Daily Mashriq

گولڈ میڈل کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ بجتا ہے تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے‘  

گولڈ میڈل کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ بجتا ہے تو مزہ دوبالا ہوجاتا ہے‘  

پاکستان کے ٹاپ کراٹے پلیئر سعدی عباس کا کہنا ہے کہ گولڈ میڈل جیتنے کی خوشی میں اس وقت اور اضافہ ہوجاتا ہے جب میڈل لینے کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ بجایا جاتا ہے۔

سعدی عباس نے نیپال میں جاری ساؤتھ ایشین گیمز میں کراٹے کے مقابلوں میں گولڈ میڈل حاصل کیا، یہ سعدی کے کیریئر کا 16 واں انٹرنیشنل گولڈ میڈل تھا جس میں دو مرتبہ کامن ویلتھ چیمپئن شپ، ایک ایشین کراٹے چیمپئن شپ، دو ساؤتھ ایشین گیمز اور چار مرتبہ ساؤتھ ایشین چیمپئن شپ کے گولڈ میڈلز شامل ہیں۔

ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستان نے مزید 4گولڈ میڈل حاصل کرلیے

سعدی عباس نے کامیابی کے بعد جیو کو اپنے انٹرویو میں کہا کہ ان کی نظریں اولمپکس پر مرکوز ہیں اور خواہش ہے کہ وہ ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کا پرچم سربلند کریں۔

انہوں نے کہا کہ ’میری خواہش ہے کہ میں اولمپکس میں بھی پاکستان کا پرچم سربلند کروں، ٹوکیو میں بھی پاکستان کا قومی ترانہ بجے‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’جب گولڈ میڈل جیتنے کے بعد پاکستان کا قومی ترانہ بجتا ہے تو بہت اچھا لگتا ہے، کامن ویلتھ چیمپئن شپ کے بعد اب ایک بار پھر یہ خوشی ساؤتھ ایشین گیمز میں ملی جس پر میں بے حد خوش ہوں‘۔

سعدی کا کہنا تھا کہ وہ اولمپکس کیلئے پر امید ہیں اور اپنی جانب سے بھرپور تیاریاں کررہے ہیں لیکن انہیں حکومتی سرپرستی کی بھی ضرورت ہے۔

سعدی کی اولمپکس کوالیفائنگ رینکنگ 23 ویں ہے، انہیں کوالیفائی کرنے کیلئے ٹاپ 4 میں جگہ بنانی ہے اور مئی تک مزید پانچ رینکنگ ٹورنامنٹس کھیلنے ہیں جس کے بعد ڈائریکٹ کوالیفائنگ راؤنڈ بھی ہے۔

پاکستان کے ٹاپ کراٹے پلیئر نے کہا کہ انہیں کوچ اور باضابطہ ٹریننگ پروگرام کی ضرورت ہے جو حکومتی تعاون سے ہی یقینی ہوسکتا ہے۔ دنیا 4 سال پہلے اولمپکس کی تیاریاں شروع کردیتی ہے اور یہاں چھ روز پہلے کیمپ لگانے کا خیال آتا ہے، اگر اسپورٹس کو بہتر کرنا ہے تو کھلاڑیوں پر توجہ دینا بھی ضروری ہے۔

متعلقہ خبریں