Daily Mashriq


امریکہ، بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ

امریکہ، بھارت اور افغانستان کا گٹھ جوڑ

مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت کے آخری دنوں میں ہی پاکستان اور امریکہ کے تعلقات شدید بداعتمادی کا شکار ہو گئے تھے جو پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت میں بھی برقرار ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں میں دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کے حوالے سے جو منفی باتیں کیں ٹرمپ کی ان باتوں سے پاکستان اور امریکہ کے درمیان پہلے سے موجود بداعتمادی میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ امریکہ کا یہ طرزعمل نیا نہیں۔ ہمیشہ سے پاکستان پر دباؤ رکھنا اور ڈومور کی پالیسی اس کی سیاسی حکمت عملی کا حصہ رہی ہے۔ امریکہ کے سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ میں سے ایک فریق اگر پاکستان کے کردار کو منفی انداز میں پیش کرتا ہے تو دوسرا فریق اس غصے کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پاکستان کے کردار کو بڑی اہمیت دیتا اور کامیابی کے طور پر پیش کرتا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا امریکی صدر کے خیالات پر جو ردعمل آیا وہ بھی خاصا سخت ہے۔ ان کے بقول امریکی صدر اپنا ریکارڈ درست کریں۔ پاکستان نے دہشتگردی کی اس جنگ میں اب تک 75000 جانیں دی ہیں اور ہمارا 16482ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔ اس لئے امریکہ کو سمجھنا ہوگا کہ دہشتگردی کی اس جنگ میں ہم نے بھاری قیمت ادا کی ہے۔

درحقیقت امریکہ کو افغانستان کے تناظر میں جاری جنگ میں ایک بڑی ناکامی کا سامنا ہے۔ امریکہ افغانستان میں اس بڑی ناکامی کو پاکستان کیساتھ جوڑ کر دیکھتا ہے۔ پاکستان کے چین پر بڑھتے ہوئے انحصار اور سی پیک جیسے منصوبے پر بھی امریکہ کو تشویش ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ایک متبادل حکمت عملی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ حالیہ وسط مدتی انتخابات میں بھی ٹرمپ کی جماعت کو خاصی مشکلات اور شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ ان منفی بیانات کی وجہ صدر ٹرمپ کی داخلی سیاست کی ناکامی بھی ہے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے پاس پاکستان کے اس دعوے کا کوئی جواب نہیں کہ جو کردار پاکستان نے ادا کیا اس کی مثال کسی اور ملک سے نہیں دی جاسکتی۔ اصولی طور پر تو پاکستان کی مکمل حمایت کرنی چاہئے تھی اور اس کیساتھ دہشتگردی کی جنگ میں کھڑا ہونا چاہئے تھا لیکن پاکستان کے کردار پر شکوک وشبہات، الزام تراشیوں اور ڈالر کھا جانے کے الزامات سے اعتماد کا ماحول کبھی پیدا نہیں ہو سکے گا۔ پاکستان نے دہشتگردی سے نمٹنے کے سلسلے میں جب بھی امریکہ سے بھارت کے رویے اور طرزعمل کی شکایات سمیت کچھ دستاویزی ثبوت پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کے حوالے سے پیش کئے تو اس پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ایسی ہی صورتحال کا سامنا ہمیں افغانستان کے حوالے سے بھی رہا ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کا سارا دباؤ پاکستان پر ہے اور بھارت سمیت افغانستان پر وہ ہمارے مفادات سے زیادہ بھارت کے مفادات کو تقویت دیتا ہے۔

امریکہ اس بات کو بھی سمجھنے کیلئے تیار نہیں کہ پاکستان میں پہلے سے امریکہ مخالف جذبات موجود ہیں۔ ہم اگر امریکہ کے اتحادی بنے ہیں تو اس پر داخلی سطح پر ہمیں خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں جب امریکہ ہم پر لفظوں کی گولہ باری کرتا ہے تو پہلے سے موجود امریکہ مخالف فریقین کے اس مطالبے کو مزید طاقت ملتی ہے کہ ہمیں امریکہ سے جان چھڑانی چاہئے۔ بدقسمتی سے امریکی صدر نہ صرف پاکستان بلکہ دیگر ملکوں کے تناظر میں سفارتی آداب اور سفارتی لب ولہجے کو بھی بھول جاتے ہیں۔ ان کے بہت سے بیانات پہلے سے موجود تلخیوں میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔ امریکہ کو یہ بات بھی سمجھنی ہوگی کہ پاکستان خود دہشتگردی کا شکار ہے۔ ریاست میں غیر ریاستی عناصر بھی موجود ہیں۔ بھارت اور افغانستان کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا پاکستان مخالف گٹھ جوڑ بھی ہمیں غیر مستحکم کر رہا ہے۔ ایسے میں امریکہ کی جانب سے دہشتگردوں کے مقابلے میں خود پاکستان کی ریاست، حکومت یا اداروں کو شک کی نگاہ سے دیکھنا عملی طور پر انتہا پسند اور دہشتگرد عناصر کو طاقت فراہم کرتا ہے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بجا فرمایا کہ ہماری پالیسی امریکہ سے ٹکراؤ یا الجھنے کی نہیں بلکہ ہم مفاہمت کا راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم کے جوابی بیان نے یقینی طور پر امریکہ میں بھی تشویش پیدا کی اور انہیں ضرورت محسوس ہوئی کہ پاکستان کے سخت ردعمل کو ٹھنڈا کرنا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ پینٹاگون اور امریکی اسٹیبلشمنٹ نے دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کی قربانیوں سمیت دیگر اقدامات کو سراہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان اس کی ضرورت ہے اور وہ اس وقت اسے کسی بھی طور پر تنہا نہیں کرنا چاہتا۔ وزیراعظم عمران خان کو چاہئے کہ وہ دہشتگردی کی جنگ میں پاکستان کے مجموعی کردار کو اجاگر کرنے کیلئے سفارتی محاذ پر ایک بھرپور تیاری کریں جو عالمی برادری میں ہمارے مقدمہ اور قربانیوں کو مثبت انداز میں اجاگر کرسکے کیونکہ ہمارا مسئلہ بنیادی طور پر سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ناکامی کا بھی ہے۔ پاکستان کو امریکہ کے مقابلے میں ایک متبادل حکمت عملی پر بھی سوچ بچار کرنی چاہئے کیونکہ ایک ملک پر حد سے زیادہ انحصار ہمیں زیادہ مشکلات میں ڈالتا ہے۔ اصل مسئلہ داخلی سیاسی اور معاشی استحکام کا ہے۔ اس پر اگر ہم مؤثر حکمت عملی اور عمل درآمد کے نظام کو بہتر بناسکے تو خارجی دباؤ سے نمٹنا کچھ آسان ہوسکتا ہے۔

متعلقہ خبریں