Daily Mashriq


کیا سیاسی گھوڑوں کی منڈی سجنے کو ہے؟

کیا سیاسی گھوڑوں کی منڈی سجنے کو ہے؟

ایک بار پھر ملک میں ہارس ٹریڈنگ کے خدشات سر ابھار رہے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے تھنک ٹینکس سر جوڑ کر اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ سینٹ انتخابات میں کیسے اپنے ممبران کو چمک سے بچا کر ایوان بالا میں اپنی مطلوبہ تعداد کو اگر زیادہ نہیں تو کم از کم برقرار رکھنے میں کامیابی ضرور حاصل کی جائے جبکہ گرگ باراں دیدہ قسم کے سیاسی قائدین اپنی جماعتوں کے لئے زیادہ سے زیادہ نشستیں حاصل کرنے کی حکمت عملی پر غور کر رہے ہیں۔ بعض سیاسی جماعتوں نے اپنے چندامیدواروں کے ناموں کااعلان بھی کردیا ہے جبکہ مزید امیدواروں کے ناموں پر غور جاری ہے اور کاغذات نامزدگی جمع کرانے سے پہلے پہلے ممکنہ امیدواروں کے نام سامنے آسکتے ہیں۔ تحریک انصاف کے سربراہ نے گزشتہ روز ایک بیان میں یہ بات تسلیم کی کہ گزشتہ انتخابات کے موقع پر ٹکٹ غلط دئیے گئے اور اس موقع پر پیسہ بھی چلا تھا۔ اسی طرح پیپلز پارٹی بھی اپنی حکمت عملی ترتیب دے رہی ہے اور خاص طور پر بلوچستان اسمبلی سے اپنے لئے سینیٹرز کی تلاش میں سرگرداں ہے حالانکہ وہاں سے حسب خواہش نمائندگی کے حصول کو اصولی طور پر تجزیہ نگار تقریباً نا ممکنات میں سے قرار دے رہے ہیں۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے لئے یہ انتخابات سیاسی طور پر ''زندگی اور موت '' کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ اگر لیگ (ن) مطلوبہ تعداد میں اپنے ممبران کو منتخب کروانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو پھر آئین میں ترمیم کے ذریعے اپنے سربراہ یعنی میاں نواز شریف کی نا اہلی کو ختم کرانے میں کامیاب ہوسکتی ہے جبکہ دوسری جانب پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی حتیٰ الامکان کوشش ہوگی کہ لیگ کو سینٹ میں اکثریت حاصل کرنے نہ دی جائے تاکہ نا اہلی کی تلوار ہمیشہ کے لئے نواز شریف کے سر پر لٹکتی رہے اور وہ کسی بھی صورت میں سیاست میں دوبارہ کوئی مقام حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ ادھر سیاستدانوں کی نا اہلی کے حوالے سے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی جو سماعت ہو رہی ہے اور گزشتہ روز نواز شریف کے وکیل کو کیس کی تیاری کے لئے تین روز کی مدت دی گئی ہے اس حوالے سے بھی ماہرین قانون و آئین کے مابین نئی بحث چھڑ گئی ہے اور آئین کی متعلقہ شقوں کی تشریح سامنے آرہی ہے اس نے بھی صورتحال کو خاصا الجھا دیا ہے۔ اسی دوران فاضل چیف جسٹس کے کچھ ریمارکس بھی سامنے آچکے ہیں تاہم نتیجہ کیا نکلتاہے اور نواز شریف کے ساتھ ساتھ جہانگیر ترین کی نا اہلی مستقل رہتی ہے' پانچ سال تک محدود کی جاتی ہے یا پھر آنیوالے انتخابات تک ہی محدود رکھ کر انہیں الیکشن لڑنے کی اجازت دی جاتی ہے' اس کا فیصلہ بھی جلد ہی متوقع ہے اور بفرض محال یہ نا اہلی مستقل قرار دی جاتی ہے تو پھر آئین میں ترمیم ہی وہ واحد راستہ رہ جاتا ہے جس کیلئے لیگ (ن) کی سر توڑ کوشش ہوگی کہ وہ سینٹ میں اکثریت حاصل کرے یا اتنی نشستیں ضرور حاصل کرے کہ اپنے حلیفوں کیساتھ مل کر آئین میں مطلوبہ ترمیم لانے میں کامیاب ہوسکے کیونکہ قومی اسمبلی میں اسے اکثریت بھی حاصل ہے اور اس کی حلیف جماعتیں بھی اس کا ساتھ دے سکتی ہیں۔ سپریم کورٹ میں مدت نا اہلی کے حوالے سے نظر ثانی کیس کے حوالے سے آئینی ماہرین' سیاسی تجزیہ نگار بھی زیادہ زور اس بات پر دے رہے ہیں کہ لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی مل کر نا اہلی کے حوالے سے بہت پہلے ہی مدت کا تعین کر لیتیں تو آج بے یقینی کی یہ صورتحال نہ ہوتی ۔ مگر کسی نے اس مسئلے کو اہمیت دینے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی اور اب یہ اختیار سپریم کورٹ کے پاس ہے کہ اگر وہ نا اہلی کی سزا دیتے ہوئے خود ہی مدت کا تعین نہیں کرتی تو نا اہلی تا حیات ہی ہوگی۔ بہر حال اس وقت سینٹ انتخابات پر ہی سب کی نظریں جمی ہوئی ہیں اور بڑی جماعتوں کا مخمصہ انہیں پریشان کئے ہوئے ہے۔ بقول شاعر

