Daily Mashriq


بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے عمران خان کو سیاسی میدان کا فسادی بابا قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر سار اپاکستان بھی مستعفی ہو جائے تو عمران خان کی باری نہیں آئے گی ۔ یوں وزیر داخلہ نے پنجابی زبان کے اس لطیفے کی جانب توجہ دلائی ہے جو کچھ یوں ہے کہ کسی گائوں کا چوہدری مرجاتا ہے تو گائوں کے میراثی کا بیٹا آکر باپ سے پوچھتا ہے ، ابا چوہدری صاحب تو مرگئے ہیں اب ان کی جگہ چوہدری کون بنے گا ؟ میراثی کہتا ہے ، چوہدری کا بیٹا اس کی جگہ سنبھالے گا ،میراثی کا بیٹا پوچھتا ہے ، اگر وہ بھی مر جائے تو ؟ جواب ملتا ہے ، پھر گائوں کے نمبردار کو پنڈ کے لوگ پگڑی پہنا کر چوہدری بنادیں گے ۔ اگر وہ بھی مر جائے تو ؟ یوں میراثی ایک کی جگہ دوسرے کا نام لیتا ہے ، آخر میں جب میراثی کا بیٹا گائوں کے مولوی صاحب کے چوہدری بننے پر پھر سوال دوہراتا ہے کہ ان کے بعد کس کا نمبر آئے گا ۔ تو میراثی اسے کہتا ہے ، بیٹا تو فکر نہ کر ، اگر سارا گائوں بھی مرجائے تو تجھے کسی نے چوہدری نہیں بنانا ۔ بات لطیفے تک رہتی تو چلئے مان لیتے ہیں میراثی کے بیٹے کانمبر کبھی نہیں آتا ، لیکن عمران خان عرف بقول احسن اقبال فسادی بابا کا نمبر کیوں نہیں آسکتا ۔ اسے پشتو زبان میں اگر اس صورتحال سے تشبیہہ دی جائے جو ’’دتبے دتاوہ غگیدل ‘‘یعنی بخار کی شدت میں اول فول بولنا کہلاتا ہے ، تو شاید نا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ عمران خان تو گزشتہ چار ساڑھے چار سال سے جو دعوے کر رہے ہیں اور خصوصاً ان کے نور تنوں کی ٹولی تو اتر کے ساتھ یہی راگ الاپ رہے ہیں کہ آنے والی حکومت میں وزیر اعظم عمران خان ہوں گے ، جبکہ اس راگ کو ایک بار پھر بقول لیگی حلقوں کے راولپنڈی کا طوطا فال شیخ رشید سند کا ٹھپہ لگا کر مہمیز کررہے ہیں ۔ اس لئے اس دعوے کو نہ ماننے کی کوئی وجہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ ’’فسادی بابا‘‘ خود اپنے ہی کہے الفاظ سے خود کو آشکار کرنے کی حرکتیں فرماتے رہتے ہیں یعنی بقول شاعر 

