Daily Mashriq

لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

زندگی کی تشریح ہر بندہ اپنے تجربات کے حوالے سے کرتا ہے اس کے اتنے رخ اتنے پہلو ہیں کہ اس حوالے سے کوئی حرف آخر نہیں ہے۔ گھر میں ماں باپ، بہن بھائی زرا آگے بڑھئے تو رشتہ دار، پھر دوست، دفتر میں باس رفقائے کار! یہ سب لوگ ہمارے ساتھ زندگی کے میلے میں جڑے رہتے ہیں ہمیں ان کیساتھ ہی جینا پڑتا ہے۔ ہمارے یہاں یہ جملہ بڑا عام ہے کہ اکیلی ذات تو خدا ہی کی اچھی لگتی ہے حضرت انسان کو تو سماجی حیوان کہا گیا ہے کیونکہ یہ سماج میں رہتا ہے، گھر بناتا ہے، شادی کرتا ہے، آبادی بڑھاتا ہے اور پھر رشتوں کی بھول بھلیوں میں اُلجھتا چلا جاتا ہے، دلوں کی اُلجھنیں بڑھتی ہی رہتی ہیں جن لوگوں سے اس کا واسطہ پڑتا ہے ان میں ہر مزاج کا بندہ موجود ہوتا ہے ان میں آپ کے چاہنے والے بھی ہوتے ہیں اور آپ کی شخصیت میں سے کیڑے نکالنے والے بھی! آپ کی خوشیوں پر خوش ہونیوالے اور آپ کو خوش دیکھ کر اُداس ہونے والے بھی! آپ کی ترقی سے جہاں کچھ لوگ خوش ہوتے ہیں وہاں یہ بہت سے لوگوں کو رنجیدہ بھی کر دیتی ہے!دراصل یہ انسانی روئیے ہی ہوتے ہیں جن کی وجہ سے اچھا بھلا انسان اُلجھتا ہی چلا جاتا ہے بقول عبدالحمید عدم

اے عدم احتیاط لوگوں سے

لوگ منکر نکیر ہوتے ہیں

رویہ ایک ایسا آئینہ ہے جس میں بڑی واضح تصویر نظر آجاتی ہے، رشتے کبھی اپنی طبعی موت نہیں مرتے یہ نفرت، انا، خودپسندی اور جہالت کے ہاتھوں قتل ہوجاتے ہیںآپ نے اکثر لوگوں کو یہ سوال کرتے دیکھا ہوگا کہ آپ کو شوگر تو نہیں ہے؟ اگر آپ کا جواب نفی میں ہو تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں اس کے بعد ان کا اگلا سوال یہ ہوتا ہے کہ کیا آپ نے شوگر ٹیسٹ کروائی ہے؟ اگر آپ نہیں کہہ دیں تو پھر ان کا پرزور تقاضا یہ ہوتا ہے کہ آپ ضرور ٹیسٹ کروائیے اپنی صحت پر توجہ دینی چاہئے، یہ کمبخت ایسی بیماری ہے جو انسان کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہے۔ اگر ان کی یہ بات سن کر آپ کے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں اور آپ خوفزدہ ہو جائیں تو ان کے چہرے پر طمانیت پھیل جاتی ہے اور ہونٹ مسکرانے لگتے ہیں! کچھ لوگ اس بات پر بڑے حیران ہوتے ہیں کہ آپ ساٹھ کا ہندسہ چھو رہے ہیں اورآپ کو ابھی تک شوگر، بلڈپریشر یا دل کی بیماری کیوں نہیں ہے؟

