Daily Mashriq

بیمارقیدی، طالباتِ مدارس اور ستوری دہ پختونخوا

بیمارقیدی، طالباتِ مدارس اور ستوری دہ پختونخوا

کوئی نظیر قائم کرے گی تو سوالات تو اُٹھیں گے۔ اگر قیدیوں سے طبی بنیادوں پر مساویانہ سلوک نہیں ہوگا تو اس کی مثال تو دی جائے گی، سوالات بھی ہوں گے خواہ کوئی جواب دینے والا ہو یا نہ ہو یا پھر جواب دینے والے خاموش ہوں یا پھر ان کے پاس جواب میں کہنے کو کچھ نہ ہو۔ 

ورسک روڈ سے عبداللہ نے ایک شدید بیمار قیدی کا دستیاب مگر نامکمل احوال لکھ کر سوال کیا ہے کہ کیا یہ اس قیدی کا حق نہیں؟ کیا یہ انسان نہیں؟ کیا یہ اشرف المخلوقات میں شمار نہیں ہوتا؟ اس قیدی کا جرم قابل ضمانت ہے مگر غریب الدیار ہونے کے ناتے اس کی ضمانت دینے والا کوئی نہیں۔ یہ کن ماں باپ کا جگر گوشہ ہے، کس خاندان کا چشم وچراغ ہے کچھ علم نہیں، نامکمل معلومات کے مطابق یہ ایک افغان مہاجر نوجوان بعمر پچیس تیس سال ہے۔ نام اس کا سیدین بتایا جاتا ہے اتوار کے دن اس کے شوگر کے آخری درجے کا علاج انسولین کے ڈرپ پہ ڈرپ لگا کر لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے اے ایم یو وارڈ بیڈ نمبر4 میں جاری تھا۔ مریض کے ظاہری حلیہ سے لیکر صحت تک سب کچھ انتہائی خراب تھا۔ نوجوان کے سر کے بال، داڑھی، مونچھیں بہت بڑھی ہوئی تھیں۔ اسے پشاور کے مرکزی بندی خانے سے بے ہوشی کے عالم میں ہسپتال لایا گیا اس کیساتھ جو بندوق بردار سپاہی تھا اسے بھی سوائے اس کے نام اور وجہ قید کے کوئی علم نہ تھا کیونکہ وہ جیل سے نہیں پولیس لائن سے آیا تھا۔ قیدی افغان مہاجر ہے یا اس کی شہریت افغانستان کی ہے یہ دونوں کوئی جرم نہیں، وہ ہم سب کی ہمدردی کا مستحق ہے۔ چرس کی سمگلنگ میں گرفتار اس شخص کی ضمانت ہوسکتی ہے مگر پہلے میں، پھر آپ اور پھر یہ سارا معاشرہ کوئی بھی اس کی ضمانت دینے کو تیار نہیں۔ اس کے ماں باپ، عزیز واقارب کا علم نہیں، ان کی جیب سے ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکار کو ایک موبائل فون نمبر لکھا ملا جس پر کال کرنے پر قیدی سے کسی جان پہچان کی تردید کی گئی۔ نوجوان افغان مہاجر سیدین قانون کا قیدی ہے، اس جوانی میں ان کا شوگر اس قدر زیادہ ہے کہ کسی بھی وقت ان کو پشاور کے مرکزی بندی خانے سے رہائی دلوا سکتا ہے، پھر اسے کہیں دفن کر دیا جائے گا۔ میری چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ سے عاجزانہ گزارش ہے کہ منصف وقت اس قیدی کی رپورٹ طلب فرمائیں، انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والی تنظیموں اور وکلاء برادری سے بھی اپیل ہے کہ اس قیدی کی مدد کریں، اس کا جرم اتنا بڑا نہیں کہ وہ سنٹرل جیل پشاور کے کسی بیرک میں دم توڑ دے۔