میں نہیں مانتا کاغذ پہ لکھا شجرہ نسب

بات کرنے سے قبیلے کا پتہ چلتا ہے

اور وہ یوں کہ گزشتہ روز اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے جو کہا اس پر پہلے تو لو ، پھر بولو کا اصول کسی طور بھی منطبق نہیں ہو سکتا موصوف نے کہا کہ حلف نامے میں ترمیم ایک لا بی کیلئے خوش کرنے کی کوشش تھی ، فوج نہ آتی تو شاید دھرنے کا معاملہ مزید خطرناک ہو جاتا اور ملک میں انتشار پھیل جاتا ، دھرنا مظاہرین سے فوج کی ضمانت پر طے پانے والے معاہدے نے ملک کو افراتفری سے بچالیا ، ختم نبو ت ؐ کا معاملہ انتہائی سنجید ہ تھا جس کے اختتام پر میں نے صبح اٹھ کر شکرانے کے نوافل ادا کئے ، جب دھرنا مظاہرین کے خلاف پولیس نے ایکشن لیا تو پی ٹی آئی کارکنوں کا مجھ پر سڑکو ں پر نکلنے اور دھرنے میں شرکت کیلئے شدید دبائو تھا ، حلف نامہ میں ترمیم بین الاقوامی لابی کو خوش کرنے کیلئے کی گئی ، اب ان کے خیالات کا تجزیہ کرتے ہیں ، ایک توان کے صبح اٹھ کر نوافل ادا کرنے پر آجکل فیس بک اور ٹویٹر پر خوبصورت تجزیہ آرہا ہے کہ عمران خان نے کس وقت نوافل ادا کئے ؟کیونکہ فجر کی نماز کے بعد نوافل ادا کئے ہی نہیں جا سکتے ، دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے موصوف کے اس دعوے کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر الیکشن ایکٹ کے پیچھے انٹر نیشنل لابی تھی تو عمران اور اس کے سیاسی استاد بھی اس میںملوث ہیں حقیقت بھی یہی ہے کہ جس ترمیم پر اتنی لے دے ہوئی ۔ ایک دینی حلقے نے فیض آباد میں دھرنا دیا اور جڑواں شہروں کے رہائیشیوں کو 22/20دن تک شدید مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس ترمیم میں پارلیمنٹ میں موجود کئی سیاسی جماعتیں کردار ادا کرتی دکھائی دے رہی ہیں ، اور کسی بھی سیاسی جماعت نے ماسوائے سینیٹر حمداللہ کے اس جانب توجہ دلائی نہ اعتراض کیا ، توپھر عمران خان کی جماعت کیسے بری الذمہ ہو سکتی ہے ؟ دوسری بات عمران خان کا یہ دعویٰ کہ ان پر اپنی جماعت کے کارکنوں کی جانب سے دھرنے میں شرکت کیلئے شدید دبائو تھا ، فساد کو مہمیز دینے کی ان کی دیرینہ خواہش ہی ہے ، کیونکہ وہ دوبار کے دھرنے سے جو مقاصد حاصل نہیں کر سکے ۔ اب کی بار ان کے خواب کو تعبیر ملنے کی امید ہی ہو سکتی تھی ۔ اور شاید اسی وجہ سے احسن اقبال نے انہیں فسادی بابا کا خطاب دیا ہے ۔ جبکہ خود اپنی ہی بات کی تردید کرتے ہوئے اگلے ہی لمحے عمران خان عجیب منطق فرماتے ہیں ، یعنی موجودہ حالات سے نکلنے کا حل قبل از وقت انتخابات اور ساتھ ہی کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت جب تک رہے گی خود ان کو فائدہ ہوگا اور ان کی پارٹی مضبوط ہوگی ۔ اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ پھر انہیں انتخابات کی جلدی کیوں ہے ؟ کیوں نہ وہ اس مدت سے یعنی جب تک موجودہ حکومت رہتی ہے موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی پارٹی کو مزید مضبوط کریں اور طاقت حاصل کرکے احسن اقبال کے اس دعوے کو غلط ثابت کردیں کہ سارا پاکستان بھی مستعفی ہو جائے عمران کی باری نہیں آئے گی ۔ ویسے یہ الگ بات ہے کہ سیاسی حالات جس ڈگر پر جارہے ہیں ان میں انتخابات کے قبل از وقت تو کیا ، اپنے وقت پر بھی انعقاد کے امکانات دکھائی نہیں دیتے ، کیونکہ ابھی تک حلقہ بندیوں کے حوالے سے بل سینیٹ میں معلق ہو چکا ہے اور دوسری جانب ٹیکنو کریٹ حکومت کے قیام کی سن گن بھی ہور ہی ہے جس کیلئے بطور وزیر اعظم عمران خان ہی کے پارٹی سے نکالے ہوئے جسٹس (ر) وجیہہ الدین کانام لیا جارہا ہے ۔ تو پھر کیا فرماتے ہیں تحریک انصاف کے بزرجمہر اس صورتحال پر ؟؟۔

متعلقہ خبریں