قانون دانوں کی قانون شکنی

قانون دانوں کی قانون شکنی

مقامی وکیل کو غلط پارکنگ پر چالان کرنے پر وکیل اور ٹریفک پولیس اہلکار کے درمیان تکرا ر اور ہاتھا پائی دو ایسے افراد کے درمیان تنازعہ ہے جس کے دونوں فریق قانون کی حکمرانی قانون کے نفاذ اور قانون پر عملدرآمد اور قانون کے محافظ متصور ہوتے ہیں۔ ایک وکیل کی جانب سے ٹریفک پولیس اہلکار سے محض اس بنا ء پر الجھنا کہ ان کا چالان کیوں کیا گیا قانون کی حکمرانی کے دعویداروں کے اس کردار کا بر ملا اظہار ہے جو وہ خود قانون کے پیرو کار ہونے کے دعوئوں کے باوجود قانون سے کھلواڑ کرتے ہیں۔ بد قسمتی سے اعلیٰ حکومتی شخصیات با اثر افراد وکلاء اور صحافی برادری خود کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں اور جب بھی اس طرح کے مواقع آتے ہیں تو نہ صرف ان کے ماتھے پر بل پڑتے ہیں بلکہ وہ باقاعدہ دھمکیاں دینے یہاں تک کہ مرنے مارنے پر اتر آتے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو کبھی کبھار ہی اس طرح کے عناصر کے مقابلے میں اپنے اعلیٰ افسران کی جانب سے حمایت ملتی ہے وگرنہ ان کی کال پر محافظین قانون کو سر نیچا کر کے خلاف ورزی کرنے والے شخص اور بعض اوقات ملزموں کو بھی جانے دیا جاتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اگر اعلیٰ پولیس افسران ہر قیمت پر قانون پر عملدر آمد کی ٹھان لیں اور کسی بھی شخصیت کو رعایت نہ دی جائے تو شہر اور صوبے میں قانون کا احترام کرنے اور قانون پر عملد ر آمد کی صورتحال کافی بہتر ہو اور پولیس اہلکاروں کا مورال بھی بلند ہو ، محولہ واقعہ اگر دو افراد کے درمیان تنازعہ ہی کی حد تک رہتا تو اسے معمول کا واقعہ قرار دیا جا سکتا تھا مگر کالے کوٹ والوں نے جس طرح سڑک پر نکل کر نفاذ قانون کے خلاف احتجاج کیا وہ نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ یہ ان کے حلف اور پیشے کے تقا ضوں کے بھی سرا سر خلاف ہے اگر وکلاء ہی نفاذ قانون کی سعی کی بجائے اپنے پیشے اور حیثیت کو قانون شکنی کیلئے بروئے کار لائیں تو اس شہرمیں قانون کا نفاذنہیں اس کا ماتم ہی کیا جا سکتا ہے مہذب دنیا میں اس طرح کی وکلاء گردی کا تصور ہی نہیں اگر بالفرض محال کہیں اس طرح کی حرکت قانون دان سے سر زد ہو جائے تو اس کا لائسنس منسوخ ہونے میں دیر نہیں لگے گی ۔ سینئر وکلاء اور منصفین کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنی صفوں میں موجود اس طرح کے عناصر کو پیشہ ورانہ کردار کے تقاضے سمجھائیں اور قانون کے تحفظ اور پیروی کی بجائے قانون کو ہاتھ میں لینے سے روکیں وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے والا معاملہ ہوگا۔
بھتہ خوری اور دہشت گردی کے واقعات
صوبائی دارالحکومت پشاو ر میں کچھ عرصہ سے متمول شہریوں کو بھتے کی کالیں آنے اور بھتے کی پرچیاںبھیجے جانے کے واقعات میں پھر اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ۔تازہ ترین واقعے میں ایک رکن صوبائی اسمبلی کے حجرے کو بھتہ نہ دینے پر بم کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اگرچہ ایسا ہونا بعید نہیں مگر متاثرہ شخص کی جانب سے پولیس سے عدم تعاون اور دعوے کے باوجود ان فون نمبروں کی عدم فراہمی جن سے بھتہ مانگا جاتا تھا واقعے کو مشکوک بنا دینے کا باعث ہے۔ بنا بریں اس ضمن میں پولیس کو دیگر امکانات کی بھی تفتیش اور واقعے کے دیگر ممکنہ مقاصد کی جانب بھی توجہ دینی چاہیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں کا اچانک عود کر آنا اور چارسدہ میں تباہی کا منصوبہ ناکام بنا کر چار دہشت گردوں کی گرفتاری اور بھتہ طلبی کے واقعات میں اضافے سے یہ شبہ ہونے لگا ہے کہ کہیں دہشت گرد عناصر از سر نو منظم تو نہیں ہو رہے ہیں جو اپنے ناپاک عزائم پر عملدر آمد کیلئے بھتہ وصولی اور دیگر ذرائع سے وسائل حاصل کرتے ہیں ۔ ان دونوں واقعات میں مما ثلت اور اس ضمن میں امکانات پر بھی دوران تفتیش خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔
اس کی بھی روک تھام کیجئے
سیکورٹی خدشات کے باعث بازاروں میں بغیر اجازت نامہ کے پولیس وردیوں کی خرید وفروخت پر پابندی کا حکمنامہ پہلی بار جاری نہیںکیا گیا قبل ازیں بھی اس طرح کے حکمنامے جاری ہوتے رہے ہیں جس پر عملدر آمد کا سوال ہمیشہ سے جواب طلب رہا ہے ۔ ہمارے تئیں جگہ جگہ پولیس وردی ملنا ہی مسئلہ نہیںبلکہ خود پولیس کی وردی میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے قانون کو مشکوک بنادینا اس سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے۔ چوک اور چوراہوں پر چوری کی پکڑی گئی گاڑیوں میں پولیس کی نیلی اور سرخ بتیاں لگا کر بیٹھے رہنا اور ان گاڑیوں میںگشت کاعمل یا پھر پولیس اہلکاروں کا ان گاڑیوں کو اس طرز سے استعمال میں لانا از خود دہشت گردوں اور قانون شکنوں کو راہ دکھانے کے مترادف ہے ۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کو اس طرح کی حرکت کے مرتکب پولیس اہلکاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لانی چاہیے اور اس امر کا امکان معدوم کرنا چاہیے کہ کوئی بھی ان کی نقالی کر کے با آسانی واردات کر کے فرار ہو سکے گا ۔

اداریہ