Daily Mashriq

خصوصی افرادکے حقوق بارے قانونی مسودہ کاغذات تک محدود

خصوصی افرادکے حقوق بارے قانونی مسودہ کاغذات تک محدود

پشاور(صابر شاہ ہوتی) ملک بھر سمیت خیبر پختونخوا میں بھی معذور افراد کا عالمی دن منا یا گیا ۔ ہرسال کی طرح اس سال بھی خیبر پختونخوا کے معذور افراد حکومت کی اس امید کی راہ تکتے رہ گئے کہ کب حکومت معذور افراد کے حقوق کیلئے تیارکردہ مسودے کو عملی جامہ پہنائے گی ۔ معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کیلئے اعلان کردہ کونسل کو اڑھائی سال کا عرصہ گزرچکا لیکن اس کے باوجود کوئی عملی کاروائی نہیں کی جا سکی۔ تاحال صوبائی حکومت معذور افراد کے حقوق کے تحفظ کیلئے کونسل کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد کرنے میں ناکام دکھائی دے رہی ہے ۔ صوبائی حکومت نے سال 2017 میں جسمانی طور پر معذور افراد کے تحفظ کیلئے مسودہ تیا ر کیا تھا جس کا بنیادی مقصد معذورافراد کیلئے فنڈز جمع کرنے والی غیر سرکاری تنظیموں کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ ، جسمانی طور پر معذور افراد کو روزگار ، تعلیم اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے سمیت انکی فنی تربیت کو یقینی بنا نا تھا ۔ دو سال قبل تیار ہوئے قانونی مسودے کے مطابق جسمانی طور پر معذور افراد کے حقوق کے تحفظ ، انکی بھلا ئی اور انہیں خودمختار اور با اختیار بنانے کیلئے 18 رکنی صوبائی کونسل تشکیل د ی جانا تھی جس میں محکمہ سماجی بہبود ، محنت ، خزانہ ، صحت ، تعلیم ، تعمیرات و مواصلات اور توانائی کے سیکرٹریز ، ایڈیشنل سیکرٹری زکوة و عشر، ڈائریکٹر محکمہ سماجی بہبود ، تین جسمانی معذور افراد جبکہ تین غیر سرکاری تنظیموں کی جانب سے معذور افراد کے نام شامل کئے گئے۔ معذور افراد کے حقوق سے متعلق دو سال قبل تیا ر مسودے یہ بات بھی زیر غور لائی گئی کہ معذور افراد کی فلاح کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام ترتیب دیا جائے گا جس کے لئے چھ رکنی فنانس پلاننگ اینڈ فنانس کمیٹی بھی تشکیل دینا تھی جسکی سربراہی ڈائریکٹر محکمہ سماجی بہبود کے ذمہ تھی جبکہ دیگر ارکان میں ڈپٹی سیکرٹری محکمہ خزانہ ، ، سیکشن آفیسر سماجی بہبود ، اسسٹنٹ ڈائریکٹر صوبائی کونسل ، محکمہ منصوبہ بندی و ترقی اور چیمبر آف کامرس کے نمائندے شامل کرنے تھے ۔ مسودے کے مطابق صوبائی حکومت اٹھارہ سال کی عمر تک تمام جسمانی معذور بچوں کو مفت تعلیم کی فراہمی یقینی بنائے گی جبکہ عام سکولوں میں تعلیم دلوانے اور ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کیلئے وسائل بروئے کار لانا تھااس کے علاوہ مسودے میں یہ بات بھی شامل تھی کہ معذور بچوں کو فنی اور پیشہ وارانہ تربیت اور سکالر شپ دی جائے گی ۔ مسودے میں کہا گیا کہ تمام تعلیمی اداروں کو اس بات کا پابند بنایا جائیگا کہ وہ بصار ت سے محروم بچوں کو مترجم فراہم کریں جبکہ سرکاری جامعات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پرایک ایک نشست مختص کی جائے گی اور نجی تعلیمی ادارے داخلوںمیں 5فیصد کوٹہ معذور افراد کیلئے رکھیںگے ۔ صوبہ بھر میں معذور افراد کے لئے تعلیمی ، فنی اور دیگر شعبوں میں تربیت کیلئے خصوصی تربیتی مراکز قائم کئے جائیں گے ۔ کونسل ہر صحت مند شخص کو شدید چوٹ آنے کی صورت میں جسمانی معذوری کنٹرول کرنے کے لئے خصوصی طبی سہولیات فراہم کرے گی اور صوبے کی تمام موجودہ عمارتوں جبکہ نئی بننے والی عمارتوں ، سڑکوں اور دیگر مقامات کو معذور کے لئے قابل استعمال بنانے کیلئے طریقہ کار وضع کرے گی ۔ معذور افراد کو ڈیوٹی فری کارڈز کی فراہمی ، ریلوے اور جہاز میں نصف کرایہ جبکہ تیماداری کرنے والے افراد کو 25فیصد رعایت دی جانا تھی ۔

متعلقہ خبریں