افواہ تھی کہ میری طبیعت خراب ہے

لوگوں نے پوچھ پوچھ کے بیمار کردیا

جہاں تک بیمار کی عیادت کا حال ہے یہاں بیمار کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے، کچھ لوگ تو پھل فروٹ لے جاتے ہیں مریض کے پاس بیٹھ کر اس کا حال احوال پوچھتے ہیں پھر دعائے خیر کرکے رخصت ہوجاتے ہیں عیادت کی دوسری قسم زرا مختلف قسم کی ہے، اس میں مریض کے پاس بیٹھ کر اس سے بیماری کی تفصیل کچھ اس انداز سے پوچھی جاتی ہے جیسے کوئی انتہائی دلچسپ الف لیلوی داستان ہو جب مریض اپنی داستان غم سنا کر تھکاوٹ سے ہانپنے لگتا ہے تو عیادت کیلئے آئے ہوئے ستم ظریف اپنے چہرے پر شدید قسم کی مایوسی طاری کر کے کہتے ہیں جناب آپ کی بیماری کی ساری نشانیاں تو بالکل ہمارے دادا جان کے مرض جیسی ہیں، خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں! مردہ دادا کی موت بیتی سن کر جو مریض کا حال ہوتا ہے وہ اہل فکر سے پوشیدہ نہیں ہے! صحت کے بعد لوگوں کی نظرکرم جس چیز پر پڑتی ہے وہ آپ کی شادی خانہ آبادی ہے! ہم ایسے کئی لوگوں کو جانتے ہیں کہ جن بیچاروں کی منگنی تو وقت پر ہوئی لیکن شادی میں کچھ تاخیر ہوگئی لوگ اس طرح نہیں سوچتے کہ ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا! اُلٹا کرید کرید کر پوچھا جاتا ہے کہ جناب شادی کب ہو رہی ہے؟ ظاہر ہے کہ گھر کی باتیں تو ہر ایرے غیرے کو نہیں بتائی جاسکتیں کوئی مناسب سا بہانہ بنا کر انہیں ٹالنے کی کوشش کی جاتی ہے لیکن یہ بات تجربے سے ثابت ہوچکی ہے کہ لوگ اتنی آسانی سے مطمئن نہیں ہوتے، آپ سے کہا جاتا ہے جناب اگر شادی نہیں کرنی تو یہ الگ بات ہے لیکن اگر کرنی ہے تو وقت پر کرنی چاہئے، ہر کام اپنے وقت پر ہی اچھا لگتا ہے۔ ایک نوجوان جس کی منگنی تو ہو چکی تھی لیکن شادی میں کچھ تاخیر تھی بڑے حسرت ویاس سے کہنے لگا جناب میں نے شادی کے حوالے سے کبھی نہیں سوچا بس دیرسویر ہوجاتی ہے لیکن اب جہاں جاتا ہوں مجھ سے شادی کے بارے میں ہی سوالات پوچھے جاتے ہیں اسلئے اب مجھے بھی محسوس ہونے لگا ہے جیسے میں کسی بہت بڑے نقصان سے دوچار ہوں اور اگر میری شادی جلد ی نہ ہوئی تو نجانے کیا ہوجائے؟ لڑکی اور لڑکے کی منگنی کے بعد خاندان بھر کو ایک بہت ہی دلچسپ موضوع ہاتھ آجاتا ہے کانوں کا میل کچیل بڑے اہتمام سے صاف کیا جاتا ہے تاکہ دونوں خاندانوں کے حوالے سے کوئی اہم خبر سننے کا موقع نہ ضائع ہو جائے، خاص طور پر خاندان کی بڑی بوڑھیوں کے کان کھڑے رہتے ہیں اور اگر خدانخواستہ پل صراط کے اس سفر میں دونوں فریقین میں سے کسی ایک سے بھی کوئی چوک ہوجائے تو پھر بات کا بتنگڑ بنا دیا جاتا ہے۔ جہاں دو چار ہم طبیعت بیٹھ جاتے ہیں وہاں یہی موضوع زیربحث ہوتا ہے! ایسے ایسے راکٹ اور میزائل داغے جاتے ہیں کہ بس خدا کی پناہ! خوش نصیب ہوتا ہے وہ جوڑا جو اس قسم کی جان لیوا بارودی سرنگوں سے بچتا بچاتا اپنی منزل مقصود پر پہنچنے میں کامیاب ہوجاتا ہے۔

متعلقہ خبریں