کیا اسلامی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے؟

کیا اسلامی ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے؟

جس زمانے میں اسرائیل قائم ہوا وہ بھی بہت پر آشوب زمانہ تھا۔ مغربی استعمار نے عثمانی خلافت کے انہدام کے بعد عالم اسلام کے ٹکڑے ٹکڑے کرکے اسے تقسیم کردیا تھا۔ لیکن اس کے باوجود بحیثیت امت و قوم مسلمانوں میں اتنی دم خم پھر بھی باقی تھی کہ اسرائیل کے قیام کو مغرب کا ناجائز مولود و تخلیق کہہ کر سختی کے ساتھ ٹکرا رہے تھے اور یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ عالم اسلام میں کوئی ملک اسرائیل کو تسلیم کرے گا اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بھی کرے گا۔ طاقت حاصل کرنے کے بعد اسرائیل کی پہلی ترجیح یہ رہی کہ عالم اسلام میں بالعموم اور مشرق وسطیٰ میں بالخصوص اس کے مقابلے کا کوئی ملک و ریاست باقی نہ رہے۔ اس منصوبے پر اسرائیل نے اپنے آقائوں کی آشیر باد کے ساتھ اسی انداز میں عمل کیا جس کا ذکر قرآن کریم میں ہوا ہے کہ ’’ ان کے منصوبے (عزائم‘‘ اتنے (گہرے) ہوتے ہیں کہ پہاڑ ہل جائیں‘‘۔ عراق واحد عرب ملک تھا جس کی اکانومی اور افرادی قوت بہت بہتر تھی اور وہ فلسطین کی آزادی کے لئے لڑنے والوں کو سپورٹ کرتا تھا۔ مصر بھی افرادی قوت اور عسکری لحاظ سے عرب ممالک میں سر فہرست تھا۔ 1967 اور1973ء کی جنگوں میں امریکہ اور مغرب نے اسرائیل کو اس انداز میں سپورٹ کیا کہ مصر کے مرد آہن جمال عبدالناصر کو بہت بری طرح شکست ہوئی اور اسی غم میں گھل کر مرگئے۔ بعد میں آنے والے اسرائیل سے اتنے مرعوب ہوئے کہ انور السادات اسرائیل کے ساتھ اپنی مقبوضہ سر زمین کو چھڑانے کے لئے مذاکرات پر مجبور ہوگئے اور جب مصر مذاکرات کی میز پر آیا تو یاسر عرفات بھی بامر مجبوری ہی سہی مان گئے اور پھر وہ ہوا جس کا کبھی گمان و تصور بھی نہیں تھا۔ مصر نے اسرائیل کو تسلیم کرلیا اور ترکی تو مصطفی اتا ترک کی ماڈرن ازم کے طفیل کب کا تسلیم کرچکا تھا۔ پھر یہ بات وقتاً فوقتاً اٹھتی رہی کہ آخر اسرائیل جو اقوام متحدہ کا رکن ہے اور امریکہ کی محبت کے سبب بہت طاقتور ہے زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر کیوں تسلیم نہ کیا جائے۔اسرائیل کے آس پاس کمزور عرب ممالک تو کب سے اس آرزو کی تکمیل میں سوکھے جا رہے تھے لیکن پاکستان‘ سعودی عرب‘ عراق اور شام جیسے ملکوں کی سخت گیری اور بجا موقف کے سبب یہ معاملہ ٹلتا ہی رہا۔ یہاں تک عرب سپرنگ برپا کرکے عرب ممالک کو عجیب ہیجان میں مبتلا کیاگیا۔ عراق‘ شام اور لیبیا کے حکمرانوں سے ہزار اختلافات ہوسکتے ہیں او ر ان کی آمریتوں نے کئی مصیبتیں کھڑی کی تھیں لیکن اس بات سے کون انکار کرسکتا ہے کہ یہی تین عرب ملک تھے جو اسرائیل کے سامنے بہر حال جھکنے والے نہیں تھے۔ پاکستان تو عربوں کی محبت میں ہمیشہ سے اسرائیل کے استسلام کو رد کرتا رہا ہے اورمسئلہ فلسطین کو اخلاقی ‘ سیاسی اور سفارتی سپورٹ فراہم کرتا رہا ہے اور اسرائیل کے تسلیم کرنے کے حوالے سے دور دور تک کوئی تصور پاکستانیوں کے ہاں موجود نہیں۔ حالانکہ ایک زمانے میں جب ایک طاقتور آمر نے امریکہ میں یہودی لابی سے ملاقات کی تو پاکستان میں اکا دکا آواز آنا شروع ہوئی کہ آخر اسرائیل سے تین چار ہزار میٹر دور رہتے ہوئے ہمیں اُن سے سفارتی تعلقات استوار کرنے میں کیا تکلیف ہے ۔ ۔۔اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے سے پاکستان کو عالمی سطح پر اور بالخصوص بھارت کے ساتھ اسرائیل کے پاکستان دشمنی کے سبب خصوصی تعلقات سے نقصان کا سامنا ہوتا رہتا ہے لیکن شکر ہے کہ وہ بات اپنی موت آپ مر گئی اگرچہ یار لوگوں نے اُس وقت یہ بات بھی اُڑائی کہ ایک وقت آئے گا کہ سارے عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے اور پھر کہیں ایسانہ ہو کہ پاکستان اکیلا رہ جائے ۔ گزشتہ چار پانچ برسوں کے عالمی حالات کو دیکھتے سنتے مجھے پہلی بار خدشہ پیدا ہوا تھا کہ شاید اسرائیل کو عرب اور دیگر مسلم ممالک سے اُن کے ہاتھ مروڑ کر تسلیم کروانے کیلئے بڑی منصوبہ بندی جاری ہے ۔ اور اس کا اظہار پچھلے دنوں پاکستانی میڈیا میں اسرائیل کے اس دعوے کی صورت میں ہوا کہ کئی مسلم ممالک سے رابطے ہیں ۔لیکن اُنہوں نے رابطے خفیہ رکھنے کی درخواست کی ہے ۔ اس خبر کے دو دن بعد سوشل میڈیا پر وائرل بن تسیون کی تصویر سامنے آئی جس میں وہ عربوں کے لباس میں مسجد نبوی کے اندر موجود ہے ۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ شخص ایران کے مذہبی شہر قم کا دورہ بھی کر چکا ہے اُس نے اپنے فیس بک پر بھی تصویر شیئر کرتے ہوئے یہ بھی کہا ہے کہ مجھے اسرائیل اور یہودیوں سے محبت ہے ۔ یہ اُس کا حق ہے لیکن اسرائیل اور یہودیوں سے محبت کرنے والا مسلمانوں سے محبت کا دعویٰ کیسے جتا سکتا ہے ۔ دیکھنا یہ چاہیئے کہ اس نے کس پاسپورٹ پر ایران اور سعودی عرب کا سفر کیا ہے ۔ کہیں یہ لارنس آف عربیا کا ساشے پیک تو نہیںہے ۔ اور عرب ممالک بالخصوص سعود ی عرب جس صورت حال سے دو چار ہے کہیں اسرائیل سے تعاون ومدد کی ضرورت تو نہیں آپڑی ہے ۔ اسی تناظر میں یہ خبر بھی مسلمان ممالک بالخصوص پاکستان کے لئے قابل غور ہے کہ سعودی عرب پر دہشت گرد اور میزائیل حملوں کا خطرہ ہے ۔ ان حالات میں پاکستان کے کردار کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے ، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کے اندر جو سیاسی انتشار جاری ہے اس پر چیف آف سٹاف کی طرف سے اتنی ہدایت ضرورلی جانی چاہیئے کہ ملک میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور عالمی حالات کے پیش نظر یہ سیاسی دلدر جتنے جلد ممکن ہوں ، ختم کرنے چاہئیں ۔

اداریہ