زندگی میں رابطے اور ضابطے کی اہمیت!

زندگی میں رابطے اور ضابطے کی اہمیت!

آپ چند دوستوں کے ہمراہ گاڑی میں سوارہوتے ہیں،کنڈیکٹر آپ سے کرایہ مانگتاہے۔آپ سب دوستوں کی طرف سے کرایہ اداکردیتے ہیں۔بعد میں آپ دوستوں سے ان کے حصے کا کرایہ لینے سے شرماتے ہیں۔لیکن دوسری طرف دل باربار آپ کوجھنجھوڑتا ہے کہ اتنی شوخی دکھانے کی کیا ضرورت تھی،اب خرچ کیے گئے پیسے واپس کیوں نہیں لیتے۔سوچیے!!!اس وقت آدمی کس طرح کے خیالات اور وساوس میں کھویا رہتاہے؟

روزمرہ زندگی میں ہم میں سے ہرکسی کو اس طرح کے واقعات سے گزرنا پڑتا ہے،کبھی ایک ساتھ سفر کرنا،کبھی دوستوں کے ساتھ مل کرہوٹلنگ کرنا،کبھی شاپنگ کے لیے اکٹھے نکلنا،تقریباًاکثر لوگوں کو ان حالات سے واسطہ پڑتارہتاہے۔دیکھاجائے توپیسہ کسی کا دوست نہیں ہوتا،امیر ہو یاغریب ہر کسی کو جیب سے نکلے ہوئے پیسے کا احساس ہوتاہے۔یہ الگ بات ہے کہ کسی کا دل حاتم طائی جیساہوتا ہے تو کوئی اشعب طامع جیساحریص ہوتاہے۔بہرحال ہر انسان کو پیسے کے خرچ کا احساس ضرور ہوتاہے۔ انسان اپنی ذات کے علاوہ دوسروں پر خرچ کیے گئے مال پر ضرور سوچتاہے۔یہ سوچ انسان کے تعلق کی بنا پر مختلف ہوتی ہے۔اگر اس نے خوش دلی سے دوستوں پر پیسہ خرچ کیا ہوتو وہ کبھی خرچ کیے ہوئے مال کو خاطر میں نہیں لاتا،اور اگر مجبوری یا شوخی میں حاتم طائی کی قبر پر لات مارے تو ضرور دوستوں کے بارے میں طرح طرح کے خیالات کا شکار ہوتاہے۔ اس لیے کہ زندگی کو پرسکون بنانے اور خواہ مخواہ بدگمانی کے گناہ سے بچنے کے لیے ضابطے کے مطابق عمل کرنا چاہییے۔رابطے سے مجبور ہوکر خود کو پریشان نہیں کرناچاہیئے۔ضابطہ اگر کہتا ہے اکٹھے سفر کرنے والے تمام دوست برابر کرایہ دیں،یا ایک ساتھ مل کرکھانا کھانے والے برابر پیمنٹ کریں،تو ضرور اس ضابطہ پر عمل کرنا چاہییے،رابطہ میں رہ کر دوسروں کی خوشامد کی خاطر خود کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہیے ''خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو''کا قرآنی فلسفہ یہی حکم دیتا ہے۔یہی عادت دوسروں کی مدد اور اپنی ضروریات کے وقت اپنانی چاہئے۔کئی بار دیکھا گیا کہ انسان دوسروں کی مدد کی خاطر خود کو مشقت میں ڈال لیتاہے۔اپنے پاس کھانے یا ضروریات کے پیسے نہیں ہوتے،لیکن شرماشرمی میں اور دوسرے کے سامنے عزت رکھنے کے لیے قرض خواہ کو انکار نہیں کرتا اور اسے قرض دے دیتا ہے۔بعد میں اپنے لیے دوسروں سے قرضہ مانگناپڑتاہے۔خود داری اور عزت واقعی محترم شے ہے۔لیکن اس کے لیے خود کو خواہ مخواہ میں پریشان کرنا عقلمندی ہے،نہ دانش مندی ۔