Daily Mashriq


سنگین ہوتا معاشی مسئلہ

سنگین ہوتا معاشی مسئلہ

چین کی طرف سے نقد رقم کی بجائے سرمایہ کاری کرکے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کی سعی ان کی پالیسی سے ہم آہنگ امر ضرور ہے لیکن اس سے ہمارے حکمرانوں کے اس دعوے کی نفی ہوتی ہے جس میں انہوں نے چین سے مالی مدد ملنے کا دعویٰ کیا تھا۔ اس وقت ملکی مالی مسائل ومعاملات فوری طور پر نقد رقم کے متقاضی ہیں تاکہ قرضوں کی ادائیگی کیساتھ ساتھ زرمبادلہ کے ذخائر کو مطلوبہ سطح پر برقرار رکھ کر ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت میں استحکام لایا جاسکے۔ اس مقصد کیلئے وزیراعظم ابتدائی سو دن جس طرح متحرک رہے اور جس ملک سے بھی ان کو امداد ملنے کی توقع تھی سوائے سعودی عرب سے ایک ارب ڈالر ملنے کے کسی ملک سے بھی کوئی مثبت جواب نہ آیا جن ممالک سے توقعات وابستہ کی گئی تھیں ان ممالک کی اپنی معیشت اور مالی حیثیت کے مضبوط ومستحکم ہونے میں تو کلام نہیں لیکن کسی دوسرے ملک کو قرض دینے کیلئے ارب دو ارب ڈالر دینے کے وہ متحمل نہیں ہوسکتے۔ کسی بھی ملک سے یہ توقع عبث ہوگا کہ وہ معاشی توازن واستحکام کی قیمت پر دوسرے ملک کی دستگیری کرے گا۔ دیکھا جائے تو سعودی عرب کے بھی اب وہ مالی استحکام کا دور نہیں رہا۔ سعودی عرب خود آئی ایم ایف سے قرض لینے لگا ہے مستزاد یمن کی جنگ اور عالمی طور پر کساد کی صورتحال سے سعودی عرب کی معیشت بھی عدم استحکام کا شکار ہونے کے قریب ہے۔ سعودی عرب میں اب ترقیاتی کاموں کی وہ صورتحال نہیں بتائی جاتی بلکہ وہاں پر بڑے بڑے ترقیاتی منصوبوں کو ترک کرنے سے غیر ملکی مزدوروں کی بڑی تعداد کو واپس بھجوا دیا گیا ہے۔ ان حالات میں سعودی عرب سے مزید کی توقع نہیں جبکہ متحدہ عرب امارات اور ملائیشیاء سے ہمیں مہذب طریقے سے معذرت اور انکار کا اشارہ ملا ہے۔ جہاں تک چین کا تعلق ہے چین کی کسی بھی ملک کو نقد امداد دینے کی پالیسی نہیں۔ بلاشبہ سی پیک کی صورت میں چین خطے میں اربوں ڈالر کی منصوبہ بندی کر رہا ہے لیکن سال دو سال بعد اس سرمایہ کاری کے قرضے کی واپسی شروع ہوگی۔ چین کی جانب سے نقد کی بجائے سرمایہ کاری کا عندیہ ہماری فوری ضروریات کا حل نہیں اور دیکھا جائے تو یہ بھی ایک قسم کی معذرت ہے۔ اس وقت دونوں ملکوں کے درمیان سی پیک کے منصوبوں کے حوالے سے بھی ہم آہنگی کی مکمل صورت موجود نہیں۔ موجودہ حکومت نے آنے کے بعد کھلے اور دبے لفظوں میں جن تحفظات کا اظہار کیا اور چین کے حوالے سے پالیسی میں تبدیلی کا عندیہ جس کی صورت باہم طے شدہ منصوبوں کے دوبارہ جائزہ لینے اور اس ضمن میں پائے جانے والے تحفظات کو دور کرنے کی صورت کا جو تذکرہ سامنے آیا پھر ہمارے وزیر تجارت کا بین الاقوامی میگزین کو دیا گیا انٹرویو یہ سارے حالات اس امر کیلئے کافی ہیں کہ پاکستان اور چین کے درمیان آنکھیں بند کرکے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنے والی کیفیت اب نہیں بلکہ گوکہ اس کا تاثر تو دیا جاتا رہا حالانکہ مملکتوں کے درمیان اس قسم کے تعلقات کا کوئی وجود ہی نہیں ہوتا اور ہر ملک نے اپنا مفاد یقینی بنانا ہوتا ہے۔ بہرحال چین کا تازہ عندیہ پاکستان کی معاشی ٹیم کو اس امر کا واضح پیغام ہے کہ احتیاج متبادل ذرائع سے پوری کرنے پر توجہ دے جو لامحالہ آئی ایم ایف ہی ہوسکتا ہے جس کی ٹیم پاکستان سے انہی دنوں چلی گئی ہے اور مذاکرات کا دوبارہ دور ہونے میں ابھی ایک ڈیڑھ ماہ کا عرصہ لگے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ شاید چین کو اس امر کا انتظار تھا کہ ان کا دوست ہمسایہ ملک آئی ایم ایف سے قرضہ حاصل کرکے ان پر اپنا انحصار کم کردے گا لیکن آئی ایم ایف سے مذاکرات کے نتیجہ خیز نہ ہونے پر چین کو پاکستان کو واضح عندیہ دینا پڑا کہ اس سے نقد کی صورت میں امداد کی توقع نہ رکھی جائے اس کے بعد آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو ماننے کے علاوہ پاکستان کے پاس کوئی چارہ باقی دکھائی نہیں دیتا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ چین کی پاکستان میں سرمایہ کاری بھی کوئی حوصلہ افزا قدم اسلئے نہیں ہوگا کہ اولاً ہر ملک اپنا مفاد رکھتا ہے دوم یہ کہ چین سوئی سے لیکر سیٹلائٹ تک بناتا ہے اور چین میں بننے والی مصنوعات اور اشیاء کی قیمت دیگر ممالک کی نسبت کہیں کم اور سستی ہیں۔ چین کا پاکستان آکر سرمایہ کاری کرنے سے ملکی صنعتوں کو جو خطرات لاحق ہوں گے اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ہم بیرونی سرمایہ کاری کی لالچ میں ملکی صنعتوں اور ملکی مصنوعات کو سخت نقصان پہنچانے کے ہرگز متحمل نہیں ہو سکتے۔ آج ہماری معیشت اس چوراہے پر آکر کھڑی ہے جس کے چاروں سمت ہمارے لئے مواقف اور حوصلہ افزاء نہیں ایسے میں واحد راستہ یہی نظر آتا ہے کہ ملکی سطح پر اس امر کا تعین کیا جائے کہ ملکی معیشت کو بہتری کی جانب لے جانے کیلئے ہم من حیث القوم ایک پالیسی وضع کریں اور مل جل کر اس پر عمل پیرا ہو جائے۔ معاشی بہتری کیلئے اقدامات سخت مشکل اور جاں جوکھوں کا کام ضرور ہے اب یہ صرف حکومت کے بس کی بات نہیں رہی اسے قومی سطح پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں