Daily Mashriq


پختونوں کا پنجابیوں سے شکوہ

پختونوں کا پنجابیوں سے شکوہ

ہمارے اکثر پختون بھائیوں کو وفاقی اور پنجاب پولیس سے یہ شکوہ رہتاہے کہ جب وہ اسلام آباد یا پنجاب جاتے ہیں تو وہاں کی پولیس ان کیساتھ غیر ملکیوں جیسا برتاؤ کرتی ہے ،ان کی تلاشی سے لیکر تذلیل تک کی جاتی ہے ۔شروع شروع میں ہمیں یہ بات بہت عجیب لگی اور پنجاب و وفاقی پولیس کے اس برتاؤ پر غصہ بھی آیا بالخصوص اس وقت جب پختونوں کے ساتھ ان کی فیملیز بھی ہوتیں اور نوبت لڑائی جھگڑے تک پہنچ جاتی۔چند سالوں سے چونکہ ہم بھی مشرق کیساتھ وابستہ ہیں اسلئے پختون روایات کو کسی قدر جاننے کے ہم بھی دعویدار ہیں۔ہم نے اپنے طور پر اس معاملہ پر غور شروع کیا اور آفس جاتے آتے پولیس ناکوں پر جب پختونوں کی رکی ہوئی گاڑیاں دیکھتے اور پولیس کا باہر سے آنیوالے پختونوں کیساتھ برتاؤ کا جائزہ لینے کی کوشش کرتے،ہم نے چند دنوں میں ہی اس اہم مسئلے کا نتیجہ نکال لیا کہ خرابی دونوں طرف موجود ہے اورخرابی بھی ایسی کہ جسے فریقین میں سے کوئی بھی تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ اسے یوں سمجھئے کہ جب کوئی پختون بھائی اسلام آباد یا لاہور جاتاہے تو وہ اپنی خاص وضع قطع سے پہچان لیا جاتاہے ،جو کہ کوئی جرم نہیں ہے کیونکہ اگر کوئی پختون ہے، سندھی ہے،یا بلوچی تو اسے پورے ملک میں جانے کی اجازت ہے اور اکثر لوگوں کی دوسرے صوبوں میں رشتہ داریاں بھی ہیں لیکن جب پولیس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ مقامی نہیں ہیں تو پہلی فرصت میں ان سے گاڑی کے کاغذات اور شناختی کارڈ طلب کیا جاتا ہے، اس دوران ہونا تو یہ چاہئے کہ مطلوبہ چیزیں فراہم کی جائیں، اپنابھی وقت بچایاجائے اور پولیس کا بھی۔ لیکن ہمارے پختون بھائی ایک بات شاید نادانستہ طور پر کہہ جاتے ہیں کہ جب ہم پاکستانی ہیں تو اپنی شناخت کیوں کروائیں اور یہ کہ دوسری گاڑیوں کو آپ لوگ کیوں نہیں روک رہے صرف پشاور سے آنیوالی گاڑیوں کو ہی کیوں روک رہے ہیں؟پولیس کو جب اس طرح کے رد عمل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تووہ برہم ہو جاتے ہیں اور بات گاڑی کی چیکنگ تک آن پہنچتی ہے کیونکہ پولیس شک میں پڑ جاتی ہے اور جو معاملہ چند منٹوں میں ختم ہونے والا ہوتا ہے وہ طوالت اختیار کر جاتا ہے ،دوسری طرف پولیس کا تورویہ بھی دوستانہ کے بجائے تحکمانہ ہوتاہے ،پولیس والے یہ بات بھول جاتے ہیں کہ پشاور یا خیبر پختونخوا کے کسی بھی علاقے سے آنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ کسی دوسرے ملک سے آئے ہیں ایک اہم بات جس کی طرف پولیس کی توجہ کم کم جاتی ہے کہ خیبر پختونخوا سے آنیوالے اکثر لوگ پوری طرح اردو نہیں بول سکتے اس طرح زبان کی ناواقفیت سے انسان کو آدھی بات سمجھ آتی ہے اور آدھی اوپر سے گزر جاتی ہے بالخصوص جب پولیس پوچھ گچھ کر رہی ہو اس دوران ہمارے پختون بھائیوں کے روئیے میں تلخی آنا ایک فطری عمل ہے ،یوں پولیس کی مناسب ٹریننگ نہ ہونے کے باعث دوسرے صوبوں کے لوگوں کو شکوے رہتے ہیں جس کی تان اس بات پر آکر ٹوٹتی ہے کہ پنجاب میں پختونوں کی تذلیل کی جاتی ہے ۔

