Daily Mashriq

 پولیس فریق نہ بنے

پولیس فریق نہ بنے

وزیرصحت خیبر پختونخوا کی جانب سے اپنے خلاف مقدمہ کے اندراج کے حوالے سے قانونی مشاورت اور اس سے بچنے کی کوشش ان کا حق ہے لیکن مجاز عدالت کی طرف سے اس کا حکم دینے کے بعد پولیس کا مقدمہ درج کرنے سے انکار اور پراسیکیوشن سے رائے لینے کی تجویز توہین عدالت اگر نہیں تو عدالتی احکامات سے روگردانی اور بااثر وبے اثر کے حوالے سے دوہرا معیار اختیار کرنے کا عمل ضرور ہے۔ ہمیں اس واقعے اور اس واقعے کے کرداروں، پس منظر، وجوہات یہاں تک کہ اس کے جائز وناجائز ہونے سے کوئی سروکار نہیں، ہمارے تئیں پولیس کو مذکورہ فریق پر مقدمے کے اندراج کے بعد ان کی جانب سے ایف آئی آر کی درخواست پر بھی کارروائی کرنی چاہئے تھی اور جانبداری ودباؤ میں آنے سے گریز کرنے کی ضرورت تھی کجاکہ عدالت کے احکامات کے باوجود بھی لیت ولعل سے کام لیا جائے۔ پولیس کا کام مقدمے کا اندراج اور تفتیش ہے اس کے بعد عدالت سے رجوع کرنے پر کس فریق کے حق میں کیا فیصلہ آتا ہے اس سے پولیس کو سروکار نہیں البتہ اس فیصلے پر عملدرآمد میں پولیس کا جو کردار ہوتا ہے اس پر بلا چوں وچراں اور من وعن عملدرآمد پولیس کی ذمہ داری ہے جس کی عدم عملدرآمد کوئی نئی بات نہیں۔ وزیرصحت ہوں یا کوئی اور قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور عدالت جس کے بارے میں جو حکم دے اس پر عملدرآمد ہونا چاہئے۔ دو نہیں ایک پاکستان کا نعرہ ہو یا انصاف کے تقاضے ہر دو اس امر کے متقاضی ہیں کہ انصاف کی راہ میں نہ تو روڑے اٹکائے جائیں اور نہ ہی بااثر کیلئے ایک قانون اور کمزور کیلئے دوسرا قانون لاگو کیا جائے۔ پولیس کو چاہئے کہ اندراج مقدمہ کی ذمہ داری نبھائے اور فریق نہ بنے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ اس کیس میں انصاف کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔

ہیلمٹ کی پابندی، طویلے کی بلا بندر کے سر

ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے والوں کو پیٹرول فراہم کرنے والے پمپ مالکان اور منیجر کو پرائس کنٹرول ایکٹ سات کے تحت ایک لاکھ روپے جرمانہ، تین سال قید کے قانون کو بروئے کار لانے کا معاملہ چونکہ قانون سے متعلق ہے اس لئے اس پر سوال تو نہیں اُٹھایا جا سکتا البتہ ٹریفک پولیس کو اس سے زیادہ جرمانہ کیوں نہیں کیا جا سکتا جس کے سامنے سے گزر کر پیٹرول پمپ تک پہنچنے والے موٹرسائیکل سوار کو پیٹرول دینے کے جرم میں اتنی بھاری سزا دی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ضلعی انتظامیہ جس ایکٹ کے تحت جتنی سزا دے سکتی ہے ضرور دے لیکن انصاف کا تقاضا یہ نظر آتا ہے کہ پیٹرول پمپ تک پہنچنے کے راستوں پر تعینات پولیس اہلکاروں کی بھی خبر لی جائے۔ ابھی تک کسی موٹرسائیکل سوار کو پیٹرول دینے پر کسی پمپ مالک اور منیجر کیخلاف کارروائی نہیں ہوئی ہے، ایسا ہونے پر ہی عدالت جانے کا راستہ ہموار ہوگا البتہ اس فیصلے کیخلاف پمپ مالکان کی انجمن کو ضرور احتجاج کرنا چاہئے ٹریفک پولیس اگر اپنی ذمہ داری کا احساس کرے اور سب سے پہلے یہ اصول اگر خود ٹریفک پولیس اپنے اہلکاروں پر لاگو کرے پھر دیگر پولیس اہلکاروں کو ہیلمٹ کے بغیر موٹرسائیکل چلانے پر صرف چالان ہی کرنے کی ہمت کر کے مثال قائم کرے تو کسی کو بغیر ہیلمٹ لگائے سڑک پر آنے کی جرأت نہ ہو۔ مشاہدے کی بات ہے کہ پولیس اہلکار موٹرسائیکلوں پر نمبر پلیٹ کی جگہ پولیس لکھ کر نکلتے ہیں جن کی دیکھا دیکھی دیگر افراد بھی اس کو قانون سمجھ کر اپنے محکموں کا بورڈ لگاتے ہیں، اخبار نویس بلکہ اخبارات میں کام کرنے والے جملہ ملازمین تو اس ضمن میں خود کو خلائی مخلوق سمجھتے ہیں جن پر قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، ہیلمٹ نہ پہننے کی صورتحال بھی کم وبیش یہی ہے۔ جب پریس اور پولیس کے بورڈ لگے لوگ قانون سے سرعام کھلواڑ پر قابل تعزیز قرار نہیں پائیں گے تو باقی لوگوں سے بھی اس کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔ ضلعی انتظامیہ اور ٹریفک پولیس طویلے کی بلا بندر کے سر ڈالنے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اس امر کو یقینی بنانے کی سعی کریں کہ کوئی موٹرسائیکل سوار ہیلمٹ لگائے بغیر کسی پیٹرول پمپ تک پہنچے ہی نہ۔ ہیلمٹ نہ پہننے والے پولیس، پریس اہلکاروں سمیت تمام افراد پر قانون کا یکساں اطلاق کیا جائے اور ٹریفک پولیس اپنی ذمہ داری پوری کرے تو ہیلمٹ پہن کر موٹرسائیکل چلانے کی پابندی کا اطلاق کوئی مشکل امر نہیں۔

