Daily Mashriq

اور میں سردی کی شدت سے ٹھٹھر کر مرگیا

اور میں سردی کی شدت سے ٹھٹھر کر مرگیا

گزشتہ کچھ عرصے سے ایک لفظ سموگ کا بڑا چرچہ ہورہا ہے، خاص طور پر لاہور کی فضا میں سموگ کی باتیں ہورہی ہیں جس کا کارن ملحقہ بھارتی علاقوں میں فصلوں کی باقیات کو جلانے کے نتیجے میں وہاں سے دھوئیں کے مرغولوں کا لاہور میں پھیل کر اسے سموگ کا شکار بنانا بتایا جاتا ہے، اب تازہ خبر خیبر پختونخوا کے بالائی علاقوں میں بھی سموگ کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سردی کی شدت میں اضافے اور برف باری کی وجہ سے بخاروں کے استعمال میں اضافے کی وجہ سے دھوئیں کے بادل سانس لینے میں دشواری کا باعث بن رہے ہیں۔ بخاری دراصل ایک انگیٹھی ہے جو سخت سرد علاقوں میں سردی کی شدت سے محفوظ رہنے کیلئے لوگ استعمال کرتے ہیں، بخاری (انگیٹھی) کی روایت قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے، اس کی ابتدائی شکل تو اس میں لکڑی یا کوئلہ استعمال کر کے اسے لوگ ملٹی پرپز بناتے تھے کہ نہ صرف کمرے گرم کرنے کیلئے اس کا استعمال کیا جاتا بلکہ ساتھ ہی ہانڈی پکانے، چائے وغیرہ کی تیاری کیلئے بھی خواتین اس سے استفادہ کرتیں، جبکہ اس سے خارج ہونے والے دھوئیں سے محفوظ رہنے کیلئے میں نے بہترین طریقہ کوئٹہ میں جا کر دیکھا کہ جب1979ء میں میرا تبادلہ کوئٹہ ریڈیو سٹیشن پر ہوا تو سردی شروع ہونے کے بعد ایک تو اس سموگ سے جسے اس زمانے میں یہ نام نہیں دیا گیا تھا، واسطہ پڑا اور گھروں سے نکلتے ہی سڑکوں پر گھومتے ہوئے انسان اپنے سروں سے دو تین فٹ کے فاصلے پر گہرے دھوئیں کی ایک چادر تنی ہوئی محسوس کرتا، یوں لگتا جیسے دھوئیں کا ایک مصنوعی آسمان سروں کے اوپر تنا ہوا ہے، کیونکہ روسی سائبیریا کے میدانوں سے اُٹھنے والی سردی چلتن کے پہاڑی سلسلے سے براستہ قندھار ٹکراتی ہوئی وادی کوئٹہ میں اُترتی تو ایسا لگتا کہ یہ سرد ہوائیں انسانی جسم کے گوشت کو چھیلتی ہوئی بدن کے اندر گھس جائے گی، اس سے بچنے کیلئے گھروں، دفاتر، دکانوں غرض ہر جگہ مختلف قسم کے بخاروں کا استعمال کیا جاتا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کوئٹہ میں ابھی سوئی گیس نہیں پہنچ سکی تھی حالانکہ سوئی سے نکلنے والی گیس سے باقی کا پاکستان کراچی سے لیکر پشاور تک بھرپور استفادہ کررہا تھا مگر جس صوبے کی یہ ملکیت تھی اس کے دارالحکومت تک میں اس کا نام ونشان نہیں تھا، البتہ کوئٹہ شہر کے چند مخصوص علاقوں میں (شاید ایل این جی) کا استعمال شروع کیا جا چکا تھا جس کیلئے ایک تقسیم کار ویرہاؤس میں بڑے بڑے ڈرم لاکر پلانٹ میں ڈالے جاتے اور اس کو واپس گیس میں تبدیل کرکے سپلائی کیا جاتا جبکہ فان گیس وغیرہ کے سلنڈر بھی شروع ہوچکے تھے مگر ان کا حصول اس قدر دشوار تھا کہ کوئٹہ کی غالب آبادی پرانے بخاری سسٹم سے ہی منسلک تھی اور اس کی بھی تین