پختونوں کے ہاں میں نے ایک بات اور بھی نوٹ کی ہے کہ خیبر پختونخوا میں پولیس چوکیوں پر رکنے کا رواج بہت کم ہے، پولیس کو شناختی کارڈ چیک کروانے کا تو تصور بھی نہیں ہے ،ان کے ذہنوں میں ایک بات شدت کیساتھ جا گزیںہو چکی ہے کہ جب انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے تو پھر کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ آپ کی جانچ پڑتال کرے۔ اس کے برعکس اگر ہم پنجاب یا اسلام آباد کاجائزہ لیں تویہ امرکھل کر سامنے آئیگا کہ آپ کو اپنے ہی شہر میں اور ایک ہی دن میں متعددبار شناخت کروانا پڑسکتی ہے اور اعلیٰ افسران سے لیکر عام عوام تک بخوشی چیکنگ کروا رہے ہوتے ہیں اور کوئی اعتراض نہیں کرتا کہ ہم تو یہاں کے ہی رہنے والے ہیں ہم کیوں اپنی شناخت کروائیں۔

ہم سمجھتے ہیں اس نکتہ کو بہت ہی باریک بینی سے سمجھنے کی ضرورت ہے،ہمارے پختون بھائی جب بھی پنجاب یا اسلام آبادجائیں تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وفاق یا پنجاب کی پولیس بھی ہمارے ملک کی ہی پولیس ہے اور پولیس کی طرف سے طلب کی جانے والی چیزیں فراہم کرنے میں اپنی عار نہ سمجھیںبلکہ دیکھیں کہ جب ہم ملک سے باہر امریکہ ،یورپ یا عرب ممالک جاتے ہیں تو وہاں بھی ہمیں اپنی شناخت سے لیکرچیکنگ کے تمام مراحل سے گزرنا پڑتاہے تو اپنے ملک میں ایسا کرنے میں ہچکچاہت کیوں ،اسی طرح پولیس بھی اس بات کاخیال رکھے کہ خیبرپختونخوا سے آنیوالے اول تو مہمان ہیں اور دوسرا یہ کہ وہ اہل لسان نہیں ہیں ،ان کیساتھ حتی الامکان تعاون کیا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ تنازعہ کی نوبت بھی نہیں آئے اور پختونوں کو پنجابیوں سے گلہ بھی نہیں ہو گا۔

چند گزارشات نیک نیتی کیساتھ لکھ دی ہیں،انکا مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ صوبوں کے درمیان ہم آہنگی کی فضا قائم کی جائے ،وہ باتیں جنہیں ہم اپنی انا کا مسئلہ بنا کر لسانیت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں ان غلط فہمیوں کو سمجھنے کی کوشش کی جائے،اگر ہم سمجھنے کی کوشش کریں گے تو معلوم ہوگا کہ ہم خواہ مخوا ہی لڑتے رہے اور قوم کو بتایا جائے کہ وفاق چاروں صوبوںکی اکائی کا نام ہے اگر صوبے نہ ہوں تو وفاق کی اپنی کوئی پہچان نہیں ہے،یہاں یہ بتانا ضروری سمجھتاہوں کہ مجھے پشاور اور خیبر پختونخواکے دیگرشہروں میں جاتے ہوئے ایک عشرہ ہونے کو ہے لیکن مجال ہے کہ کوئی ایک واقعہ بھی ایسا پیش آیا ہو جس سے لگے کہ خیبرپختونخوامیں لوگوں کیساتھ امتیازی سلوک برتا جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں