Daily Mashriq

کانچ کا وجود اورپتھر سے بیر

کانچ کا وجود اورپتھر سے بیر

عمران خان کی جگہ کوئی اوروزیراعظم ہوتے تو شایدوہ دسمبر کے مہینے کے لئے پٹرول کی قیمت میں پچیس پیسے فی لیٹرکمی کی خبر نشر ہی نہ ہونے دیتا اوروہ بھی ایسے وقت میں جبکہ حکومت کی مقبولیت کا گراف آرمی چیف کو توسیع دینے کے معاملے پرمتاثر ہوا۔ ٹماٹروں نے حکومت کو وہ ٹف ٹائم دیا کہ لوگ اسلام آبادکے دھرنے میں ہزاروں لوگوں کی موجودگی سے پیدا ہونے والی مشکلات کو بھول گئے اوپر سے تبدیلی یہ آئی کہ حکومت بننے سے پہلے سوشل میڈیا اورہرمیدان میں عمران خان کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہ تھے اورہرناقد کی گالیوں سے تواضع کرتے تھے وہ سب بھی اب اصول کے نام پرہی سہی لیکن اپنی پسندیدہ پارٹی پرزیرلب تنقید شروع کرچکے ہوں ۔یہ سب کومعلوم ہے کہ اپنوں کے رویوں میں یہ تبدیلیاں کوئی ایک رات میں نہیں آئیں بلکہ اس کے پیچھے بھی خراب حکومتی کارکردگی کی ایک طویل فہرست ہے۔

میاں نواز شریف کے ملک سے جانے کے بعد سے جنجھلائے ہوئے وزیراعظم عمران خان ایک بار پھر مولانافضل الرحمن پربرس پڑے ہیں اورکہتے ہیں کہ مولانا اسلام آباد ڈیزل کا پرمٹ لینے آئے تھے جب آپ ریاست کی مشینری کے مختارکل اوراداروں کے ساتھ ایک پیج پرہوںآپ کے پاس مولانا کا ایک ہی جواب ہونا چاہیئے تھا اوروہ تھا کارکردگی کی زبان میں،میرے خیال میں وزیراعظم کا ہر تنقید کے جواب میں جواب وہی ہونا چاہیئے تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے کہ آپ کے ہرناقد کے لئے سب سے اچھا جواب یہی ہے کہ آپ کی ترقی کا سفر جاری رہے۔عمران خان اگر ملکی مالی حالت کو بہتر کرنے کے قابل نہ بھی تھے تب بھی بہت سارے ایسے میدان تھے جن میں کارکردگی بہتر کی جاسکتی تھی، ملک کی کم از کم کسی ایک یونیورسٹی کو چن کر اسے دنیا بھر کی بہترین یونیورسٹیوں کے برابر لانے کی منصوبہ بندی کرسکتے تھے ، کسی ایک کھیل میں اپنے گراف بلند کرسکتے تھے ۔ ملک بھر میں بیماری کے میدان میں گراف اوپر ہی اوپر جارہا ہے، ڈینگی تک کا بہترمقابلہ نہیں کیا جاسکا، نوازشریف ملک سے جاچکے ہیں اورزرداری صاحب کا معاملہ بھی قریبا تیار لگ رہا ہے۔خود حکومت کے سب سے اہم اتحادی شیخ رشید یہ تصدیق بلکہ نوازشریف سے یہ شکوہ کرچکے ہیں کہ نواز شریف تواتنا ظالم تھا کہ جاتے جاتے بھی ایک پائی کی ادائیگی نہیں کرکے گیااس سے یہ تو ثابت ہوچکا ہے کہ ڈیل کے نتیجے میں نواز شریف کا بیرون ملک جانابالکل غلط پروپیگنڈہ تھا ایسے وقت میں پٹرول کی قیمت میں پچیس پیسے فی یونٹ کمی کی خبرکا الٹا جو اثرہوا ہے اس کا اندازہ ہر وہ شخص کرسکتا ہے جس کی رسائی سوشل میڈیا تک ممکن ہے۔

ان حالات میں وزیراعظم کی جنجھلاہٹوں سے ان کی پریشانیاںپوری طرح عیاں ہیں تودوسری طرف انہیں اس حالت میں دیکھ کر ان کے مخالف ضروراس سے پورا مزہ لے رہے ہونگے کہ اقتدار میں رہ کر بھی اگرآپ خوش نہیں تو اس سے زیادہ ان کے لئے خوشی کی کیا بات ہوسکتی ہے ؟ عمران خان اگران حالات میں صرف اتنا ہی کرلیتے کہ مولانا کے دھرنوں، نوازشریف کی بیرون ملک جانے میں کامیابی اورآرمی چیف کے معاملے میں اپنی ٹیم کی ناکامیوں پرطیش میں آنے کی بجائے اگر صرف خاموشی ہی اختیار کرلیتے تب بھی ہم انہیں ایک دوراندیش لیڈراورمضبوط انسان سمجھتے لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں پردرد سے چیخ وپکار نے انہیں کمزورثابت کیا ہے ۔ایک مشہور قول ہے کہ جنگ میں ثابت قدمی کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ تیرکھا کربھی چہرے پرکرب نہ آنے دیں تاکہ آپ کے دشمن آپ کی اندرونی کمزوریوں کا اندازہ نہ لگاسکے۔لگتا ہے کہ مولاناکے اپنے یاکسی اورکے ان کے ذریعے چلائے ہوئے تیروں میں سے کچھ ابھی تک فضاؤں میں اُڑ رہے ہیں اور ان میں سے کوئی بھی عمران خان اوران کے اتحادیوں کو چھوتا ہے تو اس پروہ غصے سے بے قابوہوکرظاہر کردیتے ہیں کہ وہ کتنے پریشان ہیں ان تیروں میں سے کسی ایک کے چھو جانے کے بعد اگروزیراعظم کی سطح پراس طرح کی چیخ وپکار ہوگی تو پھردشمن خوش نہ ہو تو اس سے زیادہ بے وقوف کون ہوگا؟ کسے نہیں معلوم کہ سپریم کورٹ میں جو کچھ ہوا اس میں اپوزیشن کی خاموشی کی وجہ کیا ہے، ہم سب کو معلوم ہے کہ مولانا جس خاموشی سے واپس معاشرے میں شامل ہوئے ہیں وہ کوئی مذاق تو نہیں۔ اپوزیشن بھی پاگل ہوگی اگر اس کے مقاصد حکومت کو درپیش چیلنجوں کے میدانوں میں خود ہی پورے ہو رہے ہوں تو اسے اپنی طاقت کو خراب کرنے کی کیا پڑی ہے۔مجھ جیسا کوئی عام انسان بھی عمران خان کی جگہ وزیراعظم ہوتا تو بحرانوں میں کسی کو اپنا درد محسوس تک نہ ہونے دیتا ۔ ان اضطرابوں کے مقابلے میں حکومت کے پاس اس سے بہتر آپشن کوئی نہیں کہ اپنے وجود اوراسے لاحق کمزوریوں کو سمیٹے اورلوگوں کے مسائل کے حل کے لئے نہ صرف سیاسی بالغ نظری کے تاثر کو بڑھائے بلکہ سرکاری افسروں کو بھی اعتماد دیں کہ وہ بھی اس نظام کے سب سے اہم جز ہیں اواگرکسی صوبے میں کوئی بھی اہم سمجھا جانے والا شخص کمزورہے توضد چھوڑ کراس کو ہٹانے میں دیرنہ لگائیں ۔

متعلقہ خبریں