Daily Mashriq


نئی یونیورسٹیوں کے بگڑتے معاملات

نئی یونیورسٹیوں کے بگڑتے معاملات

خیبر پختونخوا میں بیشتر سرکاری یونیورسٹیوں کا شدید مالی بحران کی زد میں آنا فطری امر اس لئے تھا کہ ماضی اور گزشتہ حکومتوں نے ہر ضلع میں یونیورسٹی بنانے کا شوق تو پورا کیا مگر ان کیلئے ضروری وسائل کا بندوبست تو کجا اراضی کی خریداری کیلئے وسائل دیئے بغیر ہی کرائے اور ناموزوں سرکاری عمارتیں لیکر یونیورسٹی کا بورڈ آویزاں کیا۔ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان میں وائس چانسلر کی آسامی کیلئے منظور نظر فرد کو تعینات کرنے کیلئے مداخلت کی بھی شکایت سامنے آئی ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ حکومت سازی کے3ماہ سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اعلیٰ تعلیم کا محکمہ وزیر سے محروم ہے۔ ذرائع کے مطابق متعدد یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز نے ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کیخلاف ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے چیئرمین کو تحریری درخواستیں دی ہیں۔ یونیورسٹی آف چترال، یونیورسٹی آف سوات اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان شدید مالی بحران کی لپیٹ میں ہے جبکہ ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے سیکرٹری نے تمام وائس چانسلرز کے نام ارسال کردہ مراسلے میں کہا ہے کہ سیکرٹری کے علم میں لائے بغیر کسی بھی قسم کی مالی معاونت سے متعلق معاملات کیلئے کسی بھی ادارے سے رجوع نہیں کیا جائے گا۔ صوبے کی بیشتر یونیورسٹیوں کو درپیش مالی بحران کے باوجود ہائیر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ دلچسپی نہیں لے رہا جس کے باعث یونیورسٹیوں کی مالی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جس صورتحال میں یونیورسٹیاں بنائی گئیں وہ اپنی جگہ چترال یونیورسٹی سمیت دیگر نئی یونیورسٹیوں کے معاملات کا جائزہ لینے کی ضرورت تک محسوس نہیں کی گئی اور ان یونیورسٹیوں کو پراجیکٹ ڈائریکٹروں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا جو اپنے مفاد کی خاطر دکھاوے کیلئے تو اقدامات کی شہرت رکھتے ہیں لیکن عملی طور پر یونیورسٹی کے دستاویزی ودیگر لوازمات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جارہی۔ گورنر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کوچاہئے کہ وہ تمام یونیورسٹیوں کے پراجیکٹ ڈائریکٹروں سے اب تک ہونے والی پیشرفت کی دستاویزی رپورٹ طلب کریں اور ان کیلئے فنڈز کا بندوبست اور وسائل کی فراہمی کیلئے اپنی ذمہ داری نبھائیں۔ ان یونیورسٹیوں کا وائس چانسلر مقرر کر کے موزوں افراد کی فیکلٹی ترتیب دی جائے اور ان اداروں کو طالب علموں کو معیاری تعلیم دینے کے قابل بنا دیا جائے۔

سرکاری سکولوں میں بچوں پر تشدد کا سخت نوٹس لیا جائے

خیبر پختونخوا کے سرکاری اور نجی سکولوں میں طلبہ کو جسمانی سزا دینے پر پابندی کے باوجود بھی بچوں اور بچیوں کیساتھ مار پیٹ کے واقعات کے نتیجے جسمانی سزا کے خوف سے ہزاروں کی تعداد میں بچے اپنی تعلیمی سرگرمیاں چھوڑنے پر مجبور ہونے سے سرکاری سکولوں میں داخلوں اور ترغیب کی ساری سرکاری محنت کا اکارت چلے جانا فطری امر ہے ۔ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ تشدد کرنے والے اساتذہ کیخلاف کوئی نوٹس نہیں لیا جاتا۔ واضح رہے صوبائی حکومت نے جسمانی سزاء پر پابندی کیلئے باقاعدہ قانون سازی کی تھی لیکن مذکورہ قانون کے تحت صوبے میں کسی ایک بھی شکایت پر ٹیچرز کیخلاف کارروائی نہ ہونے سے سرکاری سکولوں میں مولا بخش کا استعمال کھلے عام جاری ہے جو قانون کو مذاق بنا دینے کے مترادف ہے۔ اس قسم کی صورتحال سے تنگ آکر بچوں کا سکول سے بھاگ کر بے راہ روی کا شکار ہونا اور سکول چھوڑ کر محنت ومشقت یا گھر بیٹھ جانے کو ترجیح دینے کے سامنے آنے والے واقعات افسوسناک ہے۔ حکومت کیلئے سکولوں میں تشدد کے خاتمے کیلئے موجود قانون پر عملدرآمد چنداں مشکل نہیں مگر لگتا ہے کہ دکھاوے کیلئے قانون بنانے والوں کو اس پر عملدرآمد میں زیادہ دلچسپی نہیں صرف سرکاری سکولوں ہی میں یہ مسئلہ نہیں بلکہ بعض نجی سکولوں میں بھی طلباء پر تشدد ہوتا ہے جس کا نوٹس لیا جانا چاہئے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے چند ایک اساتذہ کیخلاف کارروائی کی جائے تو صورتحال میں بہتری ممکن ہے جبکہ والدین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ سخت قسم کے تشدد کی نشاندہی کریں اور متعلقہ حکام سے رابطہ کر کے تشدد کے ذمہ داروں کیخلاف کارروائی کرانے میں تامل کا مظاہرہ نہ کریں۔ جب تک قانون پر سختی سے عملدرآمد نہیں ہوگا تب تک سکولوں میں بچوں پر تشدد کی روک تھام اور بچوں کے سکول چھوڑنے کے سلسلے کا خاتمہ نہ ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صوبائی حکومت صرف سکولوں میں نمائشی داخلہ مہم پر اکتفا کر کے بغلیں نہیں بجائے گی بلکہ سکولوں سے بچوں کے اخراج کی وجوہات پر بھی سنجیدگی سے غور کر کے اور ان کا جائزہ لے کر ان وجوہات کا تدارک کرنے کو بھی یقینی بنائے گی بچوں کے سکول چھوڑنے کی واحد وجہ اساتذہ کا بچوں پر تشدد نہیں بلکہ کئی دیگر مسائل اور مجبوریاں ہیں جن کا حل تلاش کرنے اور تدارک کئے بغیر بچوں کے سکول سے اخراج کا عمل روکنا ممکن نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں