پوارپاکستان خسارے میں ؟

پوارپاکستان خسارے میں ؟

امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے پانامہ لیکس پر جاری سپریم کورٹ کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہاکہ پورا پاکستان خسارے میں ہے ماسوائے موجودہ حکمرانوں کے ۔موجودہ حکمرانوں سے ان کی مراد میاں نواز شریف اور ان کاخاندان ہے ۔ سراج الحق خو دوہ سیاسی رہنماہیں کہ جن کے بارے میں یہ بات عام ہے کہ وہ کرپشن سے عاری ہیں اور ان کے خلاف کوئی بھی کسی قسم کی بری بات ریکارڈ پر نہیں ہے یہ بات خو دان کے لیے اور ان کی پارٹی کے لیے خوش گوار احساس ہے ۔اس لیے ان کی کہی ہوئی بات پر یقین کرنے کو جی چاہتا ہے ۔ اس بات کے حوالے سے بس اتنا ہی کہنا ہے کہ یہ بات صرف حکمرانوں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے سیاسی نظام میں بالواسطہ یا بلاواسطہ منسلک تقریباً سبھی لوگ کسی طور بھی خسارے میں نہیں بلکہ انہی کی وجہ سے قوم کو خسارہ ہے اور خسارہ بھی ایسا کہ جسے ٹوٹل لاس کہتے ہیں ۔ پشتوکا ایک مزاحیہ ڈرامہ ٹی وی پر چلتا تھا شاید نام تھا پہ تول پورا۔اس میں ایک سادہ سے خان (شاید اس کردار کانام فیض طلب تھا) کو ایک چالاک دوست سنگ پارس ہر قسط میں کسی نہ کسی بہانے لوٹتا تھا ۔ ایک قسط میں سنگ پارس ،فیض طلب کو رکشے خرید نے پر اکساتا ہے ۔ وہ دو رکشے خرید لیتا ہے ۔ سنگ پارس ان نئے رکشوں کو بیچ کر دو پرانے رکشے خرید کر ان دونوں کو آپس میںٹکراکر فیض طلب کا ٹوٹل لاس کروادیتا ہے ۔ آخر میں فیض طلب اپنی قسمت کو روتا ہے کہ سڑک پر اتنے رکشے دوڑتے ہیں ۔میرے ہی رکشوں نے آپس میں ٹکرانا تھا۔ہمارا سیاسی نظام بھی اسی سنگ پارس جیسا ہے ۔جو عوام کو دیتا کچھ نہیں بس لیتا ہی رہتا ہے ۔ 1947ئسے آج تک ہماری تباہی کا باعث یہی ہمارا سیاسی نظام ہی تو تھا کہ جس کے ہوتے ہوئے ہمارے سارے خوشنما حوالے بدترہوتے چلے گئے کہ متعدد دریاؤں کی سرزمین سستی بجلی کو ترسے ،گیس کے عظیم الشان ذخائر رکھنے والی قوم کے باسیوں کے چولہے ٹھنڈے رہیں ،زرعی ملک میں غذ اکی کمی ہو اور لوگ دودھ کی کھپت کو پورا کرنے کے لیے اس میں ڈٹرجنٹ ملائیں ،جہاں لوگوں کے عقائد سے جذباتی کھیل کھیلا جائے ،جہاں غریب کی زندگی اک عذاب سے کم نہ ہو، کہ جہاں کے حکمران چھینک آنے پر جہازوں میں بیٹھ کربیرون ملک علاج کے لیے چلے جائیں اور وہاں کا غریب اپنی بیمار ماں کو چارپائی پر گھسیٹ گھسیٹ کر ہسپتال پہنچائے مگر راستے ہی میں اس کی ماں اسے یتیم کرجائے،جب اس خوبصورت سرزمین کے شہروں کو عالمی سطح پردنیا کے بدصورت ترین شہر قرار دے دیا جائے ،جہاں کوئی کھیل ، کوئی کھلاڑی اس ملک میں آنا چھوڑ دے ،جہاں قریب المرگ لوگوں کو گورنر بنادیا جائے تو اس قوم کابے شک خسارہ ہی خسارہ ہے ۔سودوزیاں کے اس کھیل میں کسی بھی سیاسی رہنما کو لٹتا پٹتا کسی نے نہیں دیکھا ،اگر کوئی لٹا ہے تو وہ ہے عوام کہ ان کی قسمت میں خسارہ لکھ دیا گیا ہے ۔

اور عوام کا سب سے بڑاخسارہ یہ ہے کہ وہ اپنے لیے کوئی سیاسی سسٹم بنا نہ سکے ۔وہ بس زندہ باد مردہ باد کے پیچھے بھاگتے رہے ۔ سیاسی اصناف پرستی کے مارے ہم عوام مرے ہوئے سیاسی لیڈروں کو زندہ جان لیتے ہیں اور جو زندہ ہیں وہ کارکردگی میں مردوں سے بھی زیادہ ہیں ۔ خیر اور کیا دل دکھائیں آپ کا ایسی مایوسی کی باتیں کرکرکے جناب سراج الحق صاحب کی خسارے والی بات پر خسارے کے موضوع پر کچھ شعر یاد آرہے ہیں سو آپ کے ذوق مطالعہ کے لیے درج کررہا ہوں ۔پڑھیے اور لطف لیجیئے ۔
حساب عمر کا بس اتنا ہی گوشوارہ ہے
تمہیں نکال کردیکھا تو سب خسارہ ہے
ہم ان جیسے نہیں جو سود پر دیتے ہیں نقد جاں
نہ ان جیسے ہیں ہوتا ہے جنہیں صدمہ خسارے کا
سنو کہ اب ہم گلاب دیں گے گلاب لیں گے
محبتوں میں کوئی خسارہ نہیں چلے گا
کاروبار میں اب کے خسارہ اور طرح کا ہے
کام نہیں بڑھتا مزدوری بڑھتی جاتی ہے
کاروبار شوق میں اب تو حالت یہ آ پہنچی ہے
صبح زیاں تحریر کرے تو شام خسارہ لکھتی ہے
لوگ کہتے ہیں کہ اس کھیل میں سر جاتے ہیں
عشق میں اتنا خسارہ ہے تو گھر جاتے ہیں
ہجر میں اتنا خسارہ تو نہیں ہو سکتا
ایک ہی عشق دوبارہ تو نہیں ہو سکتا
انہیں یہ فکر کہ دل کو کہاں چھپا رکھیں
ہمیں یہ شوق کہ دل کا خسارہ کیونکر ہو
وفا کے گوشوارے میں مرا پہلا خسارہ تو
ترے ہی نام پر درج آخری نقصان کرنا ہے
ساری رسوائی زمانے کی گوارا کر کے
زندگی جیتے ہیں کچھ لوگ خسارہ کر کے
تھوڑا سا زندگی کا خسارہ ضرور ہے
پر غم نے دل کا رنگ نکھارا ضرور ہے
بکھرتی ٹوٹتی شب کا ستارہ رکھ لیا میں نے
مرے حصے میں جو آیا خسارہ رکھ لیا میں نے
لہو کی آگ میں جل بجھ گئے بدن تو کھلا
رسائی میں بھی خسارہ ہے نارسائی میں بھی
کھو دئیے ہیں چاند کتنے اک ستارا مانگ کر
مطمئن ہیں کس قدر پھر بھی خسارہ مانگ کر
بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں گوشوارئہ خواب
سو ہم اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں خسارئہ خواب

اداریہ