الجھا ہے پائوں یار کا زلف دراز میں

لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا

بات شروع ہوئی تھی ہارس ٹریڈنگ سے جو سینٹ کے آنے والے انتخابات میں سر چڑھ کر بول سکتی ہے اس حوالے سے ایک شاعر نے جمہوریت پر کیا خوب طنز کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ

جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں

گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ

ایک زمانہ تھا جب ان ''سیاسی گھوڑوں'' کی منڈی چھانگا مانگا میں لگائی گئی تھی جو اس ضمن میں سب سے بڑی سیاسی منڈی کہلاتی ہے اور جس کے بعد اس قسم کی چھوٹی بڑی منڈیاں ہر انتخابات کے موقعوں پر لگتی رہتی ہیں۔ یہاں تک کہ علاقائی اور گلی محلوں کی سطح پر بھی منڈیاں سج جاتی ہیں یعنی کیا سینٹ' کیا قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی معرکے' اب تو یہ منڈیاں نچلی سطح پر اتر کر بلدیاتی انتخابات تک آپہنچی ہیں اور چونکہ اس وقت سینٹ کے انتخابات کا ہمیں سامنا ہے تو پارٹیوں کے نامزد امیدواروں کیساتھ ساتھ آزاد امیدوار بھی خاصی تعداد میں سامنے آنیوالے ہیں جو ظاہر ہے اپنے لئے ووٹ '' سیاسی منڈی'' سے ہی حاصل کرکے ایوان میں پہنچ سکتے ہیں اور اس وقت ''بازار'' میں کروڑوں کی بولیوں سے آہنگ سنائی دے رہے ہیں۔ کہا یہ بھی جاتا ہے کہ ''ووٹر'' آنیوالے جنرل انتخابات میں دوبارہ امیدوار بنیں گے تو انتخابی اخراجات پورے کرنے کیلئے انہیں بھی تو آخر '' نقد نرائن'' کی ضرورت ہوگی جبکہ نا اہلی کے حوالے سے ممکنہ ترمیم لانے کے حوالے سے لیگ (ن) کو اگر ایک طرف ایم کیو ایم کے تعاون کی ضرورت ہے تو دوسری جانب آزاد امیدواروں کی اہمیت بھی بڑھ جائے گی۔ مجید لاہوری نے مدتوں پہلے کیا خوب کہا تھا

گفتار کا غازی بن بھی چکا

کردار کا غازی بن کے دکھا

دھن دولت سب کنگلوں میں لٹا

جاگیر سے اپنی ہاتھ اٹھا

کہتا ہے قلندر خان میاں

تو اپنی خودی پہچان میاں

متعلقہ خبریں