ہمارے معاشرے میں عام طور پرشادیوں کے مواقع پر لوگوں کو خواہ مخواہ پریشان ہوتا دیکھا گیاہے۔شادی بیا ہ میں بے جا او رفضول اخراجات کی خاطر لاکھوںروپے قرضے اٹھائے جاتے ہیں،اپنی جائیدادوں کو فروخت کیا جاتاہے،سود پر قرضے تک لیے جاتے ہیں۔لیکن اتنا کچھ کرنے کے باوجود بہت سے لوگ شادی میں اعتراض کرتے پائے جاتے ہیں۔اس لیے اسلام کافلسفہ یہی ہے کہ فضول خرچی نہ کرو،دکھاوے کے لیے کوئی کام نہ کرو،ہر کام کے وقت نیت اچھی رکھو۔آج ہمارے ہاں شادی بیاہ اور دیگر معاملات اس لیے مشکل ہوگئے کہ ہم نے اسلام کوصرف نماز،روزے تک محدود کرلیا۔زندگی کے عام معاملات میں اسلام کو بالکل ترک کردیا۔حالانکہ اسلام عبادات سے زیادہ معاملات پر زوردیتاہے۔ معاملات بھی عبادات کی ایک قسم ہیں۔معاملات میں تجارتی معاملات انتہائی اہم ہیں۔جس پرنہ صرف انسان کی زندگی کا دارومدار ہے،بلکہ عبادات کی قبولیت میں تجارتی معاملات کو اہم دخل ہے۔علماء کرام نے دعاؤں کی قبولیت میں رزق ِحلال کو شرط بتایاہے۔لیکن آج مسلمانوں نے تجارت کو یاتواتنی اہمیت نہیں دی یادی ہے تو حلال وحرام کے فرق کو مٹاکررکھ دیاہے۔دنیا کے بڑے تاجروںمیں یہودی سرفہرست ہیں۔ یہی چندلاکھ یہودی دنیا کی سیاست اور معیشت پر غالب ہیں۔مکہ اور مدینہ جہاں سے رسول اللہۖ نے یہودیوں کو نکال دیا تھا،آج وہاں ان کے بڑے بڑے ہوٹلز اورتجارتی مراکز ہیں۔اس کی بنیادی وجہ یہودیوں کا تجارت کو ایمان سے زیادہ درجہ دینا اور اس میں جان سے بڑھ کر محنت کرنا ہے۔ہمارے ہاں اولاً تجارت کو اہمیت نہیں دی جاتی اگر دی جاتی ہے تو ایک دوسرے کو دھوکہ دینے،ملاوٹ کرنے یا حسد ایسی بیماریوں کے ذریعے ایک دوسرے کو نیچادکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔نتیجتاً مسلمان اس پائے کے تاجر نہیں بن پاتے، جس سے بین الاقوامی معیشت پر اثرانداز ہوسکیں یا وہاں اپنا نام کماسکیں۔اس لیے سب سے پہلے ہمیں اپنے معاملات کو درست کرنا ہوگا۔ اخلاقی طور پر خود کو سنوارنا ہوگا۔رابطے اور ضابطے کے تحت ایک دوسرے کے ساتھ معاملات طے کرنے ہوں گے۔ضرورت مندوں کی مدد بھی کرنا ہوگی،لیکن ساتھ میں اپنا خیال بھی رکھنا ہوگا۔محض اپنی عزت یاناک اونچی رکھنے کی غرض سے خود کو بے جاپریشان کرنے سے بچانا ہوگا۔اس سے نہ صرف زندگی پرسکون ہوجائی گی،بلکہ معاشرے میں باہمی احترام کی روش بھی عام ہوگی۔اس سلسلے میں علماء کرام کو منبرومحراب سے معاملات پر وعظ ونصیحت کو عام کرنا ہوگا۔حلال تجارت کے لیے لوگوں کو تیار کرنا ہوگا۔ اخلاقی اور معاشرتی اقدار سنوارنے کے لیے لوگوں میں بھرپور محنت کرنا ہوگی۔سچی بات یہ ہے کہ علماء کرام ہی لوگوں کو اچھے تاجر اور غالب مسلمان بناسکتے ہیں۔

اداریہ