Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

نئے پاکستان میں گزشتہ چند دنوں سے ہر طرف مرغیوں کے جست لگا کر اڑنے کی کوشش، چوزوں کی چوں چوں اور انڈے لے لو انڈے لے لو کی آوازیں ہی کانوں میں گونج رہی ہیں۔ انڈہ بدقسمتی سے صفر کی علامت بھی ہے اس لئے ایک معقول غذا ہونے کے باوجود اسے سونے کا انڈا نہیں قرار دیا جا سکتا۔ وزیراعظم جس مرغی، چوزوں اور انڈوں کا تذکرہ کر رہے ہیں وہ شاید سونے کا انڈا دینے والی مرغیاں ہوں گی۔ مرغی بری چیز نہیں اور نہ ہی چوزے اور انڈے۔ بندے کو ٹھنڈ لگے تو انڈا کھاتا ہے اور بندہ گرم ہو تو ڈنڈا کھاتا ہے۔ عمران خان کو اگر یہ علم ہوتا کہ یہ مرغیوں والا کھاتہ تو شہباز شریف کا متعارف کردہ تھا مگر انہوں نے انڈا دینے والی مرغی کی طرح انڈے دیکر شور نہ مچایا تو تضحیک کا نشانہ بنا۔ شور مچانا اس لئے بھی ضروری ہے کہ مچھلی کی ایک قسم دن میں ایک ہزار انڈے دیتی ہے مگر ان کے انڈے کوئی نہیں کھاتا۔ مرغی دن میں ایک انڈا دیتی ہے اور پورے محلے کو خبر کر دیتی ہے۔ اصولی طور پر غریب غرباء کیلئے نافع اس تجویز کا مذاق نہیں اُڑانا چاہئے مگر مشکل یہ ہے کہ ملک کے وزیراعظم ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے منصوبے بتانے کی بجائے اگر مرغی چوزے پالنے جیسے منصوبوں کا اعلان سو دن کی کارکردگی بیان کرنے کے موقع پر کریں گے تو لوگ تو مذاق اُڑائیں گے نا۔ اصولی طور پر یہ منصوبہ برا نہیں کسی نہ کسی پیمانے پر اور کسی نہ کسی حد تک مال مویشی پال کر پولٹری کا کاروبار کر کے خود روزگاری ممکن ہے۔ لوگوں کو چند مرغیاں پالنے کا مشورہ دینے والے تو نظر آتے ہیں مگر ’’پولٹری کنگ‘‘ کا کسی کو پتہ ہی نہیں۔ انڈے دیسی مرغیاں کھانے کو تو سب تیار ہیں پالنے پر اعتراض ہے۔ اعتراض نہ کریں تو کیا کریں اس حکومت کے بعض کام ایسے ہوتے ہیں کہ خود ان کے اپنے ہمدردوں کو بھی کھٹکتا ضرور ہے مگر اظہار نہیں کر سکتے۔ گورنر ہاؤس لاہور کو لاٹ صاحب کی رہائش گاہ کی بجائے ایک صوبے کے گورنر رہائش کا درجہ دینا تو اچھی بات ہے لیکن اس کی دیواریں توڑ کر جنگلات لگانے پر چھ کروڑ خرچ کرنے کی بجائے اسی چاردیواری کے اندر بھی تو کچھ حصے کو دوسرے مقصد کیلئے استعمال کرنا بھی تو ممکن تھا۔ عقل بڑی ہے کہ بھینس کا سوال یہاں بے موقع ہوگا۔ سول مقتدرہ کی دیواریں گرانے کا ایجنڈا گورنر ہاؤسز سے بیوروکریسی کے محلات تک تو پورا ہو نہ ہو ایک بات یقینی ہے کہ عسکری ٹھاٹ باٹ سے کسی کو چھیڑ کیا اس کا بھی حکمران تذکرہ ہی کر دیں۔ سچ پوچھو وہاں پہنچ جائیں تو پر اور قلم سبھی جلتے ہیں اور زبان پر تالے پڑ جاتے ہیں بس زور کو زوردار سلام کئے بنا چارہ نہیں رہتا۔ اس ملک کو سدھارنا ہے تو سب کو سدھارنا ہوگا، انصاف کرنا ہے تو سب کو کٹہرے میں لانا ہوگا، ترقی کرنی ہے تو سب کو حصہ ڈالنا ہوگا۔ اگر ایسا نہیں ہوا تو چاہیں مرغیاں پالیں یا کٹے دیواریں گرائیں یا سادگی وکفایت شعاری کریں کچھ ہونے والا نہیں۔ یہی مایوسی کا وہ لمحہ ہے جو ہم سب کو خاموش اور اداس کئے رکھتا ہے۔

متعلقہ خبریں