Daily Mashriq


ہرموسم میں ساتھ رہے ہیں پاکستان اور میں

ہرموسم میں ساتھ رہے ہیں پاکستان اور میں

اک ٹہنی پر پھولے پھلے ہیں پاکستان اور میں 

ہرموسم میں ساتھ رہے ہیں پاکستان اور میں

کالی رات، ہوا طوفانی، مولا پار اتار!

ایک ہی کشتی میں بیٹھے ہیں پاکستان اور میں

غافل بھی نہیں رہنے دیتی خوف سمے کی رات

باری باری سولیتے ہیں پاکستان اور میں

اور بھی کچھ وقت لگے گا تھکن اتارنے میں

ہجرت کرکے آئے ہیں پاکستان اور میں

اپنی مثال تو یوں ہے تابش جیسے دو مجذوب

اپنے آپ میں گم رہتے ہیں پاکستان اور میں

عباس تابش ان شاعروں میں شمار ہوتے ہیں کہ جنہوں نے پاکستان کواپنی شاعری میں ایک سبجیکٹ کے طور پر پیش کیا ۔یوں تو مطالعہ پاکستان میں پاکستان کا سبجیکٹ سمجھا جاتا ہے لیکن وہ اتنا سٹیریوٹائپ ہے کہ روح سے عاری لگتا ہے ۔ پاکستان صرف شہروں، قصبوں، گاؤں، کھیتوں ، کھلیانوں ،پہاڑوں ، دریاؤں ، صحراؤں کا نام نہیں ہیں بلکہ یہ ایک زندہ وجود کا نام ہے ۔شاید پاکستان کو کسی نصابی صورت میں سمجھنا یا سمجھانا ممکن بھی نہ ہو۔بے شک یہ کام ایک شاعر کا ہی ہے ۔ یہ غزل اسی ادراک کے احساس سے مملو ہے۔ان اشعار میں پاکستان کی تجسیم (Personification)کرکے اسے ایک جیتا جاگتا کردار بنادیا گیا ہے اور پھر فرد کے کرب اور پاکستان کے کرب کو ایک اجتماعی احساس کے ساتھ دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ہوایہ ہے کہ مادہ پرستی کے نقطہ نظر سے چیزوں کودیکھا جائے تو چیزوں کے افادی پہلو ہی دیکھے جاتے ہیں۔چاہے وہ چیزیں کتنی بے جان ہی کیوں نہ ہوں۔بے جان چیزوں کے ساتھ محبت تو ہوہی نہیں سکتی ہاں ان کی قدروقیمت ضرور ہوتی ہے اور یہ قدر وقیمت مارکیٹ ویلیوجیسی ہوتی ہے ،بالکل جیسے سونے کا نرخ صرافہ بازار میں برھتاگھٹتا ہے ۔وطن قطعاًکوئی مادی چیز نہیں ہوتا بلکہ ایک روحانی کیفیت کا حامل حوالہ رکھتا ہے۔وطن کے روحانی حوالوں کی آبیاری سماج میں رائج قدریں کرتی ہیں ۔یہ قدریں اسی زمین کی پیداوار ہوتی ہیں اور اسی زمین میں یہ قدریں اپنی جڑیں بھی رکھتی ہیں۔سینہ بہ سینہ یہ قدریں ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتی ہیں۔ ان قدروں کی آکسیجن سماج میں بسنے والوں کی ان کے ساتھ کی جانے والی محبت کے سوا کچھ نہیں ہوتی مگر وطن کی جسے ماں کہا جاتا ہے اسی ماں کو جب ڈِس اون کردیا جائے تو پھر قدریں کہاںزندہ بچ سکتی ہیں ۔حالانکہ ماں تو ماں ہوتی ہے اور بقول عباس تابش کہ

ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش

میں نے ایک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

خو ف تو ہوتا ہی ہے خوفناک اور ہجرتوں پر منتج ہوتا ہے ۔خوف کے خاتمے کے لیے دِلاسہ بہت ضروری ہے مگر کوئی تو ہو جو دلاسہ دے ۔یہاں تو ہر روح گھائل ہے ،ایک گھائل روح دوسری مجروح روح کو کیا دلاسہ دے گی۔یہاں تو پرسے پر پرسہ دینے کی رسم چل نکلی ہے ،موت کا رقص جب مقدر بن جائے تو خواب ہی دیکھے جاسکتے ہیں ۔خوابوں کا سلسلہ تو رکتا نہیں ۔خواب بھی کتنی بڑی نعمت ہوتے ہیں ،اگر خواب نہ ہوتے تو جینا کتنا مشکل ہوجاتا ۔ہم بھی آدھی زندگی خواب دیکھنے میں بِتا دیتے ہیں اور آدھی زندگی ان خوابوں کوحقیقت بننے کے ’’خواب ‘‘دیکھنے میںکٹ جاتی ہے ۔وطن کی محبت میں ہر زبان میں بے شمار نغمے موجود ہیں۔مگر وہی نغمے دلوں کے سفر میں منزل تک پہنچتے ہیں جو احساس کے رستے پرچل کر آئے ہوں۔مگر ہمارے ہاں احساس کو جذبوں تلے دبا کر معطل کردیاگیاہے ۔ہمارا سماج ان سماجوں میں شامل ہے کہ جہاں جذبوں کو ان کی آخری ڈگری میں جیا جاتا ہے ۔جہاںمحبتیں ،نفرتیں ،دوستیاں ،دشمنیاں سب اپنی پوری شدت کے ساتھ دیکھی جاسکتی ہیں۔جذبوں کی ایسی شدت میں احساس کا قتل ہوہی جاتا ہے ۔ہمارے احساس قتل ہوچکے ہیں مگر کسی سڑک ،کسی گلی ،کسی فٹ پاتھ پر احساس کا لہو بکھرا پڑانہیں دکھائی دیتا ۔شاید وہ سڑکیں ،وہ گلیاں اور وہ فٹ پاتھ ہمارے اپنے اندر ہی کہیں پناہ گزین ہوچکے ہیں کہ جن پر ہمارے احساس کے چھینٹے پڑے ہیں۔ہر کہانی کے کلائمکس کی شدتوں کے بعد اس کہانی کا اینٹی کلائمکس آجاتا ہے ۔کلائمکس اور اینٹی کلائمکس میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ اینٹی کلائمکس شروع ہوبھی جاتا ہے مگر ناظر کو احساس ہی نہیں ہو پاتا کہ اینٹی کلائمکس شروع ہوچکاہے۔ہماری اس ٹریجیڈی میںکلائمکس کچھ زیادہ ہی طویل تھامگر یہ طے ہے کہ ہماری ٹریجیڈی کااینٹی کلائمکس تو شروع ہوچکا ہے ۔مگر کرنا کیا ہے کوئی نہیں جانتا ،انجام کیا ہے کہانی کا،صرف میرارب ہی جانتا ہے ۔مگر خوفناک ٹریجیڈی میں ایک پوئٹک جسٹس(Poetic justice) بھی ہوتاہے اور وہ اس قدرت کا انصاف ہوتا ہے کہ جواٹل اور آفاقی ہوتا ہے ۔اب دیکھنا اتنا ہے کہ عام کردار جو بے چہرگی کے ساتھ کہانی میں موجود تھے مگر اس ساری کہانی کا حصہ نہ تھے وہ اس اینٹی کلائمکس میں کہاں کھڑے ہوتے ہیں۔یہی وہ سوچ ہے کہ جو جینے کا حوصلہ دیتی ہے ،حوصلہ نہ ہوتودشت کیا گلزار میں جینا مشکل ہوجاتا ہے۔یہی حوصلہ جینے کی امید قراردیا جاتا ہے اور امید ہی تو زندگی ہے ،امید ہی تو جیت ہے ،امید ہی تو انسان ہے ،انسان تو زندہ ہے پھر امید کیسے مرسکتی ہے ۔امید کو تو موت بھی نہیں ہرا سکتی کیونکہ بقول عباس تابش

پانی آنکھ میں بھر کر لایا جاسکتا ہے

اب بھی جلتا شہر بچایاجاسکتا ہے

متعلقہ خبریں