Daily Mashriq

خصوصی افراد کی کوٹہ پر بھرتیاں بلاتاخیر کی جائیں

خصوصی افراد کی کوٹہ پر بھرتیاں بلاتاخیر کی جائیں

خیبر پختونخوا کے سرکاری اداروں میں جسمانی طور پر معذور افراد جنہیں خصوصی افراد کہا جاتا ہے کیلئے ملازمتوں میں مختص دوفیصد کوٹہ پر عدالت عظمیٰ اور وزیراعظم کی ہداہت اور احکامات کے باوجود عدم عملدرآمد سرکاری اداروں میں قانونی عملداری پر سوالیہ نشان ہے۔ ملک کے دیگر حصوں کی طرح گزشتہ روز خیبر پختونخوا میں بھی معذوروں کا عالمی دن منایا گیا بلکہ اس کی رسم پوری کر کے صوبے میں اس امر کا تاثر دیا گیا کہ خیبر پختونخوا میں بھی خصوصی افراد کا دن منایا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس دن کے منانے کا مطلب رسم پوری کرنا نہیں بلکہ اس کا مطلب اس دن خصوصی افراد کے مسائل ومشکلات پر خاص طور پر توجہ اور ان کے مسائل کے حل پر غور اور اقدامات کرنا ہیں۔ دنیا کے ممالک میں جو بھی خصوصی دن منایا جاتا ہے اس روز اس خاص مسئلے، طبقے، افراد اور اس سے متعلق صورتحال کا پوری طرح جائزہ لیکر اس ضمن میں حکومتی ومعاشرتی ذمہ داریوں پر توجہ دی جاتی ہے۔ اس حوالے سے تحقیق ہوتی ہے، اقدامات تجویز کئے جاتے ہیں اور اس روز اس امر کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ ریاست وحکومت اور معاشرہ اس خاص معاملے میں اپنی ذمہ داریاں کس حد تک پوری کر رہا ہے۔ اس میں کیا کوتاہیاں سرزد ہوئیں اور بہتری کا ماحول کیسے پیدا کیا جائے۔ ہمارے ملک کے اخبارات میں یک سطری خبر لگتی ہے، زیادہ سے زیادہ سرکاری ذرائع ابلاغ میں ایک رپورٹ یا گفتگو کا اہتمام کیا جاتا ہے، متعلقہ وزارت ومحکمہ ایک رسمی سی تقریب منعقد کرتا ہے جو نشستند وگفتند وبرخواستند کا اعلیٰ نمونہ ہوتا ہے۔ عملی طور پر جو اقدامات درکار ہوتے ہیں اس خاص شعبے کے متعلقین کی کیا ضروریات اور مشکلات ہوتی ہیں اس پر وقت ''ضائع'' نہیں کیا جاتا۔ خیبر پختونخوا میں خصوصی افراد کیلئے ملازمتوں میں دوفیصد کوٹے پر متعلقہ محکموں میں عملدرآمد کیوں نہیں ہوا، وزیراعظم اور سپریم کورٹ کی سطح کے اعلیٰ ترین عہدیدار اور ادارے کے احکامات کو پس پشت کیوں ڈالا گیا، اگر یہ سوال کوئی حکومتی اعلیٰ عہدیدار پوچھ لیتا اس غفلت ولاپرواہی بلکہ حکم عدولی کی رپورٹ طلب کی جاتی اور فوری طور پر سرکاری محکموں میں خصوصی افراد کا کوٹہ مکمل کرنے کی ہدایت کر کے ماہ دوماہ کا وقت مقرر کیا جاتا اور اس دوران عملی اقدامات روبہ عمل لائے جاتے تو اس دن کے منانے کی اہمیت کے قائل نہ ہونے کی کوئی وجہ نہ تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ سماجی بہبود کا اس ضمن میں یاددہانی کا خط ڈنگ ٹپاؤ کے مترادف ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ جن جن صوبائی محکموں میں خصوصی افراد کے کوٹہ کی نشستیں بلاوجہ اور دیر سے خالی رکھی گئی ہیں ان محکموں کے سربراہوں سے باقاعدہ جواب طلبی کی جائے اور جن محکموں میں اسامیاں حال ہی میں نکل آئی ہیں ان محکموں میں جلد سے جلد خصوصی افراد کا میرٹ پر تقرر یقینی بنایا جائے۔ خیبر پختونخوا کے مختلف محکموں میں ایک ہزار اسامیوں پر خصوصی افراد کا تقرر کیا جائے تو صوبے کے ایک ہزار خاندان مستفید ہوں گے، عدالت عظمیٰ کے احکامات اور وزیراعظم کے حکم کی تعمیل ہوگی اور صوبائی حکومت کے زیراثر محکموں میں خصوص افراد کو ملازمتیں ملنے سے خصوصی افراد میں حق ملنے کا تاثر پیدا ہوگا جس کی حکومت کو بہت ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں