Daily Mashriq

’گوگل‘ بنانے والے افراد اپنی ہی کمپنی سے خود الگ ہوگئے

’گوگل‘ بنانے والے افراد اپنی ہی کمپنی سے خود الگ ہوگئے

انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ’الفابیٹ‘ جو کہ سرچ انجن گوگل سمیت یوٹیوب، جی میل اور اینڈرائڈ آپریٹنگ سسٹم کی فاؤنڈر کمپنی ہے، اس کے سربراہ اپنے عہدوں سے رضاکارانہ طور پر الگ ہوگئے۔

’الفابیٹ‘ کمپنی کی تشکیل 2015 میں کی گئی تھی جب کہ اسی کمپنی کے سب سے معروف اور بڑے برانڈ ’گوگل‘ کو 1998 میں بنایا گیا تھا۔

گوگل سرچ انجن کو بنانے والے 46 سالہ سرگی برن اور لیری پیج نے رضاکارانہ طور پر اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے کر سب کو حیران کردیا۔

اب لیری پیج اور سرگی برن گوگل کی فادر کمپنی ’الفابیٹ‘ کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) اور صدر نہیں رہے ہیں اور ان کی جگہ گوگل کے سی ای او بھارتی نژاد امریکی ٹیکنالوجسٹ سندر پچائی ان کی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔

گوگل کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں سرگی برن اور لیری پیج نے اعلان کیا کہ وہ اپنے عہدوں سے رضاکارانہ طور کمپنی کے بہتر مفاد میں الگ ہو رہے ہیں۔

دونوں کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ اب لیری پیج ’الفابیٹ‘ کمپنی کے سی ای او اور سرگی برن اسی ہی کمپنی کے صدر نہیں رہیں گے۔

ساتھ ہی دونوں نے اپنے خط میں اس عزم کا اظہار کیا کہ اگرچہ وہ دونوں اپنے عہدوں سے الگ ہو رہے ہیں، تاہم وہ کمپنی کی بہتری کے لیے ہر وقت ان عہدوں پر کام کرنے والے افراد کی مدد کے لیے تیار رہیں گے۔

خط میں بتایا گیا کہ لیری پیج اور سرگی برن اگرچہ سی ای او اور صدر کے عہدوں پر نہیں رہیں گے، تاہم دونوں کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی کمیٹی میں شامل رہیں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ’الفابیٹ‘ اور ’گوگل‘ اس وقت اس مقام پر موجود ہیں، جہاں انہیں سرگی برن اور لیری پیج کی ضرورت نہیں، تاہم کمپنی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے وہ اپنے عہدوں سے الگ ہو رہے ہیں، تاکہ کمپنی مزید آزادانہ طریقے سے آگے بڑھ سکے۔

سرگی برن اور لیری پیج کی جانب سے اپنے عہدوں پر علیحدگی کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ ’گوگل‘ پر پرائیویسی کے حوالے سے امریکا اور یورپ میں شدید تنقید کی جا رہی ہے اور ان کی کمپنی پر کروڑوں ڈالر کے جرمانے بھی عائد کیے جا چکے ہیں۔

گوگل پر جہاں دنیا بھر میں پرائیویسی کا خیال نہ کرنے اور لوگوں کا ڈیٹا اکٹھا کرکے فروخت کرنے جیسے الزامات لگائے جاتے رہے ہیں، وہیں اس کمپنی پر صنفی تفریق اور ملازمین کو یکساں مواقع فراہم نہ کرنے جیسے سنگین الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔

گوگل پر خواتین ملازمین کی حفاظت کے لیے سخت اقدامات نہ کرنے کمپنی میں خواتین ملازمین کو جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

صارفین کی پرائیویسی کا خیال نہ کرنے سمیت دیگر الزامات پر سرگی برن اور لیری پیج امریکا کے قانونسازوں کے سامنے بھی پیش ہوچکے ہیں اور ان کی کمپنی پر امریکا سمیت یورپ اور ایشیا کے چند ممالک نے بھی جرمانے عائد کیے ہیں۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ دونوں شریک سربراہوں کی جانب سے رضاکارانہ طور پر اپنے عہدوں سے علیحدگی کے بعد گوگل پر کی جانے والی تنقید میں کمی ہوگی۔

فوری طور پر لیری پیج اور سرگی برن کے عہدوں کی اضافی ذمہ داریاں سندر پچائی ہی ادا کریں گے، تاہم خیال کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی خالی ہونے والے عہدوں پر نئی بھرتیوں کا اعلان کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں