Daily Mashriq


گورنر سندھ کی خدمت میں

گورنر سندھ کی خدمت میں

ہم سندھ کے نئے گورنر کو زیادہ نہیں جانتے ابھی یہی ایک سال پہلے پرائیویٹ چینلز کے ٹاک شوز میں موجودہ سرکار کی پالیسیوں کی بڑی شدو مد کے ساتھ وضاحتیں کرتے دکھائی دینے لگے۔ پتہ لگا کہ وہ وفاقی حکومت میں نجکاری کے وزیر مشیر یا وزیر مملکت ہیںاب وہ سندھ کے گورنر مقرر ہو چکے ہیں۔ یہ ایک نہایت ہی اہم منصب ہے ۔ ہم اُ ن کی کامیابی کے لئے نیک خواہشات کا اظہار ہی کر سکتے ہیں بس عدالت کے باہر پانامہ کیس میں حکومت کا نقطہ نظرپیش کرنے والے ایک نہایت ہی vocal نمائندے کی بڑی شدت سے کمی محسوس ہوگی۔ ہمیں یہ تمہید باندھنے کی وجہ اس لئے پیش آئی کہ ہمارے دوست نعیم فاروق جو کراچی میں رہتے ہیں سند ھ کے نئے گورنر کے نام ایک مراسلہ روانہ کیا ہے ہمیں بھی انہوں نے اُسکی ایک نقل عنایت کی ہے چونکہ یہ مراسلہ نہایت ہی درد مندی سے لکھا گیا ہے ، اور اُس میں عوامی بہبود کے کچھ نکات بھی شامل ہیں چنانچہ ہم اُن کی اجازت سے اس مراسلے کا کچھ حصہ اپنے قارئین کی خدمت میں پیش کررہے ہیں ۔ نعیم صادق نے سندھ کے نئے گورنر کو اُن کی نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے اور یہ تو قع ظاہر کی ہے کہ گورنر ہائوس میں نہ تو اُن کا قیام ریکارڈ توڑ عرصہ پر محیط ہوگا اور نہ اتنا مختصر ہوگا کہ حلف برداری کے بعد خدا نخواستہ انہیں ایک حکم بھی جاری کرنے کا موقع نہ ملے اور نہ ایک دن کے لئے بقائمی ہوش حواس 32 ایکڑ پر پھیلے ہوئے گورنر ہائوس میں قیام نصیب ہو ۔ ہمیں ایسا یاد پڑتا ہے کہ سابقہ گورنر جو اب ہم میں نہیں رہے گورنر کا حلف اُٹھا نے کے بعد حسب روایت ناسازی طبیعت کی وجہ سے مزار قائد پر حاضری کے لئے گئے بھی تھے یانہیں زیر نظر مراسلے میںگورنر کو یاد دلایا گیا ہے کہ جب آپ 32ایکڑ کے وسیع و عریض گورنر ہائو س میں قدم رنجا فرمائیں تو یہ بات ضرور ذہن میں رکھیں کہ کراچی کے اسی فیصد عوام کو رہائش کے لئے 120مربع گز کا مکان بھی میسر نہیں چنانچہ آپ سے یہی استدعا کی جاسکتی ہے کہ گورنر ہائو س میں قیام کے دوران آپ کو یہ حقیقت بھی سامنے رکھنی چاہیے کہ آپ کے زیر دسترس اس عظیم رہائش گاہ میں کراچی کے 1066اوسط خاندان کے لوگ رہ سکتے ہیں حلف برداری کی تقریب کے بعد جیسے کہ دستو ر ہے آپ مزار قائد پر فاتحہ خوانی کے لئے بھی تشریف لے جائینگے با لیقین اس مو قع پر آپ موٹر وھیکل ایکٹ کے تحت کسی بھی غیر رجسٹر ڈ گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دینگے یا ایسی گاڑی جس پر ٹیکس ادا نہ کیا گیا ہو ۔ 

ہم یہ بھی توقع رکھتے ہیں کہ آپ پروٹوکول کی ایک درجن سے زیادہ گاڑیاں بھی اپنے جلوس لے جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرینگے ۔ مزار قائد سے واپسی پر آپ یہ بھی جاننا پسند فرمائینگے کہ گورنر ہائوس میں 44عددبیش قیمت لیموزین کی ضرورت کیوں پیش آئی ، آپ ایک مضبوط مالی پس منظر رکھنے والے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ،چنانچہ آپ اپنی پہلی فرصت میں گورنر ہائوس سے 44عدد گاڑیوں کا بوجھ اتار نے میں ایک لمحے کی دیر بھی نہیںلگائیں گے ۔ یا در ہے کہ مراسلہ نگار نے گورنر کے نام پر اپنے اس مراسلے کے ساتھ ان تمام چمکتی دمکتی گاڑیوں کی تصویر بھی روانہ کی ہے اور کہا ہے کہ اپنی ضرورت کے لئے دو ایک گاڑیاں رکھنے کے بعد باقی سب کو فروخت کر کے اُسکی رقم سندھ میں تعلیم سے محروم بچوں کے سکولوں کی تعمیر کے لئے وقف کردیں تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ کم و بیش ان اوقات میں آپ کو نئے منصب پر مبارکباد پیش کرنے کیلئے معزز (Luminaries)کی آمد ورفت شروع ہو چکی ہوگی ۔ آپ سے استد عا ہے کہ سٹنڈ فورڈ کے تعلیم یافتہ وزیر اعلیٰ کو ملاقات میں یہ ضرورت بتا ئے کہ ایکسائز اینڈٹیکسیشن کے ریکارڈ کے مطابق صوبہ سندھ کے مختلف سرکاری محکموں میں زیر استعمال 20986گاڑیوں میں سے 8693پر گزشتہ دس سالوں میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کیا گیا ، 5348سرکاری گاڑیوں پر تو گزشتہ 20سال میں ٹیکس کے بقایاجات واجب الادا ہیں۔ سندھ کے فعال اور اعلیٰ تعلیم یافتہ جوانسال وزیراعلیٰ اس ضمن میں کارروائی کا وعدہ کرلیں تو اُن کے کان میں آہستہ سے یہ بھی بتا دیجئے کہ سخاوت کا یہ عمل اگر اپنے گھر سے شروع کر دیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا کیونکہ چیف منسٹر ہائوس میں زیر استعمال 36گاڑیوں میں 20ایسی موجود ہیں جن پر گزشتہ دس سال سے کوئی ٹیکس ادانہیں کیا گیا ۔ موٹر وھیکل ٹیکس کی ادائیگی تمام سرکاری محکموں کی گاڑیوں کی رجسٹر یشن اور پھر اُ ن کی تفصیلات E&T websiteپر نمایاں کرنا ایک قانونی ضرورت ہے کیونکہ پرائیویٹ گاڑیوں کے لئے بھی یہی طریقہ کا ر اختیار کیا جاتا ہے ۔ آپ کو یہ پوچھنے کا بھی حق حاصل ہے کہ سندھ سرکار نے اب تک اس ضمن میں ضروری اقدامات کیوں نہیں کیے یا پھر اس سے انکا ر کیوں کیا ہے ۔ ظاہر ہے سرکار ہمیشہ سے قانون کی پاسداری چاہتی ہے ۔ کیا اس حکومت کو عوام سے قانون کی پابند ی کے لئے کہنے کا کوئی جواز موجود ہے ۔

متعلقہ خبریں