ایک مبہم سا برقی پیغام ملا ہے غالباً مردان سے کسی مدرسہ کی طالبہ کا ہے جو دین کی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ اسے حکومت سے شکوہ ہے کہ حکومت بچیوں کی عصری تعلیم کے ادارے بھی بنا رہی ہے اور ان پر توجہ بھی دے رہی ہے مگر مدرسوں کی طالبات حکومت کی ترجیح میں شامل نہیں۔ یہاں تک کہ ان کی اسناد بھی قابل قبول نہیں۔ میرے خیال میں شہادة العالمیہ کی سند کو ایم اے کے برابر قرار دیا گیا ہے اسی طرح قرأت کی پوسٹوں پر قاریات کی تقرری ہوتی ہے۔ اسلامیات کی استانیاں اور لیکچرارز کی اسامیوں کیلئے بھی دینی تعلیم کی حامل طالبات کیلئے مواقع ہیں لیکن یہ بات بالکل درست ہے کہ مدارس کے طلبہ کیلئے وہ مواقع نہیں جو عصری علوم کے طلبہ کو حاصل ہیں۔ اس کی ذمہ دار حکومت وقت تو ہے ہی مدارس کے منتظمین اور طلبہ بھی ذمہ دار ہیں کہ وہ خود کو دینی علوم سے آراستہ کرنے کیساتھ ساتھ کسی ہنر اور شعبے کیلئے تیار نہیں کر پاتے حالانکہ جو طالب علم ایم اے عربی، اسلامیات یا پھر دینی علوم کی اسناد کیساتھ ساتھ عصری تعلیم واجبی سی محنت کر کے پرائیویٹ طور پر حاصل کرتے ہیں ان کو دوہرے مواقع ملتے ہیں۔ دینی مدارس کے طالب علموں کیلئے اسلامک سٹڈیز، عربی اور اسلامی معیشت جیسے شعبوں میں مواقع ہیں جہاں تک دینی علم حاصل کرنے کی افادیت اورکامیابی کا سوال ہے میں آج ایک اچھے عہدے پر ہونے کے باوجود کمی محسوس کرتی ہوں کہ میں نے دینی تعلیم حاصل کرنے اور اپنے بچوں کی دینی تعلیم پر مناسب توجہ دی ہوتی تو پچھتاوا نہ ہوتا۔ روزآخرت کیلئے بس رحمت ہی کی آس اور اُمید ہے، دینی مدارس کے طلبہ سے دعاؤں کی درخواست ہے۔اتفاق کی بات ہے کہ اگلا برقی پیغام بھی ایک صاحبزادی کا ہے جنہوں نے 2017ء میں ایف اے کا امتحان اعلیٰ نمبروں سے پاس کر کے ستوری دہ خیبر پختونخوا کی حقدار قرار پائیں۔ سدرہ خان دختر ثمین خان سمیت بیس سے زائد طالب علم اس وظیفے کے حقدار ہیں جنہوں نے سیکرٹری تعلیم کی وساطت سے محکمۂ خزانہ سے رقم جاری کرنے کیلئے یاددہانی کا خط بھی ارسال کیا ہے لیکن محکمۂ خزانہ والے وظیفے کی رقم جاری کرنے میں تاخیر درتاخیر کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ اس برقی پیغام سے مردان کے مدرسے کی طالبہ کو اس کا اندازہ ہوگیا ہوگا کہ محنت کر کے اعلیٰ نمبروں سے کامیاب ہونیوالی عصری علوم کی طالبات کو بھی وظیفہ، مراعات اور ملازمتیں پلیٹ میں رکھ کر پیش نہیں کی جاتیں ان کو بھی جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ بہرحال مشکلات اور مسائل ہر جگہ ہوتی ہیں، وزیرخزانہ ستوری دہ خیبر پختونخوا کی رقم جاری نہ ہونے کا نوٹس لیں اور وظیفے کی رقم فوری طور پر جاری کی جائے تاکہ طالب علموں کو تعلیمی اخراجات کی تنگی نہ ہو اور وہ مزید محنت سے کام لیکر حقیقت میں ستوری دہ خیبر پختونخوا بن جائیں۔ قارئین اپنی شکایات اور مسائل اس نمبر 0337-9750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں