Daily Mashriq


نمبر ون وزیراعلیٰ

نمبر ون وزیراعلیٰ

اپنے خان صاحب کہتے ہیں پرویزخٹک نمبر ون وزیراعلیٰ ہیں، پرویز خٹک نے کھیل کے میدان بنائے ہیں،تعلیم اور صحت کا سب سے بہترین نظام خیبر پختونخوا میں ہے۔ ہمارے پاس خان صاحب کے اس دعوے کو ماننے کے سوا کوئی چارہ نہیں، کیونکہ وہ غلط بات کرتے نہیں ،پورے صوبہ خیبرپختونخوا میں تعلیم کا نظام بہترین ہے یا نہیں اس کو ہم آج ایک طرف رکھ کر صرف ایک ضلع کے چار سکول سامنے رکھ کر بات کرتے ہیں۔ چونکہ پرویزخٹک وزیراعلیٰ ہیںتو اس نسبت سے ان کے اپنے حلقے اور ضلع نوشہرہ میں تعلیمی نظام نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کیلئے ماڈل ہوناچاہیئے، اس لیے ہم اس کالم میں صرف دو حلقوں پر توجہ مرکوز رکھ کر اس بہترین تعلیمی نظام کا جائزہ لیتے ہیں۔ پی کے تیرہ نوشہرہ کا وہ حلقہ ہے جہاں کے عوام نے پرویزخٹک کو منتخب کرکے وزارت اعلیٰ کی مسند تک پہنچایا ہے۔ اس حلقے کی یونین کونسل اکبر پورہ میں گورنمنٹ گرلز پرائمری ا سکول ذخی مینا گزشتہ تین برسوں سے بند ہے۔ پی ٹی آئی ہی کے دور حکومت میں زلزلے سے متاثرہ اس سکول کی بحالی کے لیے بہترین وزیراعلیٰ نے تاحال کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ بہترین وزیراعلیٰ نے تیس سال سے قائم اس سکول کو اپ گریڈ کرنے کی کوشش کی نہ ہی اس علاقے میں نئے سکول کے قیام کا سوچا۔ اسی یونین کونسل میں قائم گورنمنٹ پرائمری سکول ذخی قبرستان بھی زلزلے سے متاثر ہوا تھا۔ عمارت کی حالت خراب ہے جبکہ متعدد بار اعلیٰ حکام سے رابطے کے باوجود سکول کی سیکو رٹی کے لیے بیرونی دیوار کی اونچائی پر بھی توجہ نہیں دی گئی جس کے سبب طلبا اور اساتذہ عدم تحفظ کا شکار ہیں۔ اکبر پورہ ہی میں واقع ایک اور سکول کا جائزہ لیتے ہیں جو پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی میاں خلیق الرحمان کے حلقہ پی کے بارہ کی حدود میں آتاہے گورنمنٹ ہائیرسیکنڈری سکول میں ایک ہزار سے زائد طلبا زیر تعلیم ہیں۔ سکول کے اساتذہ کے محنتی ہونے کا ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ سال نوے فیصد طلبا نے نمایاں نمبروں سے امتحان میں کامیابی حاصل کی۔

اس سکول کاایک حصہ گزشتہ سال زلزلے میںمنہدم ہوا تھا جس میں کچھ بچے زخمی بھی ہوئے تھے، اپریل دو ہزار سولہ میں وزیراعلیٰ نے تعمیر نو کا افتتاح کیا ، لیکن تاحال تعمیراتی کام کے لیے ایک روپیہ تک جاری نہیں کیاجاسکا۔ کپتان کے'' بہترین نظام تعلیم'' میں حصول تعلیم کے لیے اسی اسی طلبا ایک کمرے میں بیٹھنے پر مجبور ہیں جبکہ گیارہویں اور بارہویں کے طلباء کے لیے کمروں میں جگہ ہی نہیں وہ عمارت کے احاطہ میں بیٹھ کر پڑھتے ہیں۔ یہاں سے منتخب رکن اسمبلی میاں خلیق الرحمان نے اس سکول کے لیے ساڑھے تین برسوں میں ایک بار بھی ایوان میں آواز اٹھانے کی زحمت نہیں کی کیونکہ انہیں بھی شاید اپنے چیئرمین کی طرح اس بات کا زعم ہے کہ صوبے میں تعلیم کا بہترین نظام چل رہا ہے۔

