Daily Mashriq

 نان فائلرز کے بجلی اور گیس کنیکشنز ختم کرنے کیلئے ٹیکس قوانین میں ترمیم کا فیصلہ

نان فائلرز کے بجلی اور گیس کنیکشنز ختم کرنے کیلئے ٹیکس قوانین میں ترمیم کا فیصلہ

اسلام آباد: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے صنعتی اور کمرشل صارفین کی جانب سے ٹیکس ریٹرنز فائل نہ کرنے کی وجہ سے ٹیکس قوانین میں ترمیم کا فیصلہ کیا ہے۔

ایف بی آر کے سینئر عہدیدار نے بتایا کہ آئندہ ماہ سے ٹیکس ریٹرن جمع نہ کروانے والے افراد کو بجلی اور گیس کی فراہمی معطل کرنے کے لیے ترمیم کا فیصلہ کیا۔

توانائی کی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ناقص ردعمل کے باعث ٹیکس قوانین میں ترمیم کی ضرورت محسوس ہوئی۔

گزشتہ 6 ماہ میں ڈسکوز صنعتی اور کمرشل صارفین کو ٹیکس سال 2019 کے لیے انکم ٹیکس ریٹرن ای فائل کرنے پر راضی کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا کہ ایف بی آر کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ اگر ضرورت ہو تو گیس اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کے تمام صنعتی اور کمرشل صارفین رجسٹرڈ ہو اور ریٹرن فائل کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’ایسے صارفین جنہوں نے اب تک ٹیکس ریٹرن فائل نہیں کیے وہ وقت میں توسیع کا فائدہ اٹھائیں‘۔

حکومت نے ٹیکس ریٹرنز جمع کروانے کی آخری تاریخ میں 16 دسمبر تک توسیع کردی ہے۔

شبر زیدی نے کہا کہ تقسیم کار کمپنیوں نے ایف بی آر کو آگاہ کیا ہے کہ ان کے پاس صارفین کے نیشنل ٹیکس نمبرز (این ڈی این) یا قومی شناختی کارڈ کا ڈیٹا موجود نہیں ہے۔

شبر زیدی نے کہا کہ ماضی میں حکومت نے شناختی کی ضرورت پر پاور کنیکشن کی اجازت دی تھی ، اب سی این آئی سی کی بنیاد پر کنیکشن حاصل کرنا لازمی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس ریٹرن جمع کروانے کے ذریعے تمام صارفین کو رضاکارانہ طور پر ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کے انیشیٹو کا آغاز کیا ہے۔

چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ’ ہم نے ٹیکس ریٹرنز جمع نہ کروانے والے صنعتی اور کمرشل صارفین کے کاروباری مراکز کا دورہ کرکے ان کی نشاندہی کا فیصلہ کیا ہے‘۔

شبر زیدی نے ایف بی آر کو اس عمل میں تیزی لانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

گزشتہ برس کے 10 لاکھ ٹیکس ریٹرنز کے مقابلے میں ایف بی آرکو رواں برس 30 نومبر تک 15 لاکھ سے زائد ٹیکس ریٹرنز موصول ہوئے تھے۔

ٹیکس سال 2018 کے لیے ایف بی آر کو اگست 2019 تک 25 لاکھ ٹیکس ریٹرنز موصول ہوئے تھے۔

ممبر ٹیکس پالیسی ڈاکٹر حامد عتیق نے ڈان کو بتایا کہ ایف بی آر کو رواں ٹیکس سال کے لیے 25 لاکھ ٹیکس ریٹرنز موصول ہونے کی امید ہے۔

متعلقہ خبریں