ضرب قلم اور ''داستان حیات ''

ضرب قلم اور ''داستان حیات ''

معلوم نہیں یہ گزشتہ ماہ کی 5تاریخ کواسلام آباد میں چار روزہ عالمی ادبی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خطاب کااثر ہے یا کچھ اور ، جب وزیر اعظم نے ضرب عضب کی ''کامیابی '' کے تناظر میں اندرون ملک وبیرون ملک سے اسلام آباد میں جمع ہونے والے اہل قلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ضرب قلم کی ضرورت ہے کہ تقریباً ایک ماہ کے بعد ہی وزیر اعظم نواز شریف کی زندگی پر مبنی کتاب ''داستان حیات ' ' سامنے آئی اور حکومت پنجاب نے اس حوالے سے ایک حکمنا نہ بھی جاری کر دیا ہے کہ محولہ کتاب کو صوبے (پنجاب ) کی تمام پبلک لائبریر یز میں رکھا جائے ،حکومت پنجاب کے اس اقدام پر گزشتہ روز سے مختلف ٹی وی چینلز پر مختلف ٹاک شوز میں تبصرے کئے جارہے ہیں اور دبے الفاظ میں اس فیصلے کا مذاق اڑانے کی کیفیت دکھائی دے رہی ہے ، حالانکہ کتاب پڑھے بغیر اس پر تبصرہ سمجھ سے بالا تر ہے ۔ باوجود اس بات کے کہ اس فیصلے سے اور کسی کو فائدہ ہوا ہو یا نہیں کم از کم کتاب لکھنے اور چھاپنے والے کی جیبیں ضرور بھر جائیں گی ۔ کیونکہ ایک تو جن محکموں کو اپنے زیر اثر قائم لائبر یر یوں کیلئے یہ کتاب خریدنی ہے ا ن کی تعداد سب سے بڑے صوبے کے حوالے سے اگر لاکھ سوا لاکھ نہ بھی ہو تو ایک محتاط اندازے کے مطابق کم از کم اسی نوے ہزار تو بنتی ہی ہوگی اور عام طور پر ایسی لائبر یر یوں کیلئے اس قسم کی سفارشی کتابوں کی دو دو تین تین کاپیاں خریدی جاتی ہیں ، یوں دیکھا جائے تو کتاب لاکھوں میں چھپے گی اور لکھنے والے کورا ئیلٹی کی مد میں بھی لاکھوں روپے ملیں گے یوں وہ راتوں رات امیر ہو جائے گا اور اگر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار والے مقولے کے تحت کہیں ہائی سکولوں کی لائبر یریوں کیلئے بھی کتا ب کی منظوری دینے میں متعلقہ ڈائر یکٹرز سکولز نے بھی اپنا اپنا حصہ ڈال دیا تو پھر پبلشر اور مولف کے پو بارہ ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے ، سمجھو نئے ماڈل کی گاڑیاں تو آئیں کہ آئیں ۔اس کتاب کا آگے حشر کیا ہو سکتا ہے اس حوالے سے ہمیںماضی میں جھانکنا ہوگا ، پاکستان کے پہلے آمر فیلڈ مارشل ایوب خان نے ایک کتاب لکھی تھی ، اگر چہ اصل تحریر کسی اور کی تھی (غالباً الطاف گوہر کی ) تاہم اسے انگریزی زبان میں Friends-not Mastersاور اردو میں ''پرواز میں کوتاہی ''کے نام سے چھاپا گیا تھا ۔ سرکاری اخبارات اور پی ٹی وی کے علاوہ ریڈیوپاکستان کے توسط سے اس کی بڑی تعریفیں کی جاتی تھیں اور انگریز ی ایڈیشن کی بیرون ملک سفارتخانوں کے ذریعے بھی تقسیم کا بڑا بھر پور اہتمام کیا گیا تھا مگر جب ایوب خان اقتدار سے محروم ہوگئے تو پھر یہی کتاب لاہور کی انارکلی بازار کے باہر فٹ پاتھ پر سجی کتابوں کے ڈھیروں پر دس دس روپے میں فروخت ہوتے دیکھی گئی ۔ اسی طرح اقتدار کے ایوانوں میں موجود جس حکمران کے نام سے بھی کتاب چھپی ، ابتداء میں اس کتاب کوہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اخبارات میں قسط وار چھپوانے کا اہتمام بھی کیا گیا ، اگر کتاب بنیادی طور پر انگریز ی زبان میں تھی تو اس کے اردوتراجم کا اہتمام بھی کیا گیا اور اردواخبارات نے بھی ان تراجم کو بڑے طمطراق سے چھا پ کر صاحبان اقتدار کے ساتھ ''یکجہتی '' کا مظاہرہ کیا ، لیکن پھر یہ کتاب بھی لوگوں کے ذہن سے یوں محو ہوگئی جیسے کبھی چھپی ہی نہ تھی۔ ایسی کتابوں میںجنرل مشر ف کی لکھی ہوئی کتاب (یہ کتاب ایوب خان کے نام سے لکھی جانے والی کتاب کے اصل مصنف الطاف گوہر کے صاحبزادے کے کھاتے میں ڈالی جاتی ہے )In The line of fire بھی شامل ہے ، جس کا جنرل صاحب موصوف کے ایوان صدر میں موجودگی تک بڑا چرچا رہا ۔ مگر اس کے بعد اس کے بعض اقتبا سات خود جنرل مشرف کی جڑوں میں پانی دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ اقتباسات پاکستانی باشندوں کو پکڑ پکڑ کر امریکہ کے حوالے کرنے کے حوالے سے ہیں اور ان کے سیاسی مخالفین انہی اقتباسات کے حوالے سے ان پر شدید اعتراضات کرتے رہتے ہیں ۔ اتنی بات البتہ ہے کہ اس کتاب کو چونکہ آکسفورڑ پریس نے شائع کیا ہے اس لئے جنرل صاحب کو اچھی خاصی رائیلٹی ملی جس نے انہیں نہال کر دیا تھا ۔ جن سیاسی رہنمائو ں کی کتابیں نہ صرف ہاتھو ں ہاتھ لی جاتی رہی ہیں بلکہ ان کتابوں میں سے اکثرا ب باقاعدگی سے شائع ہوتی رہتی ہیں کہ ان کی مانگ اب بھی کسی نہ کسی حد تک رہتی ہے ، ان میں مرحوم ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی صاحبزادی بے نظیر بھٹو شہید خاص طور پر قابل ذکر ہیں ، بھٹو نے خارجہ تعلقات کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ہے جبکہ ان کی کتاب '' آگر مجھے قتل کیا گیا '' تو اس وقت بھی ہاٹ کیک کی طرح بک گئی تھی اور اس کی اہمیت اب بھی اسی طرح ہے ، اسی طرح شہید بے نظیر بھٹو کی تحریر یں بھی عالمی سیاسی حالات پر بہت ہی کمال تبصرہ کے طور پر جانی مانی جاتی ہیں ۔ ان کے علاوہ ایک بہت ہی اہم کتاب خان عبد الولی خان مرحوم کی کتاب ''حقائق ،حقائق ہیں '' کے نام سے چھپ کر آئی تو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہلچل مچاگئی ، انہوں نے اپنی کتاب کیلئے لندن کی اس لائبریری میں عرصے تک ریسرچ جاری رکھی تھی جہاں انگریز وں کے دور اقتدار میں ہندوستان کے اندر تمام سرکاری ریکارڈ موجود ہے اور تمام تر خفیہ دستاویزات انڈیا آفس لائبریری کا حصہ ہیں ۔ بہر حال یہ تو تذکرہ چند کتابوں کا ،جن کی اہمیت اور افادیت ان کے انجام سے جانی جا سکتی ہے رہی ''داستان حیات '' تو اس کے مستقبل کے لئے بھی کچھ انتظار کرنا پڑے گا ۔ خاص طور پر میاں نواز شریف بھی اقتدار میں نہ رہے تو پھر اس کتاب کو اگر کسی طرح پسند یدگی کی سند عطا ہوئی تو یقینا یہ کتاب زندہ جاوید کتابوں میں شمار کی جائے گی ۔ وگرنہ انار کلی بازار کے فٹ پاتھ تو کہیں نہیں گئے ۔

اداریہ