پی کے بارہ کے ایک اور شاندار سکول کا تذکرہ بھی ملا حظہ کیجیے،،، یونین کونسل چوکی ممریز میں گرلزہائرسیکنڈری سکول کے گزشتہ سال کا نتیجہ بہترین نظام تعلیم کے دعوے کی نفی کررہا ہے جس میں تمام طالب علم فیل ہونے کی ہزیمت سے دوچار ہوچکے ہیں ۔ یہاں کے چھ سو سے زائد طلباء کے لیے صرف چھ اساتذہ ہیں،، کیا یہی ہے کپتان کا بہترین نظام تعلیم؟؟؟؟؟

یہ دو حلقوں کی دو یونین کونسلوں میں چار سکولوں کا ذکر ہے۔ قارئین بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اگر صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کے اپنے حلقے کا یہ حال ہو تو پھر دیگر اضلاع کا کیا حال ہوگا؟ ہمارے جیسے خوش فہم یہ نتیجہ بھی نکال سکتے ہیں چونکہ وزیراعلیٰ صرف ایک حلقے کا نہیں بلکہ پورے صوبے کا ہوتا ہے اور ہمارے وزیراعلیٰ دن رات ایک کرکے صوبے کے دیگر اضلاع میں بہترین نظام تعلیم کو رواں دواں رکھنے کے لیے کوشاں ہیں اس لیے انہیں اپنے حلقے کے سکولوں پر توجہ دینے کی فرصت نہیں ملی ۔ہم پی ٹی آئی کی قیادت پر تنقید کرتے ہیں نہ تبدیلی سرکار پر نکتہ چینی ہمارا مقصد مگر پی ٹی آئی کے چیئرمین سے یہ سوال کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ'' آخر وہ کون سی ترقی ہے اور کون سا بہترین نظام تعلیم ہے جو آپ کو تو نظر آتاہے لیکن ہماری گنہگار آنکھیں تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے تھک گئیں، آخر یہ تبدیلی کس بلا کا نام ہے جس کا ذکر آپ ہر پریس کانفرنس اور ہر جلسے میں کرنا نہیں بھولتے۔ کیا واقعی آپ اتنے بے خبرہیں یا جان بوجھ کر سچ سننا اور دیکھنا نہیں چاہتے''۔ کیا پارٹی میں کوئی نہیں جو کپتان کو حقائق سے آگاہ کرے کہ خان صاحب سی ایم ہائوس کے اندر آپ کو جو بریفنگ دی جاتی ہے اس کا حقیقت سے دور تک کوئی تعلق نہیں، کاغذوں میں تو خیبرپختونخوا میں تبدیلی آچکی ہے، آپ کے وزیراعلیٰ بہترین ہیں، صحت اور تعلیم کا نظام بھی تمام صوبوں سے اچھا ہے مگر یہ سب صرف کاغذوں کی حد تک،، اگر حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو اپنے مخلص کارکنوں سے ملیں، ان حلقوں میں جاکر اپنے ووٹرز سے ملیں جہاں سے آپ کے امیدوار ایوانوں تک پہنچ گئے مگر پھر پلٹ کر خبر نہ لی۔ یقینا خیبرپختونخوا حکومت نے اصلاحات پر کام کیا،، کچھ اداروں میں اچھا کام بھی ہوتا ہے ، مگر یہ سب ناکافی ہیں، یہ وہ تبدیلی نہیں جس کے لیے عوام نے پی ٹی آئی کو ووٹ دیا تھا، خان صاحب سی ایم ہائوس میں بریفنگ لینے کے بعد ترقی کا ذکر کرتے ا پ بہت اچھے لگتے ہیں مگر حقائق کچھ اور ہیں، صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی کا دعویٰ کیاجارہا ہے اور وزیراعلیٰ کے اپنے حلقے میں سکولوں کا یہ حال ہے ،ایسے میں آپ کس بنیاد پر اسے بہترین نظام تعلیم قرار دے رہے ہیں؟ وزیراعلیٰ بہترین ہیں یا نہیں، تعلیمی نظام دیگر صوبوں سے اچھا ہے یا کمتر اس کا فیصلہ ہم نہیں عوام کریں گے۔ مگر خان صاحب مت بھولیں کہ خیبر پختونخوا کی یہ تاریخ رہی ہے کہ یہاں کے عوام اگر کسی کو سر پر بٹھادیتے ہیں تو عرش سے فرش تک لانے میں بھی دیر نہیں لگاتے۔ باقی آپ کی مرضی۔

متعلقہ خبریں