دھرنوں کے بعد

دھرنوں کے بعد

اسلام آباد اور لاہور میں مذہبی جماعت کے دونوں دھڑـوں کے دھرنے ختم ہو گئے ہیں لیکن جن معاہدوں کے تحت یہ دھرنے ختم ہوئے ہیں ان کی شرائط پر عملدرآمد ہونا ابھی باقی ہے۔ دونوں دھڑوں کا مطالبہ ہے کہ متنازعہ ترمیم کے بارے میں راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ شائع کی جائے ۔ اس رپورٹ کے بارے میں ایک رپورٹر جس کا دعویٰ ہے کہ اس نے یہ رپورٹ پڑھی ہے اور اس کی تفصیل بھی شائع کی ہے۔ اس کا کہنا ہے اس رپورٹ میں متنازع ترمیم کے محرک کی واضح نشاندہی نہیں کی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ راجہ صاحب نے ساری پارلیمنٹ کو ذمہ دار قرار دیا ہے جس نے متنازعہ ترمیم کے ساتھ قانون منظور کیا تھا( جو بعد میں واپس لے لی گئی) لیکن دھرنے والے مصر ہیں کہ اس ترمیم کے محرک یا محرکین کو سامنے لایا جائے جنہوں نے اول اول یہ ترمیم بل میں شامل کی۔ اس کے بعد وہ اپنے آئندہ لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ لاہور کے دھرنے والوں کا پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ کے بارے میں موقف اب تک قائم ہے کہ وہ اپنے بیان کی وضاحت کریں۔ یہ بھی کہاجا رہا ہے کہ وہ تجدید ایمان کریں۔ رانا صاحب کہتے ہیں کہ اپنا استعفیٰ سابق وزیر اعظم ن لیگ کے صدر میاں نواز شریف کو پیش کریں گے کسی اور کو نہیں۔ یعنی انہوں نے دھرنے والوں کا مطالبہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ دیگر مذہبی تنظیمیں بھی اس حساس دینی معاملے پر متوجہ ہو چکی ہیں۔ حکومت کی طرف سے یہ بھی کہا جار ہا ہے کہ بغیر ذمہ داری کا تعین کیے رانا ثناء اللہ سے کیسے استعفیٰ لیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بغیر ذمہ داری کا تعین کیے وفاقی وزیر قانون زاہد حامدسے استعفیٰ لیا جا چکا ہے۔ ان حالات میں حکومت کے کیلئے یہ ضروری ہو گیا ہے کہ راجہ ظفر الحق کی رپورٹ کے عام کرنے کی تاریخ سے پہلے پہلے تمام دینی جماعتوں اور پارلیمانی جماعتوں سے مشاورت کرکے اس معاملے کو سب کے لیے قابل ِ قبول انداز میں سلجھائے ورنہ رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد نئے سرے سے تنازع کے اُٹھ کھڑے ہونے کا امکان رہے گا۔

اداریہ