Daily Mashriq


عوام کا فیصلہ کیا ہوگا ؟

عوام کا فیصلہ کیا ہوگا ؟

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے اس دعوے سے کلی اتفاق ممکن نہیں جس میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کے دور حکومت میں بہترین طرز حکمرانی کی ٹھوس بنیادرکھ دی گئی ہے لیکن دوسری جانب اس دعوے کو یکسر مسترد کرنے کی بھی کوئی وجہ نہیں۔ بنا بریں اس دعوے کو اگر معقول قرار دیتے ہوئے اس امر کا جائزہ لیا جائے کہ خیبر پختونخوا میں موجودہ دور حکومت میں بہتری اور انداز حکمرانی کی تبدیلی کا عنصر کس حد تک بہتر ہے ۔ اس امر کا اعتراف کیا جانا چاہیے کہ خیبر پختونخوا میں کم از کم اس طرح کی کھلم کھلا بد عنوانی کا ارتکاب نہیں ہوتا اور نہ ہی فرنٹیئر ہائوس سے اس کی باتیں منسوب کی جاسکتی ہیں جو قبل ازیں کی گئیں اور بعد میں ان عنا صر کے خلاف تھوڑی بہت کارروائی سے عقد ہ کھلا کہ زبان خلق واقعی نقارہ خدا تھی۔ موجودہ صوبائی حکومت اگر مصلحتوں سے بالا تر ہو کر ساری گزشتہ حکومتوں اور وزیر اعلیٰ سیکر ٹریٹ کا ریکارڈ کھول دیتی توبڑے بڑے حکومتی عناصر کا کچا چھٹا سامنے آجاتا۔ اس صوبائی حکومت پر اگر حقیقت پسندانہ تنقید کی جائے اور عوام کی توقعات پر پورا نہ اتر نے کے عمل کا جائزہ لیا جائے تو ہمارے تئیں بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی میں تساہل اور احتساب کے عمل کو مصلحتوں کا شکار بنا دینا ہے ۔ اگر صوبائی حکومت اب بھی چاہے تو سابقہ ادوار میں سرکاری ملازمتوں کی بند ر بانٹ اور فروخت کے معاملات کھل سکتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اس طرح کے معاملات کا کھوج لگا کر ان کو با ثبوت اور ٹھوس شواہد کے ساتھ سامنے لانا مشکل کام ہے لیکن اگر تحریک انصاف کی حکومت اس کی سعی کرتی اور بھرتیوں کی تحقیقات کے بعد بھلے کچھ ہاتھ نہ بھی لگتا تو کم از کم اور کچھ نہیں تو ان ناکام رہ جانے والے امید واروں کو یہ اطمینان تو ہوتا کہ ان کے ساتھ نا انصافی نہیں ہوئی اور نہ ہی آسامیاں خریدی اور بیچی گئی تھیں ۔ اس ضمن میں اگر ہم خود موجودہ حکومت کی کار کردگی اور معاملات نمٹانے کے انداز کا جائزہ لیں تو این ٹی ایس کا نظام متعارف کرانے کی حد تک تو شفا فیت دکھائی دیتی ہے قدرے بہتری آنے کا اعتراف بھی نہ کرنا غیر حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا مگر جس شفا فیت کا دعویٰ کیا جاتا رہا تھا اور جس میرٹ و معیار اور اہلیت کی بنیاد پر ملازمتیں دینے کا نوجوانوں سے وعدہ کیا گیا تھا اس وعدے پر موجودہ حکومت بھی بوجوہ عملدر آمد میں کامیاب دکھائی نہیں دیتی ۔ پولیس اصلاحات ہوں یا معلومات تک رسائی کا قانون ، انسداد بد عنوانی اور مقامی حکومتوں کو اختیارات دے کر ان کو مئو ثر بنانے کا وعدہ یا دیگر وعدے اور دعوے جزوی پیشرفت اور نیم دلی کی سعی کے اعتراف کے باوجود سوال یہ ہے کہ ان تمام مساعی اور معاملات سے عوام کو کیا کیا فوائد حاصل ہوئے ۔ ان کے مسائل میں کس حد تک کمی آئی عوام کس حد تک مطمئن ہیں اور خود حکمران اپنی کار کردگی سے حقیقتاً کس حد تک مطمئن ہیں ۔ دعوئو ں اور عملی کاموں کی شرح اور تناسب کی کیا صورتحال ہے ان سوالات کا اگر وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور ان کی کابینہ کے اراکین واتحادی جماعتیں ٹھنڈے دل سے جواب سوچیں اور عملیت کی کسوٹی پر غیر جانبدا ر رہ کر ان کو تولیں تو نتیجہ عدم اطمینانی کی صورت میں سامنے آئے گا اور یہی مجموعی عوامی تاثر بھی ہے ۔ پی ٹی آئی کے منشور کے مطابق اس کی حکومت سے جو توقعات عوام کی جانب سے وابستہ کی گئی تھیں بلا شبہ نہ صرف وہ توقعات پوری نہ ہوئیں بلکہ عوام مایوسی کا شکار بھی ہوگئے۔ خود تحریک انصاف کی صفوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جوببابنگ دہل اس امر کے معترف ہیں کہ ان کی توقعات کے بر عکس کا رکر دگی اور نتائج سامنے آئے ہیں ۔ موجودہ حکومت کے پاس اس وقت تک موقع ہے جب تک حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرتی اور عام انتخابات کے انعقاد کیلئے حکومت تحلیل نہیں ہوتی۔ اس وقت تک وعدے اور دعوے اور ان پر عملد ر آمد کا امکان موجود ہے ۔ہمیں صوبائی حکومت کی قانون سازی اور انداز حکمرانی کی تبدیلی سے اتفاق نہیں۔ قانون سازی اور طریقہ کار وضع کرنے کا کام یقینا اہم ہے مگر طے شدہ طریقہ کار اور قوانین پر اگر عمل در آمد کی صورتحال تسلی بخش نہ ہو یا پھر قوانین اور طریقہ کار ہی غیر مئو ثر ہوتے جائیں اور ان پر عملدر آمد کی بجائے روایتی اندازاختیار کرتے ہوئے قوانین کی موجودگی کے با وجود من پسند انداز میں کام چلانے کا طریقہ کار نکالا جائے اوربیورو کریسی کو کھل کھیلنے سے نہ روکا جاسکے تو ان قوانین کا فائدہ اور حاصل کیا؟ موجودہ دور حکومت میں نافع قانون سازی سے انکار نہیں لیکن ان کی کامیابی عملدر آمداور عوام کو سہولتوں کے ملنے اور عوامی مشکلات کا حل اور عوامی اطمینان کی شرح ہی وہ پیمانہ ہے جس کی پر کھ کے بعد جو نتیجہ سامنے آجائے اسی پر اکتفا کیا جانا چاہیے اور اس کی روشنی میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب ہونا چاہیے۔ بہر حال صوبے کے عوام ہی سب سے بڑے محتسب ہیں ۔آ ئندہ انتخابات میں وہ کس جماعت کو کس کسوٹی پر پرکھتے ہیں اور کیا فیصلہ دیتے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے دعوے اگر اس پر پورے اتر گئے تو پھر کلام کی گنجائش نہیں۔ ہمارے تئیں حقیقت کے افشا میں زیادہ دن باقی نہیں رہے ۔

متعلقہ خبریں