امریکی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد

امریکی وزیر خارجہ کی اسلام آباد آمد

امریکہ کے وزیر خارجہ جیمز میٹس وہی مطالبات لے کر آج اسلام آباد آ رہے ہیں جن کا ذکر امریکہ کی طرف سے گزشتہ دو اڑھائی ماہ کے دوران متعدد بار ہو چکا ہے اور پاکستان کی طرف سے اتنی ہی بار ان پر ردِعمل کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ امریکہ کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کرے اور پاکستان اتنی ہی بار یہ وضاحت کر چکا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے نہیں ہیں۔ پاکستان کی طرف سے یہ پیش کش کی جا چکی ہے کہ امریکہ جن معلومات کی بنا پر یہ اصرار کرتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں ان معلومات کے حوالے سے پاکستان کو شریک کرے اور پاکستان ان ٹھکانوں پر کارروائی کرے گا۔ یہ پیش کش کئی ہفتے پہلے کی گئی تھی لیکن اب تک ایسا کوئی واقعہ سامنے نہیں آیا کہ امریکہ نے کوئی انٹیلی جنس فراہم کی ہو۔ لہٰذا کوئی ایسی کارروائی بھی سامنے نہیں آئی جو امریکہ کی فراہم کردہ انٹیلی جنس کی بنا پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کی گئی ہو۔ البتہ چند روز پہلے پاک افعان سرحد کے قریب ایک امریکی ڈرون حملے میں طالبان کے ایک کمانڈر کی ہلاکت کی خبر ضرورآئی تھی۔ امریکہ کو پاکستان کے بارے میں جتنی وقیع انٹیلی جنس حاصل ہے اس کا اندازہ سابق صدر اوباما کے نئی دلی میں اس بیان سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اسامہ بن لادن کے پاکستان میں ٹھکانے کا پاکستان کی حکومت کو علم نہیں تھا ۔ اسامہ بن لادن پر حملے کا حکم خود سابق صدر اوباما نے دیا تھا ۔ ان شواہد کی بنا پر اس بات پر یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے کہ امریکی خفیہ اداروںکو پاکستان کے بارے میں وسیع معلومات حاصل ہیں اور اگر ان کے علم میں ہوتا کہ پاکستان کی سرزمین کے کسی علاقے میں طالبان کے ٹھکانے ہیں تو وہ ضرور پاکستان کی اس پیش کش کو آزما سکتے تھے کہ امریکہ طالبان کے ٹھکانوں کی نشاندہی کرے‘ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے گا۔ یوں بھی کسی مسلح گروپ کا ٹھکانہ نہ کسی مقامی آبادی سے پوشیدہ رہ سکتا ہے اور نہ امریکی انٹیلی جنس کے وسائل سے خفیہ رہ سکتا ہے۔ یہ کہ پاکستان میں افغان طالبان کے کوئی ٹھکانے نہیں ہیں، اس بات سے ظاہر ہے کہ پاکستان کی کارروائی کرنے کی پیش کش کے جواب میں کوئی انٹیلی جنس فراہم نہیں کی گئی جس کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکتی۔ اس کے بعد چند اہم امریکیوں کی جانب سے ایسی باتیں سامنے آئیں کہ طالبان کے برسر میدان نبرد آزما قیادت تو افغانستان میں ہے لیکن افغان طالبان کی مرکزی قیادت پاکستان میں مقیم ہے، یہ امکان قابلِ غور ہو سکتا ہے۔ اگر اسامہ بن لادن اپنے پورے خاندان سمیت پاکستان میں مقیم رہ سکتا ہے تو افغان طالبان کے کچھ مرکزی قائدین بھی ایسا بندوبست کر سکتے ہیں۔ پاکستان کی بیس کروڑ آبادی میں خاص طور پر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں مقیم تیس لاکھ افغانوں میں چند افراد کا پوشیدہ رہنا مشکل ضرور ہے لیکن بعید از قیاس نہیں۔ ان تیس لاکھ افغان باشندوں کی وجہ سے حکومت پاکستان کو خود مشکلات کا سامنا ہے۔ ایک تو یہ لوگ پشاور اور کوئٹہ سے کراچی تک کاروبار کرتے ہیں دوسرے پاک افغان سرحد کے آر پار روزانہ ان کی آمدورفت جاری رہتی ہے۔ اس لاکھوں کی تعداد میں کسی اِکا دُکا شخص کی شناخت جنگل میں سوئی تلاش کرنے کے مترادف ہے۔ انہی افغان باشندوں میں آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں فرار ہو کر افغانستان میں ٹھکانے بنانے والے تحریک طالبان پاکستان کے عناصر بھی یقینا ہیں جو ان کے سہولت کار ہیں۔ ایگریکلچر انسٹی ٹیوٹ پشاور پر گزشتہ روز کے بہیمانہ دہشت گرد حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے افغانستان سے قبول کی ہے اور ابتدائی تحقیقات کے نتیجے میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ دہشت گرد افغانستان میں اپنے سرپرستوں سے رابطے میں تھے۔ افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کو بھارت کی خفیہ ایجنسی ’را‘ کی سرپرستی حاصل ہے جو ان کے پاکستان میں گرفتار ہونے والے ترجمان کے اعترافی بیان کا حصہ ہے۔ اس لیے افغانستان میں کسی اقدام سے پہلے یہ ضروری ہے کہ پاکستان میں موجود افغان باشندے اپنے وطن واپس جائیں۔ پاک افغان سرحد کی مکمل باڑھ بندی کی جائے اور دونوں ملکوں کے درمیان دستاویزات کی بنیاد پر آمدورفت باقاعدہ بنائی جائے۔ جیمز میٹس نے حالیہ دورے کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وزیر دفاع کی حیثیت سے ان کا پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہو گا لیکن اس سے پہلے بھی وہ پاکستان آ چکے ہیں۔ اس لیے ان کو پاک افغان صورت حال کا اور پاکستان کو افغان سرحد کے پار سے متواتر دہشت گرد حملوں کا جو سامنا ہے اس کے بارے میں کافی معلومات ہوں گی۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کارروائی کے لیے بھی کہیں گے اور یہ سوال کریں گے کہ صدر ٹرمپ کی افغانستان میں مفاہمت کی جو پالیسی ہے اس میں معاونت کے بارے میں پاکستان کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔جہاں تک افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے قائل کرنے کی بات ہے پاکستان اس حوالے سے کم از کم دو بار کوشش کر چکا ہے جن میں سے ایک بھارت کی خفیہ ایجنسی نے افغانستان کی خفیہ ایجنسی کے ذریعے سبوتاژ کی اور دوسری ملا منصور پر امریکہ کے ڈرون حملہ نے ناکام بنائی۔ مصالحت یا مفاہمت کے لیے افغان طالبان کی شرائط واضح ہیں کہ وہ تیسری کسی طاقت کی شمولیت کے بغیر افغانستان میں امن و استحکام کو خالص افغانوں کی کوشش اور مذاکرات کے ذریعے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس میںتاخیر کی وجہ سے ایک تو افغانستان میں داعش ایسی دیگر انتہا پسند تنظیمیں قدم جما چکی ہیں دوسرے وہاں منشیات اور معدنیات کے تاجروں کے غیر قانونی گروہ طاقتور ہو چکے ہیں اور تیسرے افغان طالبان اپنے زیر انتظام علاقے میں مضبوط ہو چکے ہیں۔ تاہم طالبان کی اب دوسری نسل کی قیادت ہے جس سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ امن کے بارے میں سابقہ قیادت کی نسبت زیادہ دلچسپی کے حامل ہو گی۔ لیکن ٹرمپ کی پالیسی پر نظر رکھنے والوں کا خیال ہے کہ اس پالیسی کا مقصد یہ ہے کہ طالبان کو مذاکرات کی میز پر اس قدر کمزور کرنے کے بعد لایا جائے کہ ان کے پاس امریکہ اور افغان حکومت کی شرائط قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہ ہو۔ اس کے لیے یہ ضروری سمجھا جا رہا ہے کہ ایک طرف امریکی اور افغان فوج طالبان پر حملہ آور ہوں اور دوسری طرف پاکستان کی فورسز ان کے خلاف نبرد آزما ہوں۔ اس قسم کی منصوبہ بندی میں کم از کم دو اسقام ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر فوجی کارروائی نہیں کرے گاجو بین الاقوامی اصولوں کے منافی ہے۔ دوسرے یہ کہ اگر امریکی اور افغان فوجیں طالبان کے زیر تسلط علاقے پر حملہ کریں گی اور انہیں پسپا کرنے میں کامیاب ہوں گی تو افغان جنگجو اور غیر جنگجو پاکستان کا رُخ کریں گے اور دو ہزار چار سو کلومیٹر کی سرحد پر انہیں روکنے کے لیے افرادی قوت لانا محال ہوگا۔ اگر امریکہ انہیں فضائی قوت سے اور افغان فوج برسرزمین کارروائی کے ذریعے طالبان کو ان کے زیر تسلط علاقے سے پسپا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی تو برسرزمین افغان فوج اس علاقے پر قبضہ برقرار نہیں رکھ سکے گی کیونکہ افغانستان کے تقریباً آدھے علاقے کے لوگ جہاں طالبان حکمران ہیں طالبان کے طرز عدل و انصاف اور طرز انتظام کے عادی ہیں اور اسے پسند کرتے ہیں۔ (ورنہ طالبان اس علاقے پر قابض نہیں رہ سکتے تھے) لہٰذا امریکی اور افغان فوج کو کامیابی نصیب نہیں ہو گی اور پاکستان کے لیے بے شمار مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ اس لیے جیمز میٹس کے لیے صائب مشورہ یہی ہو گا کہ وہ طالبان کوکمزور کرنے کے بعد مذاکرات کی بجائے قوت آزمائی کے بغیر ان سے مذاکرات کا راستہ اپنائیں۔

اداریہ