ایف آئی اے کی بروقت کارروائی

جامعہ پشاور کے شعبہ صحافت کے طالب علم کی طالبہ کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتاری صرف ان کے اپنے شعبے کیلئے ہی خجالت وندامت کا باعث نہیں بلکہ جملہ اہل صحافت کیلئے شرمسار کرنے والا واقعہ ہے کہ کس قماش کے نوجوان اب اس پیشے کا رخ کرنے لگے ہیں اس امر کے اعتراف میں کسی کو باک نہیں ہونا چاہئے کہ اہل صحافت کی صفوں میں بھیڑیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ بہرحال اس سے قطع نظر ہراساں ہونیوالی لڑکی کا ایف آئی اے سے رابطہ اور ایف آئی اے کی کارروائی دونوں قابل اطمینان امور ہیں اس طرح کی صورتحال سے جو بھی بچیاں دوچار ہیں یہ ان کیلئے بھی سبق اور ہمت کا باعث ہے کہ اگر وہ بھی ڈر اور خوف کو بالائے طاق رکھ کر قانون کا سہارا لینے کا فیصلہ کریں اور سائبر کرائمز کی شکایت کریں تو ان کو بھی تحفظ ملے گا اور وہ بلیک میلروں سے محفوظ ہوجائیں گی۔ ہم یہاں پر طالبات اور خواتین کو سوشل میڈیا کے استعمال میں احتیاط کا بھی ضرور مشورہ دیں گے تاکہ سوشل میڈیا میں وہ ہراسانی کے واقعات کا شکار نہ ہوں۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جامعہ پشاور کی انتظامیہ اس مقدمے کی نوعیت اور صورتحال کا پوری طرح سامنے آنے کے بعد اس واقع کی نہ صرف اپنے طور پر بھی تحقیقات کریں گے اور اس کی وجوہات جاننے کے بعد مناسب کارروائی بھی کریں گے نیز اسی طرح کے واقعات کی روک تھام کیلئے طلبہ کی رہنمائی بھی کی جائے گی۔

کتے کے کاٹنے سے نوجوان کی ہلاکت

کالام میں کتے کے کاٹے کی ویکسین دستیاب نہ ہونے پر معصوم لڑکے کے جاں بحق ہونے کا واقعہ ان حکومتی ہدایات کے صحیح ہونے کا واضح ثبوت ہے جس میں متعلقہ افسران کو ہسپتالوں میں اینٹی ربیزویکسین کی موجودگی یقینی بنانے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے آبائی علاقے میں ہونے کے باعث پیش آمدہ واقعہ مزید تشویش کا باعث ہے۔ اس سے یقیناً وزیراعلیٰ خود بھی زیادہ رنجور ہوئے ہوں گے۔ باربار پیش آنے والے واقعات اور انسانی جانوں کے ضیاع کی جتنی جلد روک تھام ہوسکے اتنا بہتر ہوگا۔

متعلقہ خبریں