Daily Mashriq

ناسفتہ بہ ہیرے

ناسفتہ بہ ہیرے

سابق فوجی آمر وصدر پاکستان جنر ل (ر) پرویز مشرف کو دبئی کے ایک اسپتال میں لٹا دیا گیا ہے، ان کی سیاسی جماعت کے ذرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کر دی ہے کہ موصوف کی طبیعت اچانک خراب ہونے کے باعث انہیں اسٹریچر پر دبئی کے امریکن اسپتال میں منتقل کیا گیا ہے، ماضی میں ان کی جو وابستگی امریکا سے رہی ہے اور جو مرض حقیقی ان کو لاحق ہے اس کے علاج کی آماجگاہ بھی ان کیلئے امریکن اسپتال ہی ہے۔ ان کی پارٹی کے ترجمان جس کا نام عوام کیلئے گمنام ہے نے بتایا ہے کہ پرویزمشرف کو صحت کے کچھ سنگین مسائل لاحق ہیں انہیں سینے میں درد اور بے چینی کی شکایت بھی ہے، پرویز مشرف ایک عظیم مدّبر رہنماء ہیں ظاہر ہے کہ قوم وملک کا درد ان کے سینے میں دوسروں کی نسبت سوا ہی ہوگا اور بے چینی بھی بلاوجہ نہیں ہے کیونکہ غداری کیس کی جونہی تاریخ قریب ہوتی جاتی ہے یونہی دل کی بے چینی اور سینے کا درد سوا ہوتا جاتا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کو سابق فوجی آمر کیخلاف سنگین غداری کیس کا فیصلہ 28نومبر کو سنانے سے روک دیا تھا جس پر خصوصی عدالت نے موقف بیان کیا تھا کہ وہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی پابند نہیں ہے تاہم عدالت نے فیصلہ سنانے کو ملتوی کر دیا تھا اور حکومت کو ہدایت جاری کی تھی کہ وہ 5دسمبر تک نئی استغاثہ ٹیم مقرر کر لے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پانچ دسمبر کی تاریخ سے دو دن قبل ہی موصوف کی طبیعت بگڑ گئی حالانکہ حکومت کی جانب سے ابھی تک استغاثہ کی ٹیم مقرر کرنے کا اعلامیہ جاری نہیں ہوا، بہرحال موصوف پاکستان کے انمول ہیرا ہیں، کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے، اس سے زیادہ مزیدار خبر یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پارٹی کے بانی رکن اور پارٹی کے آئین کے خالق وممتاز قانون دان حامد خان کی رکنیت معطل کر دی۔ پارٹی کے جنرل سیکرٹری عامر محمود کیانی نے حامد خان کو شوکاز نوٹس جاری کیا ہے جس میں ان سے نوٹس کا جواب مانگتے ہوئے اس میں ان پر الزام لگایا ہے کہ ان کے من گھڑت بیانات کی وجہ سے پارٹی کو اور پارٹی کی حکومت کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے، غلط الفاظ کا استعمال پی ٹی آئی کی لیڈرشپ کا طرۂ امتیاز ہے، من گھڑت الزامات تو پڑھنے اور سننے میں آیا ہے، یہ پہلی مرتبہ سنا ہے کہ من گھڑت بیانات بھی ہوا کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ حامد خان نے گزشتہ دنوں مبینہ من گھڑت بیانات میں کہا تھا کہ تحریک انصاف ایک تبدیلی کی جماعت تھی لیکن اب اسٹیبلشمنٹ کی جماعت بن چکی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ پارٹی کے نظریاتی کارکن کو الگ تھلگ کر کے ان کی جگہ باہر سے بھیجے گئے افراد کے کنٹرول میں پارٹی کو دیدیا گیا ہے، حامد خان نے پنجاب اسمبلی کے اسپیکر چوہدری پرویزالٰہی کے بیانات کی بھی تصدیق کی ہے، حامد خان پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے دلدادہ یا دلدار تھے لیکن جب سے جہانگیر