Daily Mashriq


ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

ہم بھی تو پڑے ہیں راہوں میں

خیبر پختونخوا حکومت نے الیکشن سے قبل سرکاری افسروں کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے آٹھ سو کے قریب انتظامی عہدوں پر فائز افراد کو تو نواز دیا ہے مگر دوسری جانب سرکاری محکموں کے مختلف مدارج کے ملازمین کو نظر انداز کیاگیا ہے۔ ان ملازمین میں سروس سٹرکچر کا مطالبہ کرنے اور اپ گریڈیشن کرنیوالے سرکاری ملازمین کی بڑی تعداد خاص طور پر اپنے مطالبات کے حل کے منتظر ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین خواہ وہ صوبوں میں حکمران ہوں خواہ وہ قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوں یا سینیٹ میں، کیوں اس بات کے قائل ہیں کہ ملک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے سے نچلے اور درمیانے طبقے کی مالی مشکلات حل ہو جائیں گی لیکن بائیس کروڑ کی آبادی میں غیر سرکاری اداروں کے ملازمین کی تعداد سرکاری ملازمین کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے جن کی تنخواہیں نہیں بڑھیں۔ پھر متوسط اور غریب طبقات میں خود روزگار' محنت کش لوگ بھی آتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو تو چلئے کچھ ریلیف مل جاتا ہے لیکن پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کیلئے تو مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین اور خودروزگار اور محنت کش بھی تو آخر پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کی تعداد سرکاری ملازمین سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کے بارے میں کو ن سوچے گا۔ صوبائی حکومت کی جانب سے کم ازکم اجرت کی ادائیگی یقینی بنانے کیلئے بنکوں کے ذریعے تنخواہوں کی ادائیگی کو یقینی بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا مگر اس کے نتیجہ خیز ہونے سے قبل ہی یہ مہم سرد پڑ چکی ہے دوسری جانب پنشنرز حضرات کے مسائل کی طرف توجہ نہیں دی جا رہی ہے جو ضعیف العمری کے باعث کسی کام کے قابل نہیں رہے اور ساری زندگی سرکار کی خدمت کرنیوالے اب سرکار سے انصاف کی راہ تک رہے ہیں ان سے بھی زیادہ مشکلات کا شکار وہ لوگ ہیں جن کو سرکاری نوکری میسر نہ آسکی اور نہ ہی کسی ادارے سے ان کو پنشن ملتی ہے جن نجی اداروں کے ملازمین کی ای او بی آئی میں رجسٹریشن تھی ان کو بھی ملنے والی ماہانہ رقم نہ ہونے کے برابر ہے، اب تو یہ ادارہ وفاق اور صوبوں کے درمیان لٹک کر رہ گیا ہے جس کے باعث آٹے میں نمک کے برابر پنشن میں اضافہ کا کوئی امکان باقی نہیں، اس صورتحال میں صوبائی حکومت کا انتظامی افسروں کو نوازنا کوئی انصاف نہیں، انصاف کا تقاضا تو یہ تھا کہ سرکاری ملازمین سمیت عوام کے تمام طبقات کی دلجوئی کی جاتی اگر ایسا ممکن نہ تھا تو کم ازکم صوبائی حکومت مہنگائی میں کمی اور اس کی روک تھام ہی پر توجہ دیتی تو عوام کی آس نہ ٹوٹتی۔

متعلقہ خبریں