Daily Mashriq


بھارتی سرزمین پر پاکستان زندہ باد کے نعرے

بھارتی سرزمین پر پاکستان زندہ باد کے نعرے

ایک سابق امریکی صدر نے خارجہ پالیسی کے ضمن میں کیا خوب بات کہی۔ اُس نے کہا امریکی معیشت تو بہت مضبوط ہے چنانچہ اس کو تباہ کرنے کے لیے کوئی جینئس ہی درکار ہو گا البتہ خارجہ پالیسی کے ضمن میں معمولی کوتاہی نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کو تباہ و برباد کر سکتی ہے۔ خارجہ اُمور کس قدر نازک ہوتے ہیں لیکن ایک ہم تھے جنہوںنے چار پانچ سال کُل وقت وزیر خارجہ رکھنے کی ضرورت ہی نہ سمجھی۔ نواز شریف وزیر اعظم بھی تھے اور اس مملکت خداداد پاکستان کے وزیر خارجہ بھی۔ اس لاپرواہی کا نتیجہ ہم نے دیکھ لیا۔ عرب ہم سے خوش تھا اور نہ عجم۔ ایران نے بھارت کو چاہ بہار بندرگاہ تحفے میں دی تاکہ وہ بذریعہ ایران افغانستان سے اپنا ناطہ برقرار رکھ سکے۔ مودی سے یارانے کے بڑے چرچے تھے مگر یہ یارانہ پاکستان کے کام نہ آیا۔ لائن آف کنٹرول پر مسلسل فائرنگ ہوتی رہی ‘ اب یہ فائرنگ کم ہوتی ہے۔ پاکستان کے دیرینہ دوست و ہمدرد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ہم سے روٹھے رہے۔ کیا عجیب خارجہ پالیسی تھی جو مسلم لیگ ن کے عہد میں اُستوار رہی۔ عمران خان کے وزیر اعظم بننے کے بعد حالات میںبہتری آئی ہے ورنہ افغانستان‘ ایران اور بھارت کے بیچ میں پاکستان سینڈوچ بن جاتا۔ وزیر اعظم عمران خان نے سفارتی محاذ پر اپنے پہلے سو دنوں میں جو کامیابی سمیٹی ہے اس کی سب سے بہترین جھلک بروز اتوار راجستھان کی بھارتی سرزمین پر دکھائی دی جہاں نوجوت سنگھ سدھو کے جلسے میں ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعرے لگے۔ یہ ہوتی ہے سفارت کاری ۔ تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوئی تو وزیر اعظم عمران خان نے اپنے بھارتی دوستوں کو تقریب حلف برداری میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ نوجوت سنگھ سدھو کی تقریب میں شرکت نے بھارت میں ملے جُلے ردِعمل کو جنم دیا۔ بی جے پی حکومت کی اصل پسپائی کرتارپور بارڈر کی تقریب کے بعد ہوئی ۔ آج بھارتی پنجاب میں سکھ برادری پاکستان کی مشکور ہے۔ لہٰذا اب اگر مرکزی حکومت سکھوں کے مذہبی جذبات کا احترام نہیںکرے گی تو بھارت عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ وزیر اعظم عمران خان چونکہ نیک نیتی کے ساتھ آگے بڑھ رہے ہیں لہٰذا یہ بات طے ہے کہ بھارتی قیادت کو تعلقات میں بہتری لانے کے لیے پاکستان سے سنجیدہ بات چیت کا آغاز کرنا ہو گا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ کافی عرصہ کے بعد پاکستان نے بھارت پر سفارتی چڑھائی کی ہے اور مقابلے میں ہندوستان دفاعی حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے۔

پاکستان اپنے ہمسایہ ملک افغانستان سے بہترین تعلقات چاہتا ہے لہٰذا وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وزیر اعظم کی ہدایت پر اپنا پہلا دورہ افغانستان کا کیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ پاکستان افغانستان سے اپنے تعلقات کو کس قدر اہمیت دیتا ہے اور خطے میں امن قائم کرنے کے لیے افغانستان کے امن کو کس حد تک ضروری سمجھتا ہے۔ نومبر کے مہینے میں ماسکو حکومت نے طالبان اور افغانستان میں امن کونسل کے مابین بات چیت کی راہ ہموار کی ‘ ماسکو میںہونے والے ان مذاکرات میں پاکستان کا نمائندہ بھی شامل تھا۔ ایران سے بھی ہمارے تعلقات میں بہتری آئی ہے۔ یمن جنگ میں پاکستان کی ثالثی کی پیشکش کو ایران نے خوش آمدید کہا ہے اور اس ضمن میں ایرانی وزیر خارجہ دو مرتبہ پاکستان آئے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان کو ایرانی قیادت کا اعتماد بھی حاصل ہے کیونکہ ان کا امیج ایسے رہنما کا نہیں جو پاکستان کو کسی خاص ملک کی ’’پراکسی وار‘‘ میں دھکیلنے والے ہوں۔ عمران خان مسلمان ممالک کے درمیان خلیج کم کرنے میں بھی کامیاب ہوں گے۔ یمن جنگ میں ثالثی کی پیشکش کا جس انداز سے خیر مقدم کیا گیا ہے اُس کی وجہ سے اتحاد بین المسلمین کے تناظر میں عمران خان کا قد کاٹھ بڑھا ہے۔ کالم کے آخر میں تحریک لبیک کے حوالے سے بات ہو جائے۔ پاکستان ایک عرصہ تک فرقہ وارانہ کشیدگی کا مرکز بنا رہا لیکن آج کا پاکستان مذہبی تنگ نظری سے اپنا دامن چھڑا چکا ہے۔ مذہبی اور مسلک کی آزادی کے تمام تقاضے اپنی جگہ لیکن موجودہ پاکستان میں کسی خاص مذہب یا مسلک کی بنیاد پر اپنا نقطۂ نظر مسلط کرنے کی اجازت ملتی دکھائی نہیں دیتی۔ تحریک لبیک کے مقدمے میں ریاست اپنی رٹ کو قائم کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے جسے اس لحاظ سے سراہا جارہا ہے کہ افراد کے کسی گروہ یا جماعت کو اپنے نقطۂ نظر کے مطابق ریاست کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ اس ضمن میں رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان نے ’’درگزر‘‘ کرنے کا جو مطالبہ کیا ہے اُس پر ضرور غور کیا جانا چاہیے لیکن تحریک لبیک کی قیادت کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے مؤقف سے رجوع کرے۔ پرامن اجتماع اور تحریک ہر پاکستانی شہری کا حق ہے مگر جس تحریک میں تشدد کا عنصر غالب آ جائے اور جہاں کفر کے فتوے لگنا شروع ہو جائیں وہاں ریاست کو مداخلت پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ تحریک لبیک کی قیادت نے حکومت کے ساتھ معاہدے میں ’’دل آزاری‘‘ کی معافی ضرور مانگی ہے مگر تحریک لبیک کا تاثر پرتشدد مظاہروں‘ گاڑیوں کو آگ لگانے اور کفر کے فتوے صادر کرنے سے بہت خراب ہوا ہے۔ بہرکیف حکومت کو رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمان کی بات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے اور اس حوالے سے مثبت حکمت عملی اپنانی چاہیے۔

متعلقہ خبریں