ترین کے جہاز کی گونج گرجی ہے تب سے حامد خان کی گونج مدھم ہوتی چلی گئی، بہرحال واقف حال کا کہنا ہے کہ حامد خان پارٹی کی جانب سے شوکاز نوٹس ملنے پر قطعاً پریشان نہیں ہے، وہ اس کا جواب میڈیا کے بھی حوالے کریں گے، حامد خان کا پی ٹی آئی کے ان مدّبر لیڈروں میں شمار ہوتا ہے جن کو بااصول سیاستدانوں کی صف میں شامل کیا جاتا ہے لہٰذا اسی اصولی سیاست کی بناء پر انہوں نے عمران خان یا پارٹی کے مقدمات میں پیش ہونا چھوڑ دیا تھا، عمران خان توسیع کے مقدمے میں اپنی جس قانونی ٹیم کے بارے میں رطب اللسان صبح شام ہیں اس کی کارکردگی دنیا بھر میں دیکھی جاچکی ہے کہ کتنی اہلیت کی حامل تھی کہ تین تین بار نوٹیفکیشن جاری ہوتے رہے اور ہر نوٹیفکیشن ناقص ہی نکلا، عمران خان کی قانونی ٹیم کے سربراہ جو سنگین غداری کیس میں پرویز مشرف کے وکیل صفائی تھے اور اب وکیل استغاثہ کا جبہ چڑھا کر یہ دہائی لیکر عدالت میں پیش ہوئے کہ غداری کیس میں انصاف کے تقاضے پورے نہیںہو رہے، اسلئے فیصلہ نہ سنایا جائے، انہوں نے وزارت سے مستعفی ہوکر عدالت عظمیٰ میں پیش ہونے کا فیصلہ اسلئے نہیں کیا تھا کہ ان سے زیادہ باصلاحیت پاکستان میں کوئی وکیل نہیں ہے ان کی اہلیت تو اظہر من الشمس ہوچکی ہے بنی گالا میں پی ٹی آئی کے پروپیگنڈہ مشینری کی چار دیواری سے جھانکتی ہوئی خبریں کہانیاں بیان کررہی ہیں کہ وکلاء برادری نے توسیع کیخلاف جو مہم چلائی اس مجبوری کی بناء پر فروغ نسیم کو پیش ہونے کیلئے کہا گیا کیونکہ کوئی متبادل ذریعہ نہ تھا، حامد خان سے ماضی قریب میں ناراضی یا دوری کی کوئی وجہ ہو مگر شوکاز نوٹس کے پیچھے جو عوامل ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ حامد خان وکلاء کی جانب سے توسیع کیخلاف مہم کا سرگرم کردار بھی تھے، حامد خان کی پوزیشن بھی ایس اکبر احمد کی طرح ہے وہ بھی پارٹی کے درون خانہ عوام سے کماحقہ واقف ورازدان ہیں گویا حامد خان بھی دوسرے ایس اکبر احمد ثابت ہوں گے، تبدیلی والی جو بات حامد خان نے کی ہے تو یہ بات درست ہے کہ جب پی ٹی آئی وجود پذیر ہوئی تو اس وقت سیاست میں ایک بڑی تبدیلی کے عمل کو ظہور پذیر ہونے کو محسوس کیا جا رہا تھا چنانچہ تشکیل پی ٹی آئی کے لمحات میں پاکستان کے شفاف، چمکتے دمکتے بے داغ ہیروں نے اس پارٹی کو زینت بخشی، اصولوں اور نظریات پر اٹل رہنے والا سیاستدان معراج محمد خان، سپید ترین (طیارہ ترین نہیں) دامن کا حامل ایس اکبر احمد، بے داغ زیست کا مالک جسٹس (ر) وجیہہ الدین وغیرہ وغیرہ جیسے ہیرے اس میں شامل ہوئے تھے اب کون پارٹی میں رہ گیا ہے جو ملکہ فرانس کی طرح فرماتے ہیں کہ اگر روٹی میسر نہیں ہو رہی تو کیک کھائیں یعنی اگر ٹماٹر میسر نہیں ہیں تو کیا ہوا دہی کھائیں، بھلا ان کی عقل سلیم کو کیونکر داد دی جائے کہ بھئی دوسو روپے کلو ٹماٹر کے مقابلے میں دہی کونسا سستا ہے، دہی بھی تو ٹماٹر کے برابر قیمت رکھتا ہے، وہ بھی تو دوسو روپے ہی ہے۔ جو بھی ہے یہ ماننا پڑے گا کہ قسمت ساتھ دے رہی ہے کل یعنی ایک دن بعد چیف الیکشن کمشنر ریٹائر ہو جائیں گے اس کے بعد غیرملکی چندے کے فیصلے کا کیا بنے گا۔ واللہ اعلم بالصواب

متعلقہ خبریں