Daily Mashriq

بکھرے ہوئے دانے

بکھرے ہوئے دانے

کتنا پرسکون ماحول تھا سرخ قالین پر بڑے بڑے گائو تکیے بڑی نفاست کے ساتھ رکھے گئے تھے صاف ستھرے لباس میں ملبوس حکیم صاحب اس کمرے میں ایک خوبصورت اضافہ تھے۔ اس پرسکون فضا میں بیٹھ کر یوں محسوس ہورہا تھا جیسے وقت اپنی جگہ ٹھہر گیا ہو حکیم صاحب کی جاذب نظر شخصیت اور بولنے کا خوبصورت انداز ہر بات دل و دماغ میں جگہ بناتی چلی جارہی تھی۔ وہ بڑے دھیمے لب و لہجے میں اپنی بات جاری رکھے ہوئے تھے جسمانی بیماریوں کے حوالے سے ہمیں ہر وقت پریشانیاں گھیرے رکھتی ہیں۔ اگر شوگر ہے تو چینی سے پرہیز ضرور کرنا ہے بلڈ پریشر پریشان کرتا ہے نمک نہیں کھانا گولی وقت پہ لینی ہے ورنہ گڑ بڑ ہونے کا اندیشہ ہے۔ بہت سے سمجھدار لوگ صبح سویرے کسی باغ کی سیر ضرور کرتے ہیں کیونکہ انہیں اس بات کا خوف ہوتا ہے کہ اگرکولیسٹرول بڑھ گیا تو دل اٹکھیلیاں شروع کردے گا اسی طرح سوچتے چلے جائیے تو نت نئی بیماریوں سے ہمارا پالا پڑتا ہے اور ہم ان سے نجات حاصل کرنے کے لیے مختلف قسم کی احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں ۔اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ زندگی سے سب پیار کرتے ہیں یقینا زندگی اللہ پاک کی بہت بڑی نعمت ہے۔ اس کی قدر کرنی چاہیے ہم سب اپنی جسمانی صحت کا بہت زیادہ خیال رکھتے ہیںکتنا اچھا ہوتا اگر ہم اپنی روحانی صحت کا بھی اتنا ہی خیال رکھتے جتنا کہ ہمیں اپنی جسمانی صحت کا خیال ہوتا ہے ۔بہت کم خوش نصیب ایسے ہوتے ہیںجنہیں اپنی جسمانی صحت کے ساتھ ساتھ اپنی روحانی صحت کی فکر بھی ہوتی ہے وہ روحانی امراض سے بھی بچنے کی پوری پوری کوشش کرتے ہیںآج ہم بحیثیت مجموعی بہت سی روحانی بیماریوں میں الجھے ہوئے ہیں جو ہمیں گھن کی طرح اندر سے چاٹ رہی ہیںلیکن ہم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے بھی ان کا علاج نہیں کرتے !بہت سی جسمانی بیماریوں کی بنیادی وجہ بھی روحانی ہی ہوتی ہے۔ حسد ایک بہت ہی خطرناک روحانی بیماری ہے حسد کرنے والا ہر وقت حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے وہ اپنے بہن بھائیوں دوستوں کو ترقی کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو جل بھن اٹھتا ہے۔ر ہر وقت یہی سوچتا رہتا ہے کہ یہ لوگ اتنی تیزی سے ترقی کر رہے ہیں اور میں روز بروز روبہ زوال ہوں حسد کی وجہ سے اسے اپنے گریبان میں جھانکنے کا خیال ہی نہیں آتا۔ اسی طرح آج ہم نفاق میں مبتلا ہیں بچپن سے اتفاق کی برکات کے حوالے سے پڑھ رہے ہیں لیکن حرام ہے جو ہم پر تھوڑا سا اثر بھی ہوتا ہو آج دیکھیے تو گھر گھر بے اتفاقی نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ والدین کی آنکھیں بند ہوتے ہی ہم جائیداد کے جھگڑوں میں الجھ جاتے ہیں اور پھر ساری زندگی دیوانی مقدموں کی پیشیوں میں ہی گزر جاتی ہے انہی لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے وکیلوں کی دولت میں دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہورہی ہے۔ اگر قومی سطح پر نظر ڈالیے تو ہر طرف بے اتفاقی اور نفاق کا راج ہی نظر آتا ہے صوبائی تعصب عروج پر ہے رنگ نسل زبان کے جھگڑوں نے ہمیں ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ دشمن ہمیں نقصان پہنچانے کا کوئی موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔

حکیم صاحب کی پرمغز باتیں سن کر ہمیں اشفاق احمدمرحوم و مغفور یاد آگئے انہوں نے نفاق کی نحوست کے حوالے سے لکھا ہے ایک پھل فروش سے ایک نوجوان نے پوچھا کہ اس انگور کے گچھے کی کیا قیمت ہے؟ یہ ایک سو بیس روپے کلو ہے اس گچھے کے قریب ہی الگ سے کچھ مختلف ٹوٹے ہوئے انگوروں کے دانے بھی پڑے ہوئے تھے نوجوان نے ان بکھرے ہوئے دانوں کی قیمت بھی پوچھ لی ۔ پھل فروش نے ان دانوں کی قیمت پینتالیس روپے فی کلو بتائی نوجوان نے حیران ہو کر پوچھا کہ ان دانوں کے اتنے کم دام کیوں ہیں؟پھل فروش نے کہا کہ ہیں تو یہ بھی بہت عمدہ لیکن یہ گچھے سے ٹوٹ کر بکھر گئے ہیںاس لیے یہ کم قیمت ہیں۔اشفاق صاحب کہتے ہیں کہ بکھرے ہوئے دانوں کی کم قیمت نے میری سوچ کو بے اتفاقی کی نحوست کی طرف منتقل کردیا کہ انگور کے دانے جب گچھے میں ایک ساتھ جڑے ہوتے ہیں تو ان کی قیمت بھی زیادہ ہوتی ہے گاہک انہیں مہنگے داموں خرید لیتے ہیں لیکن یہی دانے جب بکھر جاتے ہیں تو اپنی قدروقیمت کھو دیتے ہیں! اس وقت میر ے ذہن میں یہ بات گردش کرنے لگی کہ اپنے معاشرے اور خاندان سے الگ ہونے پر ہماری قیمت آدھی سے بھی کم رہ جاتی ہے۔ یقینا اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اتحاد و اتفاق میں طاقت ہے دنیا میں اتحاد و اتفاق ہی کی وجہ سے بہت سی قوموں نے عروج حاصل کیا لیکن جب وہ نفاق کا شکار ہوئیں تو اس روحانی بیماری نے انہیںانتہائی لاغر و کمزور کردیا اور وہ دشمن کے لیے تر نوالہ ثابت ہوئیں۔اتفاق جب مٹی نے کیا تو وہ اینٹ بن گئی، یہی اتفاق جب اینٹوں نے کیا تو دیوار بن گئی، دیوار نے کیا تو گھر عالم وجود میں آگیا ۔ مٹی ، اینٹ، دیواریہ سب بے جان چیزیں ہیں یہ جب ایک ہوسکتی ہیں تو ہم تو انسان ہیں ہم ایک کیوں نہیں ہوسکتے؟ اس پر ضرور سوچیئے گا!

اداریہ