Daily Mashriq


وہ دن گئے کہ دیسی مرغی تھی دال بھاؤ

وہ دن گئے کہ دیسی مرغی تھی دال بھاؤ

ایک پڑھے لکھے اور معقول شخص کے جی میں نہ جانے ایسی کیا بات سمائی کہ وہ بھرے مجمع میں تقریر کرتے ہوئے کہنے لگا کہ نہ کتا پالنا حرام ہے اور نہ کتا کھانا۔ اس کا اتنا کہنا تھا کہ اس پر گندے انڈوں کی بارش ہونے لگی اور سارے شہر کے لوگ اس کے مخالف ہوگئے۔ بکواس کرتا ہے یہ۔ کھایا ہوگا اس نے کتا دماغ چل گیا ہے اس کا۔ واجب القتل ہے یہ مردار۔ یہ اور اس قسم کی کتنی باتیں تھیں جو جتنے منہ اتنی باتیں کے مصداق اس کیخلاف کی جانے لگیں۔ کسی نے اسے بے دین قرار دیا تو کوئی اسے پاگل کہہ کر اس کا مذاق اُڑانے لگا۔ اس نے بات ہی ایسی کر دی تھی جو نہ صرف فہم وادراک سے بعید تھی بلکہ مذہبی معاشرتی اور ثقافتی لحاظ سے بھی قابل اعتراض تھی۔ گھن آتی تھی اس کی یہ بات سن کر مگر اس کا کیا کیا جاتا کہ بات تھی جو اس کی زبان سے نکل چکی تھی۔ کہتے ہیں زبان سے نکلی ہوئی بات اور کمان سے نکلا ہوا تیر لوٹ کر نہیں آتا۔ بات کہتی ہے تو مجھے منہ سے نکال میں تجھے شہر سے نکال باہر کروں گی۔ کتے کو حلال کہنے کا یہ جملہ اس صاحب کے گلے پڑگیا یہ الگ بات کہ اس کو دیس نکالا ملا یا نہیں البتہ اس کی اس بات کو بہت زیادہ زیر بحث لایا گیا۔ بہت چرچا ہوا اس عقل کے اندھے ناعاقبت اندیش کا اور یوں بدنام ہوںگے تو کیا نام نہ ہوگا والا محاورہ اس پر اس قدر صادق آیا کہ کتے کو حلال قرار دینے کا یہ جملہ معترضہ اس کی زندگی کا حوالہ بن کر رہتی دنیا تک اس کے نام کیساتھ چپک گیا۔ لوگ اسے کتے باز اور کتے خور کے نام سے یاد کرنے لگے اور یوں اس کی اچھی خاصی بدنامی اس کی وجہ شہرت بننے لگی۔ بدنام ہوکر شہرت بٹورنے والے اچھی شہرت نہیں رکھتے۔ اس لئے جیسی روح ویسے فرشتے کے مصداق یہ بات ان کو زیب دیتی ہوگی لیکن جانے کیا ہوگیا ہے ہمارے پیارے ملک پاکستان کے راج دلارے وزیراعظم عمران خان کو جو انہوں نے برسر محفل مرغی اور انڈے کے حوالے ایسی بات کر دی جسے جان کر یار لوگ ان کی اس بات کو دیوانے کی بڑ یا شیخ چلی کا خواب کہہ کر اس کا مذاق اڑانے لگے اور بات کا بتنگڑ بنانے کی غرض سے اس کا خوب خوب چرچا کرنے لگے۔ کسی زمانے میں لوگ یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہوا کرتے تھے کہ پہلے مرغی پیدا ہوئی یا انڈا، ہم سے جب کوئی اس قسم کا چکرا دینے والا سوال کرتا تو ہم اپنے سیدھے سادے الفاظ میں کہہ دیتے کہ جس کو پہلے پیدا ہونا تھا سو وہ پہلے پیدا ہوگیا۔ اگر مرغی پہلے پیدا ہوئی تب بھی اس کی صحت گرامی پر کوئی اثر نہ پڑا اور اگر اس نے انڈے کے پیدا ہونے کے بعد اس دنیائے کام ودہن میں آنکھ کھولی تب بھی وہ مرغی ہی کہلائی۔ وہ اسداللہ خان غالب جیسے ذوق کی مالک تھی ہی کب جو وہ کہتی پھرتی کہ

نہ تھا کچھ تو خدا تھا، کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

ڈبویا مجھ کو ہونے نے، نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

کہتے ہیں کسی نے کسی سے جنگل کے بادشاہ شیر کے متعلق پوچھا کہ وہ انڈے دیتا ہے یا بچے جنتا ہے جس کے جواب میں جواب ملا کہ شیر جنگل کا بے تاج بادشاہ ہے یہ اس کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ انڈے دے یا بچے جنے۔ عمران خان پاکستان کے منتخب وزیراعظم ہیں کوئی کون ہوتا ہے اسے انڈوں اور مرغی کے حوالے سے بات کرنے سے روکنے والا۔ میں نے آج کے اخبار میں عمران خان کی مرغی اور انڈوں کے حوالے سے بات کرنے کیخلاف بولنے والے لٹھ بردار سیاستدانوں کو ان کا یوں پیچھا کرتے دیکھا جیسے وہ کوئی گالی نما نازیبا بات کہہ گئے ہوں۔ وزیراعظم عمران خان نے گھر کی مرغی دال برابر کی نفی کرکے اپنے عوام کو دکھائے جانے والے سبز باغوں میں دیسی مرغیاں پالنے اور ان کی دیسی انڈوں سے تواضع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ انڈے دینے والی وافر مقدار میں پائی جانے والی مرغیوں کو وائٹ لیگ ہارن کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ کہتے ہیں ان کا گوشت لذیذ نہیں ہوتا۔ جب کہ گوشت کیلئے ڈیڑھ مہینے کے مختصر عرصہ میں تیار ہوکر تواضع کام ودہن کیلئے تیار کی جانے والی مرغیوں کو برائلر چوزوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ عام لوگ ایسی مرغیوں کو فارمی مرغی کہتے ہیں اور صحت وتندرستی کیلئے دیسی مرغی کو ترجیح دیتے ہیں۔ آج کل دیسی مرغی گوہر نایاب بن چکی ہے شاید اسی لئے عمران خان نے کہہ دیا کہ ہم فارمی مرغیوں کو ایسا ٹیکہ لگائیں گے کہ وہ دیسی نسل میں تبدیل ہوکر دیسی انڈے دینا شروع کردیں گی۔ عمران خان کی یہ بات سن کر مانی اُستاد بے اختیار ہوکر پکار اُٹھا کہ یہ بات ماننے والی تو نہیں۔ جس کے جواب میں جانی استاد نے ’’جو نہ مانے اسے مولا تختہ کرے‘‘ کی بجائے صرف اتنا کہا کہ جو نہ مانے اسے مولا فارمی مرغیوں کا گوشت کھلائے۔ ایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق فارمی مرغیوں کا گوشت کھانے والے کینسر جیسے موذی مرض کا شکار ہوسکتے ہیں اس تناظر میں ہمیں عمران خان کی بظاہر اس مزاحیہ تقریر کی ہر بات پاکستانی قوم کے بہترین مفاد میں نظر آتی ہے۔ فارمی مرغیاں تو ہوتی ہی مصنوعی ہیں آج کل ہم دکانوں پر بکتے آرٹیفیشل انڈے بھی خریدنے پر مجبور ہیں اور ایک خبر کے مطابق آج کل شادیوں کا سیزن ہے اس وجہ سے بازاروں میں بکنے والی مرغیوں کی قیمتیں نہ صرف آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں بلکہ مرغیوں کی دکانوں پر پڑے تالے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ

کچھ بھی نہیں ہے اصلی جو کھا سکو تو کھاؤ

وہ دن گئے کہ دیسی مرغی تھی دال بھاؤ

متعلقہ خبریں