمارے سیاسی لیڈر صاحبان ہمارے جذباتی حوالوں کاخوب استحصال کرتے ہیں ۔ ہمیں ایسے خواب دکھاتے ہیںکہ جس کی کوئی تعبیر نہ ان کے پاس ہوتی ہے اور نہ ہی ہمارے پاس مگر اس دیوار پر لکھائی سے کسی کی دکان ضرور چل جاتی ہے ۔ایسا ہی ایک بیان مثال کے طور پر آپ سے شیئر کرتا ہو ں اور وہ بیان ہے قائد حزب اختلاف سیدخورشید شاہ کا ۔ان کے اس بیان پر حیرت ہوئی کہ جس میںانہوں نے فرمایا ہے کہ اگر ان کی حکومت آگئی تو وہ نوے دنوں میں کرپشن ختم کردیں گے ۔ یہ بیان جہاں عوام کی سادہ لوہی سے کھیلنے جیسا ہے وہیں مضحکہ خیز بھی ہے ۔دوسری بات یہ ہے کہ کرپشن کے خاتمے کو حکومت دلوانے سے ہی مشروط کیوں کیا جائے ؟ خورشید شاہ صاحب کا یہ کہنا کہ وہ کرپشن کا خاتمہ نوے دنوں میں کردیں گے اس کا مطلب ہے کہ پچھلی حکومت میں جو انہوں نے پانچ برس گزارے تھے اس میں انہیں یہ گُر معلوم نہیں تھا اب اچانک انہیں یہ الہام کیسے ہوگیا کہ اس بلا کو نوے دنوں میں ختم کیا جاسکتا ہے ۔ہوسکتا ہے کہ ان کی پارٹی کا کوئی ریسرچ ونگ بھی ہو کہ جس نے کرپشن کے خاتمے پرریسرچ مکمل کرلی ہو کہ جسے شاہ صاحب حکومت میں آنے کے بعد ہی استعمال کریں گے ۔اگر ایسا ہے تومیاں صاحب کو چاہیئے کہ وہ شاہ صاحب سے وہ نسخہ مستعار لے کر ایک برس پہلے ہی کرپشن ختم کرکے ثواب دارین حاصل کرلیں۔ بھلے سے وہ شاہ صاحب کو صدارت کا عہدہ دے دیں لیکن میاں صاحب کا قوم سے کرپشن کے خاتمے کا وعدہ تو پورا ہوجائے گا۔ہمارے ہاں ایک عجیب بات یہ بھی ہے کہ ہمارے رہنماؤں کے پاس دعوے تو بہت ہوتے ہیں لیکن ان دعوئوں کے حصول کا ایکشن پلان بالکل بھی نہیں ہوتا یا پھر وہ عوام کو سرپرائز دینے کی غرض سے وہ کلیہ دکھاتے ہی نہیں ۔جیسے پچھلے الیکشن میں ووٹر وں کے سامنے چند مہینوں میں لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کے دعوے کیے گئے تو عوام تالیاں پیٹنے میں اتنے مشغول ہوئے کہ انہوں نے لیڈر صاحب سے سوال ہی نہیں کیا کہ صاحب کیا پلاننگ ہے آپ کی جو آپ یہ دعویٰ کررہے ہیں ؟ یہاں بھی شاہ صاحب نے جذباتی بیان تو دے دیا لیکن بتایا نہیں کہ وہ ان نوے دنوں میں کیا چمتکار کریں گے کہ کرپشن کا ملک سے خاتمہ ہوجائے گا۔ کیا وہ قوم کو پولیو کی طرح کوئی ویکسین پلائیں گے یا کوئی ٹیکہ ہوگا یا کوئی ٹیلی پیتھی کا عمل کریں گے کہ جس سے نوے دنوں ہی میں کایا پلٹ جائے گی ۔اگر ایسا کوئی عمل کرنا ہے تو ابھی سے کردیں ۔شاہ صاحب کہ قوم اس کرپشن کے عذاب سے عاجز آچکی ہے ۔آپ وہ ویکسین قوم کو پلادیجئے میرا دعویٰ ہے قوم آپ ہی کو آئندہ الیکشن میں منتخب کرے گی ۔اور اگر کوئی تعویز کرنا ہے تو وہ بھی کرلیں تاکہ قوم کو کرپشن ہی بھول جائیں بلکہ اس تعویز کے ساتھ اپنے الیکشن جیتنے کے لیے بھی ایک تعویز کرلیں تو ایک'' تیر ''میں دو شکار ہوجائیں گے ۔ 

اداریہ