قسمیں تھیں، ایک میں لکڑی کے گٹکے (چھوٹے چھوٹے ٹکڑے) استعمال ہوتے جو آرا مشینوں کے ذریعے لکڑی کی چرائی کے بعد فالتو ہوکر بچ جاتے تو مارکیٹ میں فروخت ہوتے، دوسری قسم بخاری کی وہ تھی جس میں صنعتی کوئلہ استعمال ہوتا چونکہ وہاں قریب ہی علاقوں میں کوئلے کی کانیں ہیں اسلئے وہاں سے نکالا جانے والا کوئلہ بازاروں میں مل جاتا، اس میں بھی سرکاری ملازمین کیلئے ہر مہینے چند بوریوں کا کوٹہ مقرر ہوتا اور اس کیلئے پرمٹ مل جاتے تو سرکاری گوداموں سے سستے داموں کوئلہ حاصل کر کے لوگ جلاتے، اس کے علاوہ ایک تیسری قسم مٹی کے تیل سے جلنے والی بخاری ہوتی چونکہ ان تمام تینوں قسم کی بخاری (انگیٹھیوں) سے دھویں کا اخراج ہوتا اسلئے ہر عمارت میں کمروں کے ایک کونے میں چھت کے اندر ایک پائپ پہلے سے موجود ہوتا ہے جس پرچھوٹا سا سائبان ہوتا ہے تاکہ برفباری اور بارش سے دھوئیں کا اخراج متاثر نہ ہو، نہ ہی کمرے میں برف یا بارش کا پانی اندر آسکے، اسی پائپ کیساتھ بخاری کے اوپر ایک ڈھکن سے پائپ جوڑ کر اسے چھت والے پائپ کیساتھ ملا دیا جاتا، یوں دھواں کمرے میں پھیلنے کی بجائے اوپر والے پائپ کے ذریعے باہر نکلتا، تاہم شہر بھر کا یہ دھواں سخت سردی کی وجہ سے اس قدر کثیف (thick) ہو جاتا کہ سروں کے اوپر ایک آسمان کی طرح تنا رہتا اور سردی کے دنوں میں اس سے دمے کا مرض بھی لوگوں کو لگنے کے خدشات ہوتے، یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ میں دمے کے مریض بھی عام دوسرے شہروں کی نسبت زیادہ ہوتے۔ کوئٹہ کی سردی اور برفباری سے شہر کے لوگوں کو ان دنوں (اب کی خبر نہیں) جہاں سخت مسائل کا سامنا تھا وہاں ان کی زندہ دلی بھی عروج پر تھی، خاص طور پر جب متواتر چند روز تک برفباری ہوتی اور صورتحال یہ ہوجاتی کہ سارے راستے برف سے ڈھک جاتے اور آنے جانے تک کی مشکلات پیش آتیں تو گلی گلی، سڑک سڑک لوگ باہر نکل کر برف کے ڈھیروںکو تراش خراش کر ان سے مختلف قسم کے مجسمے بنا کر شہر کو آرٹ کے خوبصورت نمونے دے دیتے، ایسے موقعوں پر بلوچستان آرٹس کونسل کی جانب سے مقامی اخبارات میں اشتہارات چھپوا دیئے جاتے اور برف کے مجسموں کا مقابلہ منعقد کرایا جاتا، ایسے موقعوں پر مجسمہ سازی میں مزید تیزی آجاتی اور جدھر سے گزرو مختلف النوع قسم کے برفانی مجسمے آپ کا استقبال کرتے دکھائی دیتے، ممتاز دانشور، ادیب اور شاعر عطا شاد ان دنوں آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر تھے، ان کی ایک ٹیم پورے شہر میں گھوم کر مجسموں کا جائزہ لیتی اور اول، دوم، سوم انعامات مختلف کیٹیگریز میں دینے کا اعلان کیا جاتا اور پھر ایک تقریب کا اہتمام کر کے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی۔ میرا اسی زمانے کا ایک شعر ملاحظہ کیجئے

برف کے بت ہی بنانے میں رہی وہ منہمک

اور میں سردی کی شدت سے ٹھٹھر کر مرگیا

متعلقہ خبریں