Daily Mashriq


جذبات پر قابو پانے اور صبر و حوصلہ سے کام لینے کی ضرورت

جذبات پر قابو پانے اور صبر و حوصلہ سے کام لینے کی ضرورت

وطن عزیز میں حکومت اور اداروں کے درمیان کشیدگی کا جو باب بند ہوتا دکھائی دے رہا ہے وہ ایک مرتبہ پھر سیاسی عمائدین اور حکومت میں شامل بعض عناصر کی شعلہ بیانیوں کے باعث نئی صورت میں سامنے آیا ہے۔ سابق سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کے بعد ہونے والی سزا سے ایک ایسا سلسلہ چل نکلا ہے جو نئے تضادات اور کشیدہ صورتحال کا باعث بن رہا ہے۔ عدلیہ پر تنقید اور عدلیہ کو للکارنے طنز و تشنیع کا شکار بنانے کی ہر سعی سے ملکی عدالتوں کی بے توقیری کا باعث ہونا فطری امر ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس امر کا تعین کر لیاگیا ہے کہ زیادہ سے زیادہ افراد ایسے عمل کے مرتکب ہوں جن کا نوٹس لینا ضروری ہو اور ملک میں عدلیہ کے معزز ججوں کے بارے میں ایک مخالفانہ رائے ہموار ہو۔ ہمارے تئیں زیادہ سے زیادہ صرف اسی امر کی گنجائش ہونی چاہئے کہ کسی عدالتی فیصلے پر ماہرین قانون اس کے قانونی پہلوئوں کو نظر انداز کرنے اور فیصلے کا تشنہ رہ جانے ہی کو موضوع بحث بنائیں جس کا مقصد توہین نہیں بلکہ نظر انداز شدہ امور کی نشاندہی ہو۔ تضادات پیدا کرنے پر مبنی صورتحال پیدا کرنے کی ہر گز حمایت نہیں کی جاسکتی۔ ہمارے تئیں تنقید نیک نیتی کے ساتھ ہونی چاہئے ایسی تنقید اصلاح کا راستہ دکھاتی ہے مگر جس تنقید کی بنیاد عناد اور غصہ ہو اس سے تضادات کا جنم لینا فطری امر ہوتا ہے۔ تنقید کھلے دل سے اور مدلل ہونی چاہئے۔ ایسی تنقید جس میں الزام تراشی نظر نہ آئے بلکہ مسلمہ ہو۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے بحث میں کوئی قباحت نہیں لیکن اس معاملے پر اس طرح کی بحث مناسب نہیں جس سے تضادات جنم لینے لگیں۔ ریاست وحکومت حکمرانوں سے لے کرعدلیہ تک اور سرکاری مشینری سے وابستہ تمام جزوکل کا نام ہے جس میں تفریق کی گنجائش نہیں۔دستور پاکستان کے تحت جس جس کو جو جو ذمہ داریاں حوالے ہوں اس کی ادائیگی اور اطاعت لازم ہے ۔عدلیہ کا اپنا اور فوج کا اپنا بنیادی کردار ہے۔ پارلیمنٹ وحکومت کی اپنی ذمہ داریاں ہیں بیوروکریسی اور سرکاری مشینری کے بھی کردار وعمل کا تعین موجود ہے ۔اصلاح عمل کے لئے حق گوئی کے وقت اپنی اپنی جگہ ہر ناقد کو اس امر کاجائزہ لینا ہوگا کہ معاملات میں بگاڑکا باعث کیا ہے۔ ملک میں انصاف ہو رہا ہے' انصاف مل رہا ہے اور انصاف کے تقاضے بلا امتیاز پورے کئے جا رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں ان معاملات پر سر عام رائے زنی اور بحث کی گنجائش ہے مگر بعض حلقوں کا وقار اور عہدہ اس امر کا متقاضی ہوتا ہے کہ نہ ان پر آزادی کے ساتھ انگشت نمائی کی جاسکتی ہے اور نہ ہی ان سے کھلے عام غیر محتاط طرز عمل کی توقع کی جاسکتی ہے۔ فوج اور عدلیہ دو ایسے ادارے ہیں جن کا احترام و کردار مسلمہ ہے ان کے حوالے سے محتاط اور ادب' ملحوظ خاطر رکھنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے معاملات پر درون خانہ بحث ومباحثہ اور اصلاح احوال کی سعی ضرورہونی چاہئے مگر عوامی سطح پر تضادات کا ذریعہ بنانے سے گریز کیاجائے۔ جس ملک کے بارے میںیہ عام تاثر پایاجائے کہ وہاں فیصلے آئین کے مطابق نہیں ہوتے وہاں مزید احتیاط کی ضرورت ہے ۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ وقت بحث میں صرف کرنے کا نہیںبلکہ نظام انصاف کو سہل بنانے اور بدعنوانی کی روک تھام سمیت جملہ شعبوں میں تطہیر پرمزید توجہ کی ضرورت ہے۔ معاملات میں بہتری تبھی ممکن ہے جب گورننس میں بہتری لانے سمیت اصلاح احوال کے مقصد کے لئے پارلیمنٹ ، عدلیہ اور انتظامیہ سمیت تمام ذمہ دار ادارے اپنے اپنے دائرہ عمل میں اپنی اصلاح اور ذمہ داریوں کی انجام دہی کا جائزہ لیں گے اور خود احتسابی کا عمل اپنائیں گے۔ بہتر یہ ہوگا کہ تضادات کی کیفیت پیدا کرنے سے احتراز کر کے کارکردگی اور ذمہ داریوں کی ادائیگی پر توجہ مرکوز کی جائے خامیوں اور مشکلات پر قابو پانے کے لئے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جائے ۔ توقع کی جانی چاہئے کہ جاری بحث کو طول دینے کی بجائے یہیں ختم کیا جائے گا۔ اختلاف رائے اور نکتہ نظر کا فرق کوئی غیر معمولی بات نہیں دنیا میں حکومت اور عدلیہ کے درمیان کشیدگی بھی کوئی انوکھی بات نہیں تاکہ ملک میں جاری ہیجانی کیفیت کاخاتمہ ہو۔ صورتحال کے پیش نظر جہاں جذبات کی رو میں بہہ جانے والوں سے جذبات پر قابو پانے کی گزارش کی جائے وہاں دوسری جانب مزید صبر و استقامت اور در گزر کی پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت کا بھی احساس دلانا ضروری ہے تاکہ جس شدت سے معاملات اٹھ رہے ہیں اس میں کمی آئے اور دھیرے دھیرے صورتحال معمول پر آجائے۔جاری صورتحال اس امر کا متقاضی ہے کہ معاملات اور جذبات پر پانی ڈالا جائے اور لاوا ابلنے کی بجائے اسے ٹھنڈا کرنے پرتوجہ دی جائے۔ تضادات سے نہ تو مسائل حل ہوسکتے ہیں اور نہ ہی ایسا کرکے عزت و احترام اور حمایت سمیٹنے کی کوششیں کامیاب ہوسکتی ہیں۔ ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا اور تضادات کی قیمت پر عزت و احترام کروانا کوئی دانشمندانہ اقدام نہیں کہلایا جاسکتا۔قوم منتظر ہے کہ جتنا جلد ہوسکے یہ باب بند کردیا جائے۔

متعلقہ خبریں