Daily Mashriq

'نیٹو کو چین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے ہر صورت نمٹنا ہوگا'  

'نیٹو کو چین کی بڑھتی ہوئی طاقت سے ہر صورت نمٹنا ہوگا'  

مغربی دفاعی اتحاد نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ہمیں چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت کے مضمرات پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔

نیٹو سربراہ جینز اسٹولٹن برگ نے لندن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم چین کو اپنا مخالف نہیں بنانا چاہتے لیکن ہمیں چین کی بڑھتی قوت سے نمٹنا ہوگا۔

اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ چین کی بڑھتی طاقت اور اس کے میزائیل جو کہ یورپ سمیت امریکا کو بھی نشانہ بنانے کی طاقت رکھتے ہیں اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ نیٹو اتحادیوں کو اس مسئلے سے مل کر نمٹنا ہوگا۔

امریکا اور چین کا ایک سال سے جاری تجارتی جنگ روکنے پر اتفاق

واضح رہے کہ نیٹو اتحاد کے 29 ممالک کی دو روزہ کانفرنس لندن میں ہورہی ہے جس میں ممبر ممالک چین کی پالیسیوں سے نمٹنے کے حوالے سے لائحہ عمل پر غور کررہے ہیں۔

نیٹو سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ چین کی بڑھتی ہوئی دفاعی طاقت تمام اتحادی ممالک کے لیے دفاعی مضمرات رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ چین کا دنیا میں دوسرا بڑا دفاعی بجٹ اور اس کی حالیہ دفاعی ترقی خصوصاً میزائل یورپ اور امریکا کے لیے خطرہ ہیں۔

نیٹو سربراہ کا کہنا تھا کہ جنوبی بحیرہ چین کے متنازع  جزائر میں متعدد ممالک کے احتجاج کے باجود چین نے وہاں اپنے جہاز بھیج کر عسکری قوت کا مظاہرہ کیا۔

اسٹولٹن برگ کا کہنا تھا کہ نیٹو اتحاد کی دفاعی پہنچ یورپ اور شمالی امریکا تک محدود ہے جب کہ چین کا عمل دخل یورپ اورشمالی امریکا کے کناروں تک پہنچ گیا ہے۔

ون بیلٹ ون روڈ: ایشیا کی طاقت کا محور

ان کا کہنا تھا کہ یہ بات نیٹو کے جنوبی بحیرہ چین میں جانے کی نہیں بلکہ یہ سمجھنے کی ہے کہ چین آرکٹک اور افریقا میں ہمارے قریب آرہا ہے جب کہ یورپ میں بھی بھاری سرمایہ کاری کررہا ہے۔

 انہوں نے زور دیا کہ نیٹو کی نئی سوچ ایک نیا حریف پیدا کرنے کے لیے نہیں ہے،بلکہ ہم چین کے نئے چیلنج کو سمجھنا اور اسکا تجزیہ کرنے کے ساتھ اس کا جواب توازن میں رہتے ہوئے دینا چاہتے ہیں۔

متعلقہ خبریں